$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

2726 -[12] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَن أبي شُريَحٍ العَدوِيِّ أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ وَهُوَ يَبْعَثُ الْبُعُوثَ إِلَى مَكَّةَ: ائْذَنْ لِي أَيُّهَا الْأَمِيرُ أُحَدِّثْكَ قَوْلًا قَامَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الغدَ مِنْ يَوْمِ الْفَتْحِ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي وَأَبْصَرَتْهُ عَيْنَايَ حِينَ تَكَلَّمَ بِهِ: حَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ مَكَّةَ حَرَّمَهَا اللَّهُ وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ فَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْفِكَ بِهَا دَمًا وَلَا يَعْضِدَ بِهَا شَجَرَةً فَإِنْ أَحَدٌ تَرَخَّصَ بِقِتَالِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا فَقُولُوا لَهُ: إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَذِنَ لرَسُوله وَلم يَأْذَن لِرَسُولِهِ وَلَمْ يَأْذَنْ لَكُمْ وَإِنَّمَا أُذِنَ لِي فِيهَا سَاعَة نَهَارٍ وَقَدْ عَادَتْ حُرْمَتُهَا الْيَوْمَ كَحُرْمَتِهَا بِالْأَمْسِ وَلْيُبْلِغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ ". فَقِيلَ لِأَبِي شُرَيْحٍ: مَا قَالُ لَكَ عَمْرٌو؟ قَالَ: قَالَ: أَنَا أَعْلَمُ بِذَلِكَ مِنْكَ يَا أَبَا شُرَيْحٍ أَنَّ الْحَرَمَ لَا يُعِيذُ عَاصِيًا وَلَا فَارًّا بِدَمٍ وَلَا فَارًّا بِخَرْبَةٍ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي الْبُخَارِيِّ: الْخَرْبَةُ: الْجِنَايَة

روایت ہے حضرت ابو شریح عدوی سے انہوں نے عمرو ابن سعید سے فرمایا ۱؎ جب کہ وہ مکہ معظمہ پر لشکر بھیج رہا تھا کہ اے امیر مجھے اجازت دے کہ میں تجھے وہ فرمان پاک سناؤ جسے کل فتح مکہ کے دن رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کھڑے ہو کر فرمایا ۲؎ جسے میرے کانوں نے سنا اور میرے دل نے محفوظ کیا اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو میری آنکھوں نے کلام کرتے وقت دیکھا ۳؎ اپنے اﷲ کی حمد و ثنا کی بھی فرمایا کہ مکہ کو اﷲ نے حرم بنایا ہے کسی انسان نے نہ بنایا ۴؎ تو کسی بھی اس شخص کو جو اﷲ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہویہ جائز نہیں کہ وہاں خون بہائے اور نہ وہاں کا درخت کاٹے ۵؎  اگر کوئی رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے جہادسے اجازت سمجھے تو اسے کہہ دو کہ اﷲ تعالٰی نے اپنے رسول کو اس کی اجازت دے دی تھی اور تم کو نہ دی ۶؎ رب نے مجھے دن کی ایک گھڑی اجازت دی تھی اب آج اس کی حرمت کل کی طرح ہی لوٹ آئی ۷؎ حاضرین غائبین کو پہنچادیں ابو شریح سے کہا گیا کہ پھر تم سے عمرو نے کیا کہا فرمایا وہ بولا اے ابو شریح میں تم سے یہ زیادہ جانتا ہوں کہ حرم شریف نہ تو مجرم کو پناہ دے سکتا ہے ۸؎  نہ خون کرکے بھاگے ہوئے کو ۹؎  نہ فساد کرکے بھاگے کو ۱۰؎(مسلم،بخاری)اور بخاری میں ہے کہ حزبہ خیانت ہے۔

۱؎ آپ کا نام خویلا ابن عمرو کعبی عدوی خزاعی ہے،کنیت ابو شریح،صحابی ہیں،فتح مکہ سے پہلے ایمان لائے،   ۶۸ھ؁ میں مدینہ منورہ میں وفات پائی،اپنی کنیت میں مشہور ہوئے۔(اکمال)اور عمرو ابن سعید ابن عاص اموی قرشی اپنے چچا زاد بھائی عبدالملک ابن مروان کی طرف سے مدینہ منورہ کا حاکم تھا،پھر اسے عبدالملک نے سیدنا عبداﷲ ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے جنگ کرنے پر مقرر کیا،حضرت ابن زبیر مکہ معظمہ و عراق وغیرہ کے سلطان برحق تھے۔(اشعہ و مرقات) جب عمرو نے مکہ معظمہ پر چڑھائی کرنے کے لیے لشکر تیار کیا،حضرت ابو شریح نے اسے عظمت مکہ معظمہ کی طرف متوجہ فرمایا۔

۲؎ غد سے مراد یا تو فتح مکہ سے دوسرا دن ہے یعنی فتح کی کل یا مطلب یہ ہے کہ یہ کل کی بات ہے ابھی اسے کچھ عرصہ نہ گزرا تو نے ابھی سے اس پر عمل چھوڑ دیاتو آئندہ کیا بنے گا۔

۳؎ یعنی یہ واقعہ اور یہ حدیث میں کسی سے سنی سنائی نہیں کہہ رہا ہوں بلکہ اسے میں نے خود اپنے کانوں سے سنا ہے اور دور سے نہیں سنا بلکہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم سے میں بہت قریب تھا اور بغیر سمجھے نہیں سنا بلکہ سمجھ کر سنا لہذا اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے حدیث بالکل صحیح ہے۔

۴؎ یعنی مکہ معظمہ کو حرم بنانے والا خود رب تعالٰی ہے،کسی شخص نے اپنی رائے سے اسے حرم نہیں بنایا ہے تاکہ دوسرے آدمی کی رائے سے اس کی حرمت جاتی رہےلہذا یہ حدیث اس روایت کے خلاف نہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم بنایا اور میں مدینہ کو حرم بناتا ہوں کہ وہاں یہ مطلب ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حرم ہونے کی دعا کی رب نے اسے حرم بنادیا وہاں اسناد مجازی ہے یہاں حقیقی۔

۵؎ اﷲ تعالٰی اور قیامت پر ایمان رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ ساری ایمانیات کا معتقد ہو دو کناروں کا ذکر فرمایا۔تمام عقائد مراد لیے گئے، درخت سے مراد خود رو درخت ہیں اپنے بوئے ہوئے درخت حرم شریف میں کاٹے جاسکتے ہیں،خون بہانے سے مراد اس کا خون بہانا ہے



Total Pages: 445

Go To
$footer_html