Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

۲؎ علماء فرماتے ہیں کہ حاجی طواف وداع کرکے جب چلے تو کعبہ معظمہ کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھے اور کچھ کلمات وداعیہ بھی منہ سے نکالے،ان کی دلیل یہ حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ کلمات حج وداع میں کعبہ معظمہ سے رخصت ہوتے وقت فرمائے اور باب الوداع سے نکلے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم اسی طرف سے روانہ ہوئے تھے،بلکہ اس وقت الٹے پاؤں کعبہ معظمہ کو دیکھتا ہوا روتا ہوا چلے کہ اگرچہ یہ عمل بدعت ہے مگر بدعت حسنہ ہے اور سیدنا ابن مسعود مرفوعًا فرماتے ہیں کہ جسے مسلمان اچھا سمجھیں وہ شئے اﷲ کے نزدیک بھی اچھی ہے۔ (مرقات)

۳؎ یہ حدیث بھی جمہور علماء کی دلیل ہے کہ مکہ معظمہ کی بستی مدینہ منورہ سے افضل ہے اور حضور انور کو بڑی پیاری ہے کیونکہ یہ فرمان ہجرت کے بہت عرصہ بعد ہے۔ خیال رہے کہ افضلیت میں یہ اختلاف بستیوں کے متعلق ہے،حضور کی قبر انور کا وہ حصہ جو جسم اطہر سے متصل ہے وہ مکہ معظمہ،کعبہ معظمہ بلکہ عرش معلے سے بھی افضل ہے۔(مرقات)شیخ نے فرمایا کہ یہ فرمان عالی عمرہ قضاء میں ہے جب کہ تین دن کے بعد کفار مکہ نے آپ سے مکہ معظمہ خالی کردینے کے لیے کہا،بعض نے فرمایا کہ یہ بھی ہجرت کی شب تھا مگر یہ ضعیف ہے کہ اس وقت عبداﷲ ابن عدی نے حضور کو کیونکر دیکھ لیا،بعض نے فرمایا کہ فتح مکہ کے دن ہے مگر یہ بھی ضعیف ہے کیونکہ اس وقت اخراج نہ تھا۔واﷲ اعلم!(اشعہ)

۴؎ یہ حدیث بہت کتابوں میں بہت اسنادوں سے مروی ہے صحیح ہے اور بہت قوی ہے،طبرانی میں بسند ضعیف ہے کہ فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے مدینہ مکہ سے افضل ہے،بعض علماء نے فرمایا کہ حضور کی حیات شریفہ میں مدینہ منورہ بعد ہجرت افضل تھا،بعد وفات مکہ مکرمہ افضل۔(مرقات)

مسئلہ: مکہ مکرمہ کی ایک نیکی ایک لاکھ ہے اورایک گناہ بھی ایک لاکھ ہے،مدینہ منورہ کی ایک نیکی پچاس ہزار ہے مگر ایک گناہ ایک ہی ہے،اس کی بھی شفاعت سے بخشش کی امید ہے اسی لیے امام ابوحنیفہ و امام مالک رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بیرونی آدمیوں کو مکہ معظمہ رہنے سے وہاں سے وطن لوٹ آنا افضل وہاں جاتا آتا رہنا بہتر،دیکھو حضرت ابن عباس نے بجائے مکہ معظمہ مکرّمہ کے طائف کو اپنا قیام گاہ قرار دیا،حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں کہ ارادۂ  گناہ پر کہیں پکڑ نہیں سوائے مکہ مکرمہ کے،پھر آپ نے یہ آیت پڑھی"وَمَنۡ یُّرِدْ فِیۡہِ بِاِلْحَادٍۭ"الخ۔ابن ماجہ نے حضرت ابن عباس سے روایت کی کہ جو مکہ مکرمہ کا رمضان پائے پھر وہاں کے روزہ اور تراویح کی پابندی کرے تو ایک لاکھ رمضانوں کا ثواب پائے گا اور ہر دن و ہر رات ایک ایک غلام آزاد کرنے اور ایک ایک غازی کو میدانِ جنگ میں بھیجنے کا ثواب پائے گا۔مدینہ منورہ میں رہنا اور مرنا بھی بہت برکت کا باعث ہے بشرطیکہ وہاں کا احترام کرسکے۔ (مرقات)

