Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

۱؎ لفظ اَیَّ ھٰؤلَاءِ فعل پوشیدہ سے منسوب ہے جس کی تفسیر آگے نزلت کررہا ہے۔اوحٰی سے مراد وحی خفی ہے جو قرآن شریف میں موجود نہیں۔

۲؎ حق یہ ہے کہ پہلے رب تعالٰی نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو اختیار دیا کہ ان تین شہروں میں سے جہاں چاہیں ہجرت فرمادیں،پھر مدینہ پاک کو معین فرمادیا لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں فرمایا گیا کہ مجھے خواب میں مدینہ دکھایا گیا اور فرمایا گیا کہ آپ کا دار الہجرت یہ ہے۔مدینہ پاک حجاز کا شہر ہے،بحرین ایک شہر کا نام بھی ہے اور علاقہ کا بھی جو عمان کے قریب ہے،قنسرین شام کا ایک مشہور شہر ہے۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

2753 -[26]

عَنْ أَبِي بَكْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَدْخُلُ الْمَدِينَةَ رُعْبُ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ لَهَا يَوْمَئِذٍ سَبْعَةُ أَبْوَابٍ عَلَى كُلِّ بَابٍ مَلَكَانِ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت ابوبکر ہ سے ۱؎ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں مدینہ میں مسیح دجّال کا رعب نہ آ سکے اس دن مدینہ کے سات دروازے ہوں گے ہر دروازہ پر دو فرشتے ۲؎ (بخاری)

۱؎ آپ کا نام نقیع ابن حارث ابن کلاہ،ثقفی ہے،طائف کے رہنے والے تھے،جب حضور انور نے طائف کا محاصرہ کیا تو آپ نے اپنے کو طائف کے قلعہ سے ایک بیرونی کنویں کی چرخی پر ڈال دیا اور اس طرح وہاں سے نکل کر حضور کی خدمت میں حاضر ہوگئے ،اسلام لے آئے،آپ کا نام ابوبکرہ یعنی چرخی والے،بکرہ چرخی کو کہتے ہیں بعد میں بصرہ میں مقیم رہے،   ۹۴ھ؁  میں وہاں ہی وفات پائی اور وہاں ہی دفن ہوئے۔(اشعہ و اکمال)

۲؎ یعنی ان فرشتوں کی وجہ سے جو حفاظت مدینہ پر مامور ہوں گے نہ تو مدینہ پاک میں دجّال ہی آسکے گا اور نہ اس کا اثر و ہیبت یہاں پہنچ سکے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دجّال کی ہیبت ہر جگہ پہنچ جاوے گی کہ بعض لوگ اس کی ہیبت سے اسے مان لیں گے مدینہ طیبہ اس سے بھی محفوظ رہے گا۔مقبول بندوں کے اثر سے دل میں قوت ہوتی ہے بلکہ ان کی برکت سے شہروں میں امن و امان رہتی ہے۔حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی برکت سے مدینہ منورہ کی حفاظت کے لیے فرشتے مامور ہوئے اور فرشتوں کی برکت سے مدینہ کی زمین دجّال تو کیا اس کے اثر سے بھی محفوظ رہی۔

2754 -[27] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اللَّهُمَّ اجْعَلْ بِالْمَدِينَةِ ضِعفَي مَا جعلت بِمَكَّة من الْبركَة»

روایت ہے حضرت انس سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی آپ نے فرمایا الٰہی جو برکتیں تو نے مکہ مکرمہ میں دی ہیں اس سے دوگنی برکتیں مدینہ منورہ میں دے ۱؎(مسلم،بخاری)

۱؎ بعض علماء نے برکت سے ظاہری و باطنی برکت مراد لی ہے یعنی مدینہ کی عبادات اور یہاں کے رزقوں میں برکت مکہ معظمہ سے دوگنی دے  کہ     یہاں کی عبادات کا ثواب مکہ معظمہ کی عبادات سے دوگنا ہواور یہاں کے غلہ و میوے میں برکتیں  مکہ معظمہ سے دوگنی ہوں،اس بنا پر انہوں نے مدینہ منورہ کو  مکہ معظمہ سے افضل مانا اور یہاں کی عبادات کا ثواب مکہ معظمہ کی عبادات سے زیادہ قرار دیا،بعض نے فرمایا کہ یہاں رزق کی برکتیں مراد ہیں یعنی حسی برکتیں،وہ فرماتے ہیں کہ ثواب کی برکتیں مکہ معظمہ میں دوگنی ہیں اور روزی کی برکتیں مدینہ پاک



Total Pages: 445

Go To