Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

۳؎ یعنی چونکہ ان لوگوں نے بھی اس لشکر کی تعداد بڑھائی ان کی اس جرم پر امداد کی اور مجرموں کے ساتھ رہے اس لیے یہ بھی سزا کے مستحق ہوگئے،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَاتَّقُوۡا فِتْنَۃً لَّا تُصِیۡبَنَّ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡکُمْ خَآصَّۃً وَاعْلَمُوۡۤا اَنَّ اللہَ شَدِیۡدُ الْعِقَابِ"۔معلوم ہوا کہ بروں کی امداد کرنا بھی برا،ہاں پھر قیامت میں یہ فرق ہوجائے گا کہ ان میں سے مؤمن مؤمنوں کے زمرے میں اٹھیں گے اور کافر کافروں کے ساتھ۔

2721 -[7] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يُخَرِّبُ الْكَعْبَة ذُو السويقتين من الْحَبَشَة»

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کعبہ کو حبشہ کا دو چھوٹی پنڈلیوں والا ڈھائے گا ۱؎ (مسلم،بخاری)

۱؎  سُوَیق ساق کی تصغیر ہے جس کے معنے ہیں چھوٹی پنڈلی،پتلی پنڈلی یا کمزور پنڈلی یعنی بہت پست قد دبلا پتلا کمزور شخص حبشہ کے لشکر میں ہوگا جو مکہ معظمہ پر غالب آنے کے بعد کعبہ معظمہ ڈھا دے گا،یہ واقعہ قیامت کے قریب ہوگا جس کے بعد دنیا برباد ہوجائے گی اور قیامت آجائے گی کیونکہ دنیا کی آبادی کعبہ معظمہ سے وابستہ ہے جب تک یہ ہے دنیا قائم ہے یہ گرا اور برباد ہوا کہ دنیا گئی،ان دو واقعات میں رب کی قدرت کا اظہار ہے کہ وہ بڑا لشکر جس کا ذکر پہلے گزرا کعبہ کو تباہ نہ کرسکے گا خود تباہ ہوجائے گا مگر یہ کمزور،دبلا آدمی کعبہ کو بربادکردے گا۔(اشعہ)

2722 -[8]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كَأَنِّي بِهِ أَسْوَدَ أَفْحَجَ يقْلعُها حجَراً حجَراً».رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرمایا گویا میں اسے دیکھ رہا ہوں کہ کالا چوڑی ٹانگوں والا ہے کعبہ کے پتھر پتھر اکھیڑ رہا ہے ۱؎ (بخاری)

۱؎  بِہٖ کا متعلق فعل پوشیدہ ہے مُتَلَبِّسٌ یا مُتَّصِلٌ اَسْوَدَ بِہٖ کی ضمیر کا حال ہے،افج وہ ناقص الخلقت انسان جس کی ٹانگیں چلتے میں چوڑی رہیں جیسے دودھ نکالتے وقت گائے بکری کی ٹانگیں یعنی گویا وہ میرے پاس ہے اور میں اس کی یہ حرکت دیکھ رہا ہوں کہ وہ کعبہ ڈھا رہا ہے اور اس کا ایک ایک پتھر گرارہا ہے،اس کے گرانے کو پتھروں کے گرنے کو آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں اور پتھر گرنے کی آواز کانوں سے سن رہا ہوں۔(از اشعہ)معلوم ہوا کہ نگاہ نبی ہمارے خواب و خیال سے زیادہ قوی ہے کہ اگلے پچھلے واقعات ملاحظہ فرمالیتی ہے۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

2723 -[9]

عَن يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «احْتِكَارُ الطَّعَامِ فِي الْحَرَمِ إِلْحَادٌ فِيهِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

روایت ہے حضرت یعلٰی ابن امیہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا حرم شریف میں غلہ بند رکھنا یہاں بے دینی کرنے کی طرح ہے ۱؎(ابوداؤد)

۱؎ احتکار کے معنے ہیں بوقت ضرورت انسان یا جانوروں کی خوراک کو روکنا تاکہ زیادہ قحط پڑنے پر فروخت کیا جائے،یہ حرکت ہر جگہ ہی جرم ہے کہ اس میں اﷲ کی مخلوق کی ایذا رسانی ہے مگر مکہ معظمہ میں ایسی حرکت بہت ہی سخت جرم ہے،وہاں احتکار کرنے والا ابوجہل



Total Pages: 445

Go To