Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

باب حرم المدینۃ حرسھا اللہ تعالی

باب مدینہ منورہ کا حرم اللہ اسے محفوظ رکھے  ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  تمام علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ حدود مدینہ منورہ کا ادب و احترام مکہ معظمہ کی حدود کی طرح ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ مگر اختلاف اس میں کہ حرم مدینہ میں شکار کرنا حلال ہے یا حرام؟اگر حرام ہے تو اس کی جزا یعنی فدیہ یا کفارہ واجب ہے یا نہیں،ہمارے امام اعظم کے ہاں وہاں شکار بھی حلال ہے اور درخت وغیرہ کا کاٹنا بھی درست کیونکہ ان چیزوں کی حلت تو قرآن کریم کی صریحی آیات سے ثابت ہے مگر حدود مدینہ میں ان کی حرمت کی نہ کوئی آیت ہے نہ حدیث قطعی بلکہ حدیث سے ثابت ہے کہ حضرت انس کے بھائی ابو عمیر نے مدینہ منورہ میں ایک چڑیا پالی تھی جو پنجرے میں رکھی تھی اگر مدینہ منورہ میں شکار حرام ہوتا تو چڑیا کو پنجرے میں بند کرنا بھی حرام ہوتا،حرم مکہ میں شکار حرام ہونا اور کرلینے پر جزاء واجب ہونا قرآن کریم سے بھی ثابت ہے اور احادیث قطعیہ سے بھی،بعض آئمہ کے ہاں حرم مدینہ میں شکار حرام تو ہے مگر اس کی جزا واجب نہیں،بعض کے ہاں جزاء بھی واجب ہے،بعض کے نزدیک وہاں پرندوں کا شکار حلال ہے چرندوں کا حرام،بہرحال مسئلہ اختلافی ہے اور اس بارے میں مذہب حنفی بہت قوی ہے۔

2728 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَا كَتَبْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا الْقُرْآنَ وَمَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «الْمَدِينَةُ حَرَامٌ مَا بَيْنَ عَيْرٍ إِلَى ثَوْرٍ فمنْ أحدَثَ فِيهَا حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ ذمَّةُ المسلمينَ واحدةٌ يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ وَمَنْ وَالَى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عدل» وَفِي رِوَايَةٍ لَهُمَا: «مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صرف وَلَا عدل»

روایت ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے سوائے قرآن کے اور اس کے جو اس کتاب میں ہے کچھ اور نہ لکھا ۱؎ فرمایا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہیں مدینہ منورہ عیر سے ثور تک کے درمیان حرم ہے ۲؎  تو جو اس میں کوئی بدعت ایجاد کرے یا کسی بدعتی کو پناہ دے تو اس پر اﷲ کی اور فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے ۳؎ اس کے نہ فرائض قبول ہوں نہ نفل ۴؎ مسلمانوں کا ذمہ ایک ہے کہ ان کا ادنی آدمی بھی کوشش کرسکتا ہے۵؎ جوکسی مسلمان کی عہد شکنی کرے اس پر اﷲ،فرشتوں اور سارے انسانوں کی لعنت ہے نہ اس کے فرض قبول نہ نفل ۶؎ جو اپنے کو اپنے دوستوں کی بغیر اجازت کسی قوم سے عقد دوستی باندھے اس پر اﷲ کی فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے نہ اس کے فرض قبول ہوں نہ نفل ۷؎(مسلم، بخاری)انہی کی دوسری روایت میں یوں ہے کہ جو اپنے کو ا پنے غیر باپ کی طرف منسوب کرے ۸؎ یا اپنے غیرمولاؤں سے ولاءکرے تو اس پر اﷲ کی،فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے نہ اس کے فرض قبول ہوں اور نہ نفل ۹؎

 



Total Pages: 445

Go To