$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

وغیرہ کفار کی طرح ہے جنہوں نے مسلمانوں کا بائیکاٹ کرکے انہیں ستایا اور روزی ان پر تنگ کی،مکہ معظمہ کا غلہ روکنا ایسا سخت جرم ہے جیسے وہاں رہ کر بے دینی کرنا،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَمَنۡ یُّرِدْ فِیۡہِ بِاِلْحَادٍۭ بِظُلْمٍ نُّذِقْہُ مِنْ عَذَابٍ اَلِیۡمٍ"۔اس حدیث سے معلوم ہورہا ہے کہ جیسے مکہ معظمہ میں نیکیوں کا ثواب بہت زیادہ ہے ایسے ہی وہاں گناہ کرنے کا عذاب بھی بہت سخت ہے۔سیدنا عبداﷲ ابن عباس مکہ معظمہ نہ رہے سبلکہ وہاں سے کچھ فاصلہ پر طائف شریف میں رہے وہیں ہی آپ کا مزار پرانوار ہے،فقیر نے زیارت کی ہے۔

2724 -[10]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَكَّةَ: «مَا أَطْيَبَكِ مِنْ بَلَدٍ وَأَحَبَّكِ إِلَيَّ وَلَوْلَا أَنَّ قَوْمِي أَخْرَجُونِي مِنْكِ مَا سَكَنْتُ غَيْرَكِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيب إِسْنَادًا

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے مکہ معظمہ سے فرمایا ۱؎ تو کیسا پاکیزہ شہر ہے اور تو مجھے کیسا پیارا ہے اگر میری قوم مجھے تجھ سے نہ نکالتی تو میں تیرے سوا کسی اور بستی میں نہ رہتا ۲؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث اسناد کے لحاظ سے حسن بھی ہے صحیح بھی غریب بھی۔

۱؎ غالبًا یہ فرمان عالی ہجرت کی رات ہے جب حضور انور حضرت صدیق کو ہمراہ لےکر جانب مدینہ منورہ روانہ ہوئے اور مکہ معظمہ سے باہر پہنچے تو حسرت بھری نگاہوں سے بستی مکہ معظمہ پر نگاہ کی اور یہ فرمایا،مرقات نے کہا کہ یہ کلام فتح  مکہ کے دن وہاں سے واپسی کے وقت ہے مگر پہلی بات زیادہ قوی معلوم ہوتی ہے۔واﷲ اعلم!

۲؎ جمہور علماء کے نزدیک مکہ معظمہ شہر مدینہ منورہ سے افضل اور حضور کو زیادہ پیارا ہے ان کی دلیل یہ حدیث ہے، امام مالک کے ہاں مدینہ منورہ مکہ مکرمہ سے افضل ہے،وہ اس حدیث کے متعلق فرماتے ہیں کہ اس میں پہلی حالت کا ذکر ہے،پھر حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو مدینہ منورہ زیادہ پیارا ہوگیا جیساکہ اگلے باب میں آرہا ہے۔فتویٰ یہی ہے کہ مکہ معظمہ مدینہ منورہ سے افضل ہے مگر عشاق کی نگاہ میں مدینہ منورہ افضل کیونکہ وہ محبوب کی آرام گاہ ہے۔

2725 -[11]

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ حَمْرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا عَلَى الْحَزْوَرَةِ فَقَالَ: «وَاللَّهِ إِنَّكِ لَخَيْرُ أَرْضِ اللَّهِ وَأَحَبُّ اللَّهِ إِلَى اللَّهِ وَلَوْلَا أَنِّي أُخْرِجْتُ مِنْكِ مَا خرجْتُ» . رَوَاهُ الترمذيُّ وَابْن مَاجَه

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عدی ابن حمراء سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو مقام حزورہ پر کھڑے ہوئے دیکھا ۱؎  حضور صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے تھے اﷲ کی قسم تو اﷲ کی ساری زمین میں بہترین زمین ہے اور اﷲ کی تمام زمین میں خدا کو زیادہ پیاری ہے ۲؎ اگر میں تجھ سے نکالا نہ جاتا تو کبھی نہ نکلتا۳؎ (ترمذی،ابن ماجہ)۴؎

۱؎ حزورہ بروزن قسورہ،ح کے فتح سے اور ز کے جزم سے،اس کے معنے ہیں چھوٹا ٹیلہ،چونکہ یہاں کبھی ٹیلہ تھا اس لیے اس جگہ کا نام حزورہ ہوگیا،بعض نے فرمایا کہ قبیلہ جرہم کے بعد وکیع ابن سلمہ ابن زبیر ابن ایاد کعبہ معظمہ کا متولی ہوا اس نے یہاں ایک عمارت بنائی جس میں اپنی لونڈی حزور کو ٹھہرایا اس کے نام سے یہ جگہ حزورہ کہلائی پھر یہاں مکہ معظمہ کا بازار رہا،اب وہاں مسجد حرام کا ایک دروازہ ہے جسے باب الوداع کہتے ہیں۔

 



Total Pages: 445

Go To
$footer_html