الفصل الثالث

تیسری فصل

2726 -[12] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَن أبي شُريَحٍ العَدوِيِّ أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ وَهُوَ يَبْعَثُ الْبُعُوثَ إِلَى مَكَّةَ: ائْذَنْ لِي أَيُّهَا الْأَمِيرُ أُحَدِّثْكَ قَوْلًا قَامَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الغدَ مِنْ يَوْمِ الْفَتْحِ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي وَأَبْصَرَتْهُ عَيْنَايَ حِينَ تَكَلَّمَ بِهِ: حَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ مَكَّةَ حَرَّمَهَا اللَّهُ وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ فَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْفِكَ بِهَا دَمًا وَلَا يَعْضِدَ بِهَا شَجَرَةً فَإِنْ أَحَدٌ تَرَخَّصَ بِقِتَالِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا فَقُولُوا لَهُ: إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَذِنَ لرَسُوله وَلم يَأْذَن لِرَسُولِهِ وَلَمْ يَأْذَنْ لَكُمْ وَإِنَّمَا أُذِنَ لِي فِيهَا سَاعَة نَهَارٍ وَقَدْ عَادَتْ حُرْمَتُهَا الْيَوْمَ كَحُرْمَتِهَا بِالْأَمْسِ وَلْيُبْلِغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ ". فَقِيلَ لِأَبِي شُرَيْحٍ: مَا قَالُ لَكَ عَمْرٌو؟ قَالَ: قَالَ: أَنَا أَعْلَمُ بِذَلِكَ مِنْكَ يَا أَبَا شُرَيْحٍ أَنَّ الْحَرَمَ لَا يُعِيذُ عَاصِيًا وَلَا فَارًّا بِدَمٍ وَلَا فَارًّا بِخَرْبَةٍ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي الْبُخَارِيِّ: الْخَرْبَةُ: الْجِنَايَة

روایت ہے حضرت ابو شریح عدوی سے انہوں نے عمرو ابن سعید سے فرمایا ۱؎ جب کہ وہ مکہ معظمہ پر لشکر بھیج رہا تھا کہ اے امیر مجھے اجازت دے کہ میں تجھے وہ فرمان پاک سناؤ جسے کل فتح مکہ کے دن رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کھڑے ہو کر فرمایا ۲؎ جسے میرے کانوں نے سنا اور میرے دل نے محفوظ کیا اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو میری آنکھوں نے کلام کرتے وقت دیکھا ۳؎ اپنے اﷲ کی حمد و ثنا کی بھی فرمایا کہ مکہ کو اﷲ نے حرم بنایا ہے کسی انسان نے نہ بنایا ۴؎ تو کسی بھی اس شخص کو جو اﷲ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہویہ جائز نہیں کہ وہاں خون بہائے اور نہ وہاں کا درخت کاٹے ۵؎  اگر کوئی رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے جہادسے اجازت سمجھے تو اسے کہہ دو کہ اﷲ تعالٰی نے اپنے رسول کو اس کی اجازت دے دی تھی اور تم کو نہ دی ۶؎ رب نے مجھے دن کی ایک گھڑی اجازت دی تھی اب آج اس کی حرمت کل کی طرح ہی لوٹ آئی ۷؎ حاضرین غائبین کو پہنچادیں ابو شریح سے کہا گیا کہ پھر تم سے عمرو نے کیا کہا فرمایا وہ بولا اے ابو شریح میں تم سے یہ زیادہ جانتا ہوں کہ حرم شریف نہ تو مجرم کو پناہ دے سکتا ہے ۸؎  نہ خون کرکے بھاگے ہوئے کو ۹؎  نہ فساد کرکے بھاگے کو ۱۰؎(مسلم،بخاری)اور بخاری میں ہے کہ حزبہ خیانت ہے۔

 



Total Pages: 445

Go To