Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

زاری و فریاد کی ہے۔(لمعات،مرقات،محی السنہ)لہذا حق یہ ہے کہ خود حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم احد پہاڑ سے،اس علاقہ سے،وہاں کے پتھروں سے محبت فرماتے ہیں اور یہ تمام چیزیں بعینہ حضور سے محبت کرتی ہیں،احادیث سے ثابت ہے کہ حضور انور احد پر چڑھے تو احد کو وجد آگیا اور وہ جھومنے لگا۔

۳؎ یعنی ابراہیم علیہ السلام نے حدود مکہ معظمہ کو اپنی دعا سے حرم بنایا یا اس کی حرمت کو ظاہر فرمایا ورنہ وہ حرم تو خدا تعالٰی کے حکم سے ہے اور پہلے سے ہی ہے اور میں حدود مدینہ کو اپنے اختیار خداداد سے حرم بناتا ہوں اس سے پہلے مدینہ حرم نہ تھا نہ اس کی حرمت قرآن پاک میں مذکور ہے۔مدینہ کو حرم بنانے کے معنے وہ ہی ہیں جو پہلے عرض کیے گئے کہ اس مقدس مقام کی تعظیم و توقیر واجب ہے،اسے اجاڑنے ویران کرنے کی کوشش کرنا حرام ہے،یہاں شکار وغیرہ مکروہ ہے۔

2746 -[19]

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُحُدٌ جَبَلٌ يُحِبُّنَا ونحبُّه» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت سہل ابن سعد سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے احد وہ پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں ۱؎(بخاری)

۱؎ اس حدیث سے چند ایمان افروز مسائل ثابت ہوئے:(۱) ایک یہ کہ تمام حسین صرف انسانوں کے محبوب ہوئے، حضور انور انسان،جنّ،لکڑی،پتھر،جانوروں کے بھی محبوب ہیں یعنی خدائی کے محبوب ہیں کیونکہ خدا کے محبوب ہیں(۲)دوسرے یہ کہ دوسرے محبوبوں کو ہزاروں نے دیکھا مگر عاشق ایک دو ہوں،حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی محبوبیت کا یہ عالم ہے کہ آج ان کا دیکھنے والا کوئی نہیں اور عاشق کروڑوں ہیں۔شعر

حسن یوسف پہ کٹیں مصر میں انگشت زناں            سرکٹاتے ہیں ترے نام پہ مردان عرب

تیسرے یہ کہ حضور انور کو پتھر کے دل کا حال معلوم ہے کہ کس پتھر کے دل میں ہم سے کتنی محبت ہے تو ہمارے دلوں کا ایمان، عرفان،محبت و عداوت وغیرہ بھی یقینًا معلوم ہے یہ ہے علم غیب رسول۔چوتھے یہ کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کو اپنا عشق و محبت جتانے ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں انہیں ہمارے حالات خود ہی معلوم ہیں،احد نے منہ سے نہ کہا تھا کہ میں آپ سے محبت کرتا ہوں یا آپ کا چاہنے والا ہوں۔پانچویں یہ کہ جس انسان کے دل میں حضور کی محبت نہ ہو وہ پتھر سے بھی سخت ہے،اﷲ تعالٰی حضور کی محبت نصیب کرے۔چھٹے یہ کہ حضور کی محبت ان کی محبوبیت کا ذریعہ ہے جو چاہتا ہے کہ حضور اس سے محبت کریں تو اسے چاہیے کہ حضور انور سے محبت کرے،دیکھو یہاں فرمایا کہ ہم بھی احد سے محبت کرتے ہیں۔ساتویں یہ کہ جو حضور انور کا محبوب بن گیا تو تمام عالم کا پیارا ہوگیا دیکھو آج احد پہاڑ ہر مؤمن کی آنکھ کا  تارا ہے  ایسے  ہی آج وہ حضرات بھی حضور انور کے چاہنے والے بن گئے خلقت کے محبوب ہوگئے،ان کے آستانے مرجع خلائق ہوگئے،دیکھو حضرت خواجہ اجمیری،حضور غوث پاک،حضرت داتا گنج بخش رحمۃ اﷲ علیہم کے آستانوں کی رونقیں یہ اسی محبوبیت کی جلوہ گری ہے،اعلٰی حضر ت فرماتے ہیں۔شعر

ان کے در کا جو ہوا خلق خدا اس کی ہوئی                 ان کے در سے جو پھرا اﷲ اس سے پھر گیا

الفصل الثانی

دوسری فصل

2747 -[20]

عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: رَأَيْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ أَخَذَ رَجُلًا يَصِيدُ فِي حَرَمِ الْمَدِينَةِ الَّذِي حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَبَهُ ثِيَابَهُ فَجَاءَهُ مَوَالِيهِ فَكَلَّمُوهُ فِيهِ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ هَذَا الْحَرَمَ وَقَالَ: «مَنْ أَخَذَ أَحَدًا يَصِيدُ فِيهِ فَلْيَسْلُبْهُ» . فَلَا أَرُدُّ عَلَيْكُمْ طُعْمَةً أَطْعَمَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنْ إِنْ شِئْتُمْ دفعتُ إِليكم ثمنَه. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت سلیمان ابن ابی عبداﷲ سے فرماتے ہیں میں نے سعد ابن ابی وقاص کو دیکھا کہ آپ نے اس شخص کو پکڑ لیا جو حرم مدینہ میں شکار کررہا ہے جسے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے حرم بنایا ہے ۱؎  تو آپ نے اس کے کپڑے اتارلیے پھر اس کے مالک آپ کے پاس آئے اور اس بارے میں آپ سے کلام کیا آپ نے فرمایا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس حرم کو حرم قرار دیا اور فرمایا کہ جو یہاں کسی کو شکار کرتے ہوئے پکڑے تو اس کے کپڑے چھین لے لہذا وہ مال میں تم کو واپس نہ دوں گا جو مجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے عطا کیا لیکن اگر تم چاہو تو تمہیں اس کی قیمت دے دوں ۲؎ (ابوداؤد)

 



Total Pages: 445

Go To