$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

۱؎  ف سے معلوم ہوتا ہے کہ حج پہلے کرے مدینہ پاک بعد میں حاضر ہو۔علماءکرام نے فرمایا کہ حج فرض میں پہلے حج کرنا افضل ہے اور حج نفل میں پہلے زیارت مدینہ طیبہ بہتر ہے تاکہ مدینہ پاک سے حج کے لیے رخصت ہو نہ کہ گھر جانے کے لیے یہ تفصیل بہت اعلٰی ہے،بعض عشاق حج نفل میں زیارت کی نیت سے گھر سے چلتے ہیں راستہ میں مکہ مکرمہ پڑتاہے تو حج بھی کرلیتے ہیں۔شعر

  کعبہ  کا نام  تک  نہ  لیا  طیبہ  ہی  کہا                            پوچھا کسی نے ہم کو نہضت کدھر کی ہے

کعبہ بھی ہے انہیں کی تجلی کا ایک ظل                     روشن  انہیں کے نور سے  پتلی  حجر کی ہے

۲؎ یہ اس لیے ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم اپنی قبر انور میں بحیات حقیقی دنیاوی زندہ و حیات ہیں کہ آپ سے ہر طرح کی مدد و نصرت حاصل کی جاتی ہے۔(مرقات و لمعات و اشعہ)شہداء کی حیات معنوی ہے حضور انور کی حیات حقیقی دنیاوی ہے کہ رزق بھی ملتا ہے۔ (اشعہ) زہم حیات النبی کی بحث باب الجمعہ میں کرچکے ہیں۔

2757 -[30]

وَعَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ جَالِسًا وَقَبْرٌ يُحْفَرُ بِالْمَدِينَةِ فَاطَّلَعَ رَجُلٌ فِي الْقَبْرِ فَقَالَ: بِئْسَ مَضْجَعِ الْمُؤْمِنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بئس مَا قُلْتَ» قَالَ الرَّجُلُ إِنِّي لَمْ أُرِدْ هَذَا إِنَّمَا أَرَدْتُ الْقَتْلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا مِثْلَ الْقَتْلِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا عَلَى الْأَرْضِ بُقْعَةٌ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ يَكُونَ قَبْرِي بِهَا مِنْهَا» ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. رَوَاهُ مَالِكٌ مُرْسَلًا

روایت ہے حضرت یحیی ابن سعید سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم تشریف فرما تھے اور مدینہ منورہ میں ایک قبر کھودی جارہی تھی ۱؎ تو ایک شخص قبر میں جھانک کر بولا کہ یہ مؤمن کا بڑا برا ٹھکانہ ہے ۲؎ تب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ تم نے یہ غلط کہا ۳؎ وہ صاحب بولے میری یہ نیت نہ تھی اﷲ کی راہ میں شہادت میری مراد تھی ۴؎ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا (یہاں کا دفن)شہادت فی سبیل اﷲ کے برابر بھی نہیں ۵؎ زمین کا کوئی حصہ ایسا نہیں جہاں مجھے اپنی قبر کا ہونا اس جگہ سے زیادہ پیارا ہو تین بار فرمایا ۶؎(مالک)مرسلًا ۷؎

۱؎ یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کسی صحابی کے جنازے میں تشریف لے گئے،قبر میں دیر تھی،سرکار عالی اور بندگان خاص اس قبر کے اردگرد تشریف فرما تھے،زہے نصیب اس مرنے والے کے۔شعر

نسخہ کو نین را دیباچہ اوست                                     جملہ عالم بندگان خواجہ اوست

۲؎ یعنی مؤمن پر جس قدر تکالیف آتی ہے ان سب میں قبر کی وحشت و دہشت زیادہ سخت ہے جس سے دل کانپتا ہے۔

۳؎ کیونکہ مؤمن کی قبر خصوصًا جب کہ زمین مدینہ میں ہو جنت کی کیاری ہے،مؤمن کو وہاں دہشت وحشت کیسی ؟ بلکہ وہ تو یار سے ملنے کی جگہ ہے۔

۴؎ یعنی میرا مقصد یہ تھا کہ اگر یہ شخص میدان جنگ میں شہید ہوتا اور اسے دفن بھی میسر نہ ہوتا تو اس کو بستر پر مرنے اور دفن ہونے سے بہتر ہوتا،بستر کی موت و دفن شہادت کی موت اور بے گوری و بے کفنی سے بری ہے مطلقًا قبر کو برا نہ کہا ہے بلکہ شہادت کے مقا بلہ میں۔

۵؎ یعنی مدینہ پاک میں مرنا یہاں دفن ہونا دوسری جگہ شہید ہونے اور نعش پامال ہونے سے بھی افضل ہے،جب مدینہ کی موت دوسری جگہ کی شہادت سے افضل ہے تو ان شاءاﷲ مدینہ پاک کی زندگی دوسری جگہ کی بعض عبادات سے یقینًا بہتر ہے کہ وہاں رہنا



Total Pages: 445

Go To
$footer_html