$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

ان کا شیخ ہے کہ وہ کیسا ہے لہذا یہ حدیث مجہول ہے۔(مرقات)اسماء الرجال کی کتب سے کہیں ثابت نہیں ہوتا کہ حضرت سعد کا کوئی غلام صالح نامی تھا، لہذا یہ حدیث اصل سے ہی مجروح ہے۔

۲؎ یعنی درخت کاٹنے والے کے صرف کپڑے نہ چھینے بلکہ کلہاڑی،رسی اور اگر بکریاں وغیرہ ساتھ تھیں تو وہ بھی۔لطف یہ ہے کہ غلام کا مال دراصل مالک کا ہوتا ہے تو لازم یہ آیا کہ جرم تو کیا غلام نے اور جرمانہ ہوا اس کے مالک پر اس کا سارا مال ضبط ہوا۔

۳؎ اس غلام کے مولاؤں نے آپ سے اپنے مال کا مطالبہ کیا ہوگا کہ یہ واپس فرمادیں تب یہ فرمایا۔

 ۴؎ یعنی جیسے جہاد میں جو غازی کسی کافر کو قتل کرے تو مقتول کا سامان اس غازی کا ہوگا ایسے ہی حرم مدینہ کا جو شخص درخت کاٹے تو اس کا سامان پکڑنے والے کا ہوگا،اس کا مطلب پہلے عرض کیا جاچکا ہے اگر حدیث ظاہری معنے پر بھی ہو تب بھی یہ سامان خود اس شکاری غلاموں کا نہ تھا بلکہ ان کے آقاؤں کا تھا وہ مجرم نہ تھے۔

2749 -[22]

وَعَنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ صَيْدَ وَجٍّ وَعِضَاهَهُ حِرْمٌ مُحَرَّمٌ لِلَّهِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ مُحْيِي السُّنَّةِ: «وَجٌّ» ذَكَرُوا أَنَّهَا مِنْ نَاحِيَةِ الطَّائِف وَقَالَ الْخطابِيّ: «إِنَّه» بدل «إِنَّهَا»

روایت ہے حضرت زبیر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ مقام وجّ کا شکار اور وہاں کے درخت حرام ہیں ۱؎ جنہیں اﷲ نے حرام کیا(ابوداؤد)اور محی السنہ نے فرمایا کہ وج کے متعلق لوگ کہتے ہیں وہ طائف کے اطراف سے ہے اور خطابی نے بجائے انھا کے انہ فرمایا ۲؎

۱؎  وَ جّ واؤ کے فتح جیم کے شد سے،وادی حنین سے آگے طائف سے قریب ایک وادی کا نام ہے جہاں کوئی آبادی نہیں ہے۔عضاہ  خار دار درختوں کو کہتے ہیں،اس مقام کی حرمت کسی خاص وقت میں ہوگی جو بعد میں منسوخ ہوگئی،یہ جگہ حرم مدینہ سے بہت دور ہے نہ مکہ معظمہ کے حرم میں داخل ہے نہ مدینہ منورہ کے حرم میں،طائف مکہ معظمہ سے ستر۷۰ میل فاصلہ پر ہے اور وادی وجّ وہاں سے قریب ہے تو اسے مدینہ پاک سے تو کوئی قرب ہے ہی نہیں۔

۲؎ یعنی خطابی کی روایت میں بجائے مؤنث ضمیر کے مذکر ضمیر ہے مگر ا سمیں فرق نہیں پڑتا ایک جگہ کو موضع کے معنے میں مذکر کہہ سکتے ہیں اور بقعہ کے معنے سے مؤنث مقامات کے ناموں میں وسعت ہے۔

2750 -[23]

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يَمُوت بالمدية فليمت لَهَا فَإِنِّي أَشْفَعُ لِمَنْ يَمُوتُ بِهَا» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيح غَرِيب إِسْنَادًا

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے جو مدینہ میں مرسکے وہ وہاں ہی مرے کیونکہ میں مدینہ میں مرنے والوں کی شفاعت کروں گا ۱؎ (احمد،ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث اسناد سے حسن بھی ہے،صحیح بھی ہے اور غریب بھی۲؎

۱؎  ظاہر یہ ہے کہ یہ بشارت اور ہدایت سارے مسلمانوں کو ہے نہ کہ صرف مہاجرین کو یعنی جس مسلمان کی نیت مدینہ پاک میں مرنے کی ہو وہ کوشش بھی وہاں ہی مرنے کی کرے کہ خدا نصیب کرے تو وہاں ہی قیام کرے،خصوصًا بڑھاپے میں اور بلا ضرورت مدینہ پاک سے باہر نہ جائے کہ موت و دفن وہاں کا ہی نصیب ہو۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ دعا کرتے تھے کہ مولٰی مجھے اپنے محبوب کے شہر میں شہادت کی موت دے،آپ کی دعا ایسی قبول ہوئی کہ سبحان اﷲ! فجر کی نماز مسجد نبوی محراب النبی،مصلےٰ نبی اور وہاں شہادت۔ میں



Total Pages: 445

Go To
$footer_html