Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

باب حرم مکۃ حرسھا اللہ تعالی

باب مکہ معظمہ حرم اللہ اس کی حفاظت فرمائے  ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎   مکہ معظمہ اوراس کے آس پاس کی وہ زمین جہاں شکار وغیرہ کرنا حرام ہے حرم شریف کہلاتا ہے،جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خانہ کعبہ میں سنگ اسود نصب فرمایا تو یہ بہت چمکدار تھا جہاں تک اس کی روشنی پہنچی وہاں تک حدود حرم مقرر ہوئے،ان حدود پر مینارہ قائم کردیئے گئے ہیں سوائے جدہ اور جعرانہ کی جانب کے کہ اس طرف مینارہ نہیں یہ علامات حرم سب سے پہلے ابراہیم علیہ السلام نے قائم فرمائے،پھر اسماعیل علیہ السلام نے،پھر عدنان ابن اوسی نے،پھر قریش نے،پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فتح مکہ کے سال،پھر حضرت عمر نے،پھرحضرت عثمان نے،پھرحضرت امیر معاویہ نے اب تک امیر معاویہ کے قائم کردہ نشان موجود ہیں،یہ حدود ہر طرف یکساں نہیں، قریب تر حدِ مقامِ تنعیم ہے جہاں سے عمرہ کے احرام باندھے جاتے ہیں وہاں ہی مسجد حضرت عائشہ ہے۔

2715 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ: «لَا هِجرةَ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا» . وَقَالَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ: «إِنَّ هَذَا الْبَلَدَ حَرَّمَهُ اللَّهُ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللَّهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَإِنَّهُ لَمْ يحِلَّ القتالُ فيهِ لأحدٍ قبْلي وَلم يحِلَّ لِي إِلَّا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللَّهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا يُعْضَدُ شَوْكُهُ وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهُ وَلَا يَلْتَقِطُ لُقَطَتُهُ إِلَّا مَنْ عَرَّفَهَا وَلَا يُخْتَلَى خَلَاهَا» . فَقَالَ الْعَبَّاسُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا الْإِذْخِرَ فَإِنَّهُ لِقَيْنِهِمْ وَلِبُيُوتِهِمْ؟ فَقَالَ: «إِلَّا الْإِذْخِرَ»

2716 -[2] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَفِي رِوَايَة لأبي هريرةَ: «لَا يُعضدُ شجرُها وَلَا يلتَقطُ ساقطتَها إِلاَّ مُنشِدٌ»

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا اب ہجرت نہ رہی ۱؎ لیکن جہاد اور نیت ہے ۲؎  اور جب جہاد کے لیے بلائے جاؤ تو نکل پڑو۳؎ اور فتح مکہ کے دن فرمایا کہ اس شہر کو اﷲ نے اس دن ہی حرم بنا دیا جس دن آسمان و زمین پیدا کیے لہذا یہ قیامت تک اﷲ کے حرم فرمانے سے حرام ہے ۴؎ اور مجھ سے پہلے کسی کے لیے اس شہر میں جنگ جائز نہ ہوئی ۵؎ اور مجھے بھی ایک گھڑی دن کی حلال ہوئی چنانچہ اب وہ تاقیامت اﷲ کے حرام کئے سے حرام ہے کہ نہ یہاں کے کانٹے توڑے جائیں۶؎ اور نہ یہاں کاشکار بھڑکایا جائے ۷؎  اور نہ یہاں کی گری چیز اٹھائی جائے ہاں جو اس کا اعلان کرے وہ اٹھائے ۸؎ اور نہ یہاں کی خشک گھاس کاٹی جائے ۹؎ حضرت عباس نے عرض کیا یارسول اﷲ اذخر کے سواء کہ وہ تو ہاروں اور یہاں کے گھروں میں کام آتی ہے ۱۰؎  فرمایا سوائے اذخر کے ۱۱؎ (مسلم،بخاری)اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ وہاں کے درخت نہ کاٹے جائیں اور سوا تلاش کرنے والے کے وہاں کی گری چیز کوئی نہ اٹھائے ۱۲؎

۱؎ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے مکہ معظمہ سے مدینہ پاک کی طر ف ہجرت فرما جانے کے بعد مکہ کے مسلمانوں پر ہجرت فرض تھی اور مکہ معظمہ میں بلا عذر رہنا حرام تھا کہ وہ جگہ دارالحرب ہوگئی تھی فتح مکہ سے وہ جگہ دارالاسلام بن گئی اوراب اس ہجرت کی فرضیت ختم ہو گئی یہاں یہ ہی ارشاد ہے یعنی مکہ معظمہ سے ہجرت کرجانا اب فرض نہ رہا لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ ہجرت قیامت تک ہے



Total Pages: 445

Go To