Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

۵؎ آئمہ حدیث نے جیسے امام احمد،یحیی،ابوزرعہ،نسائی وغیرہ نے علی ابن یزید کو ضعیف فرمایا۔شیخ نے اشعہ اللمعات میں فرمایا کہ حرمت غنا یعنی گانے بجانے کی حرمت میں کی احادیث ضعیف ہیں اس بارے میں کوئی حدیث صحیح نہیں ملی۔فقیر کہتا ہے کہ اگر اس بارے میں کوئی حدیث صحیح نہ ملے جب بھی قرآن کریم کی آیت کافی ہے،نیز احادیث ضعیفہ متعدد ہو کر حسن بن جاتی ہے۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

2781 -[23]

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «طَلَبُ كَسْبِ الْحَلَالِ فَرِيضَةٌ بَعْدَ الْفَرِيضَةِ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شعب الْإِيمَان

روایت ہے حضرت عبداﷲ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے حلال کمائی کی تلاش ۱؎ ایک فرض کے بعد دوسرا فرض ہے ۲؎(بیہقی شعب الایمان)

۱؎ کسب بمعنی مکتسب ہے یعنی پیشہ اور حلال کا مقابل بھی ہے اور مشتبہات کا بھی کیونکہ حرام کمائی کی تلاش حرام ہے اور مشتبہ کی مکروہ۔(مرقات)تلاش سے مراد جستجو کرنا اور حاصل کرنا ہے۔

 ۲؎ یعنی عبادات فرضیہ کے بعد یہ فرض ہے کہ اس پر بہت سے فرائض موقوف ہیں۔خیال رہے کہ یہ حکم سب کے لیے نہیں صرف ان کے لیے ہے جن کا خرچ دوسروں کے ذمہ نہ ہو بلکہ اپنے ذمہ ہو اور اس کے پاس مال بھی نہ ہو ورنہ خود مالدار پر اور چھوٹے بچوں پر فرض نہیں۔یہ خیال رہے کہ بقدر ضرورت معاش کی طلب ضروری ہے،صرف اکیلے کو اپنے لائق بال بچوں والے کو ان کے لائق کمانا ضروری ہے۔بَعْدَ الْفَرِیْضَۃِ فرمانے سے معلوم ہوا کہ کمائی کی فرضیت نماز روزے کی فرضیت کے مثل نہیں کہ اس کا منکر کافر ہواور تارک فاسق۔

2782 -[24]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ أُجْرَةِ كِتَابَةِ الْمُصْحَفِ فَقَالَ: لَا بَأْسَ إِنَّمَا هُمْ مُصَوِّرُونَ وَإِنَّهُمْ إِنَّمَا يَأْكُلُونَ من عمل أَيْديهم. رَوَاهُ رزين

روایت ہے حضرت ابن عباس کہ آپ سے قرآن مجید لکھنے کی اجرت کے متعلق پوچھا گیا ۱؎  تو فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں،یہ لوگ تو نقش باندھنے والے ہیں  اور اپنے ہاتھ کے کام سے کھاتے ہیں ۲؎(رزین)

۱؎ سائل کو شبہ یہ تھا کہ رب فرماتاہے:"لَا تَشْتَرُوۡا بِاٰیٰتِیۡ ثَمَنًا قَلِیۡلًا"میری آیتوں کو تھوڑی قیمت کے عوض نہ بیچو اور کاتب قرآن اس کی کتابت کو قیمت پر فروخت کرتا ہے یہ بھی گنہگار ہونا چاہیے کہ نقوش قرآن قرآن ہی میں شمار ہوجاتے ہیں۔

۲؎ خلاصہ جواب یہ ہے کہ آیت لَا تَشْتَرُوۡا الخ میں ان پادریوں سے خطاب ہے جو روپیہ لے کر احکام الٰہی بدل دیتے تھے یا چھپالیتے تھے،کتابت قرآن کرنے والا تو دین کی خدمت کرتا ہے کہ اس کے ذریعہ قرآن کا بقا ہے اور قرآن کے بقاء سے دین کا بقاء۔اس سے معلوم ہوا کہ قرآن چھاپ کر فروخت کرنا،قرآن مجید کی جلد سازی پر اجرت لینا،تعویذ لکھنے پر اجرت اگرچہ اس میں آیات قرآنیہ ہی لکھی جائیں سب جائز ہیں،ایسے ہی فتویٰ لکھنے کی اجرت،امامت،اذان،کہیں جا کر وقت مقررہ پر وعظ کہنے کی اجرت لینا دینا سب جائز ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"لَا یُضَآرَّکَاتِبٌ وَّلَا شَہِیۡدٌ اس کی پوری بحث ہماری"تفسیرنعیمی"جلد سوم میں دیکھئے۔

 



Total Pages: 445

Go To