Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

۱؎ یا تو کتے بلی سے مراد غیر نافع کتے بلی ہیں جیسے دیوانہ کتا،وحشی بلی کہ اگر اسے باندھ کر رکھو تو چوہوں کا شکار نہ کرسکے اور اگر کھول دو تو بھاگ جائے اور یا مطلقًا کتا بلی مراد ہے اور نہی کراہت تنزیہی کے لیے ہے یعنی ان کا فروخت کرنا غیر مناسب ہے،یہ جانور تو یوں ہی بطور ہبہ دے دینا چاہئیں۔یہ حدیث امام اعظم کی دلیل ہے کہ کتے کی بیع جائز ہے کیونکہ بلی کی بیع تمام آئمہ کے ہاں درست ہے اور یہاں ممانعت میں کتے بلی دونوں کو ملا دیا گیا ہے۔معلوم ہوا کہ کتے کی بیع بھی بلی کی طرح جائز مگر غیر مناسب ہے،یہ حدیث صحیح ہے۔

2769 -[11] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: حَجَمَ أَبُو طَيْبَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُمِرَ لَهُ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ وَأَمَرَ أَهْلَهُ أَنْ يُخَفِّفُوا عَنْهُ مِنْ خراجه

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ابو طیبہ نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی فصدلی تو حضور نے اس کے لیے ایک صاع کھجوروں کا حکم دیا ۱؎  اور اس کے مالکوں کو حکم دیا تو انہوں نے اس کے وظیفہ آمد سے کمی کردی ۲؎(مسلم،بخاری)

۱؎  ابو طیبہ کا نام نافع یا دینارہے،لقب مسیرہ،یہ بنی بیاضہ کے غلام تھے،ان کے مولٰی کا نام محیصہ ابن مسعود انصاری ہے،یہ فصد لینے کے فن میں بڑی مہارت رکھتے تھے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ فصد کی اجرت جائز ہے،جہاں جہاں ممانعت آئی ہے وہاں تنزیہی کراہت مراد ہے،وہ فرمان عالی کراہت کے بیان کے لیے ہے اور یہ عمل شریف بیان جواز کے لیے لہذا احادیث متعارض نہیں۔

۲؎  خراج سے غلام کی آمدنی مراد ہے،مولٰی اپنے غلام کو کاروبار کی اجازت دے دیتا تھا اور کہتا تھا کہ تو مجھے روزانہ اتنے پیسے دے دیا کر باقی کمائی تیری جیسے آج بعض لوگ تانگے،گاڑیاں ٹھیکے پر دے دیا کرتے ہیں اسے خراج کہتے تھے۔اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ دوا و علاج جائز ہے۔دوسرے یہ کہ معالج و طبیب کو اجرت دینا جائز ہے۔تیسرے یہ کہ خراج کم کرنے کی سفارش کرنا جائز ہے۔چوتھے یہ کہ فصد لینا جائز ہے۔پانچویں یہ کہ فصد کی اجرت جائز ہے۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

2770 -[12]

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلْتُمْ مِنْ كَسْبِكُمْ وَإِنَّ أَوْلَادَكُمْ مِنْ كَسْبِكُمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ. وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ وَالدَّارِمِيِّ: «إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهِ وَإِنَّ وَلَده من كَسبه»

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے بہت پاکیزہ غذا جو تم کھاؤ وہ تمہاری اپنی کمائی اور تمہاری اولاد تمہاری اپنی کمائی ہے ۱؎ (ترمذی، نسائی،ابن ماجہ)اور ابوداؤد و دارمی کی ایک روایت میں یوں ہے کہ پاکیزہ تریں غذاجو انسان کھائے وہ اپنی کمائی کی ہے اور اس کا بیٹا اس کی کمائی سے ہے ۲؎

۱؎  یعنی اپنے کو بے کار نہ رکھو بلکہ روزی کماؤ اور کما کر کھاؤ اور اولاد کی کمائی بھی تمہاری اپنی کمائی ہی ہے کہ بالواسطہ وہ گویا تم ہی نے کمایا ہے۔علماء فرماتے ہیں کہ اولاد پر والدین کا خرچہ بوقت ضرورت واجب ہے اور اگر انہیں حاجت نہ ہو تو مستحب ہے اور وجوب کی حالت میں ماں باپ اولاد کی اجازت کے بغیر اس کا کھانا کھا پی سکتے ہیں مگر غائب اولاد کی چیز اپنے نفقہ میں فروخت نہیں کرسکتے۔الا باذن حاکم،اس کی تفصیل کتب فقہ میں ملاحظہ فرمایئے۔

 



Total Pages: 445

Go To