$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

2714 -[8]

وَعَن عبدِ الرَّحمنِ بنِ يَعمُرَ الدَّيْلي قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْحَجُّ عَرَفَةُ مَنْ أَدْرَكَ عَرَفَةَ لَيْلَةَ جَمْعٍ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ فَقَدْ أَدْرَكَ الْحَجَّ أيَّامُ مِنىً ثلاثةَ أيَّامٍ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

روایت ہے حضرت عبدالرحمن ابن یعمر دیلمی سے ۱؎ فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ حج عرفہ ہے جو مزدلفہ کی شب فجر طلوع ہونے سے پہلے عرفہ کا قیام پالے اس نے حج پالیا ۲؎ منٰی کے دن تین ہیں۳؎ تو جو دو دن میں جلدی کرے تو اس پر گناہ نہیں اور جو دیر سے لوٹے تو اس پر گناہ نہیں۴؎ (ترمذی،ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ،دارمی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن ہے صحیح ہے۔

۱؎  یعمر ی  کے فتح، ع  کے جزم،میم کے فتح سے ہے۔دیل د کے کسرہ،ی کے سکون سے،آپ صحابی ہیں،کوفہ میں رہے،خراسان میں وفات پائی۔

۲؎  یعنی حج کا رکن اعلٰی جس پر حج پانے نہ پانے کا مدار ہے وہ قیام عرفات ہے اس کے وقت میں اتنی گنجائش کردی گئی ہے کہ اگلی رات بھی نویں تاریخ میں شامل کردی گئی لہذا جو حاجی دسویں کی فجر سے پہلے پہلے اگر ایک ساعت کے لیے بھی عرفات پہنچ جائے اسے حج مل جائے گا،بعض علماء نے فرمایا کہ جمعہ کا بھی یہ ہی حال ہے کہ ہفتہ کی رات بھی اس میں شمار ہے کہ اس شب میں مرجانے والا جمعہ کا ہی میت ہوگا۔

۳؎ گیارھویں،بارھویں،تیرھویں بقر عید جنہیں ایام تشریق کہا جاتا ہے۔

۴؎ یعنی جو بارھویں بقر عید کو رمی کرکے لوٹ جائے وہ بھی گنہگار نہیں اور جو تیرھویں کی رمی کے لیے ٹھہر جائے وہ بھی گنہگار نہیں بلکہ ثواب پائے گا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ ہی عمل ہوا۔تیرھویں کی رمی زوال سے پہلے بھی ہوسکتی ہے،گیارھویں بارھویں کی رمی بعد زوال ہے،بعض کفار عرب دو دن ٹھہرنے کو برا کہتے تھے،بعض تین دن کو برا سمجھتے تھے،رب تعالٰی نے دونوں کی تردید قرآن میں فرمادی،نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے عمل شریف سے استحباب ثابت فرمایا۔


 



Total Pages: 445

Go To
$footer_html