$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

2708 -[2]

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَالَ كَفَّارُ قُرَيْشٍ دُونَ الْبَيْتِ فَنَحَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدَايَاهُ وَحَلَقَ وَقَصَّرَ أَصْحَابه. رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمر سے فرماتے ہیں ہم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ روانہ ہوئے ۱؎ تو کفار قریش بیت اﷲ شریف سے آڑے آگئے ۲؎ تب نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی ہدیاں قربانی کردیں اور آپ نے سر منڈادیا اور صحابہ نے بال کٹوادیئے ۳؎(بخاری)

۱؎ عمرہ کرنے       ۶ھ؁ میں چودہ سو صحابہ۔

۲؎ یعنی ہم کو انہوں نے بیت اﷲ تک نہ پہنچنے دیا۔اس سے اشارۃً معلوم ہوا کہ عمرہ کا فوت بیت اﷲ کے طواف سے روکنے سے ہوتا ہے مگر حج کا فوت عرفات سے روکے جانے پر ہوجاتا ہے۔

۳؎ یعنی بعض صحابہ نے بال منڈوائے اور بعض نے کتراوئے،ہمارے امام صاحب کے ہاں محصر پر یہ منڈانا کتروانا واجب نہیں،بعض کے ہاں واجب ہے لیکن کرنے پر کوئی کفارہ وغیرہ نہیں۔(طحاوی،مرقات)

2709 -[3]

وَعَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحَرَ قَبْلَ أَنْ يَحْلِقَ وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ بِذَلِكَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ

روایت ہے حضرت مسور ابن مخرمہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے سر منڈانے سے پہلے ذبح فرمایا اور اپنے صحابہ کو بھی اس کا حکم دیا ہے ۱؎ (بخاری)

۱؎ یہ واقعہ بھی حدیبیہ کا ہے کہ جب حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے بعد صلح مدینہ منورہ واپسی کا ارادہ فرمالیا تو ہدی وہاں ہی قربانی فرمادی اور سر منڈادیا۔امام اعظم قدس سرہ کے ہاں محصر پر منڈوانا یا کتروانا نہیں،حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا عمل و حکم شریف اس لیے تھا کہ لوگوں پر آپ کا مصمم ارادہ ظاہر ہوجائے کہ اب عمرہ کرنے کا ارادہ بالکل ہی ترک فرمادیا ہے اور واپسی کا ارادہ ہوچکا ہے اور جو کام ضرورۃً حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے کیے وہ سنت نہیں کہلاتے۔امام صاحب فرماتے ہیں کہ سر منڈانے یا کتروانے کا عبادت ہونا خاص جگہ اور خاص وقت میں ہے یعنی عمرہ یا حج کے ارکان ادا کرچکنے کے بعد،رب تعالٰی فرماتاہے:"لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنۡ شَآءَ اللہُ اٰمِنِیۡنَ  مُحَلِّقِیۡنَ رُءُوۡسَکُمْ وَ مُقَصِّرِیۡنَ"۔معلوم ہوا کہ بیت اﷲ میں داخل ہوکر عمرہ کرنے،حلق و قصر عبادت ہے،صاحبین کے ہاں محصر پر سر منڈانا ہے مگر نہ کرنے پر کوئی کفارہ وغیرہ لازم نہیں،تفصیل کتب فقہ میں ہے۔(اشعہ)

2710 -[4]

وَعَن ابنِ عمَرَ أَنَّهُ قَالَ: أَلَيْسَ حَسْبُكُمْ سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ إِنْ حُبِسَ أَحَدُكُمْ عَنِ الْحَجِّ طَافَ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ حَلَّ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى يَحُجَّ عَامًا قَابِلًا فَيَهْدِيَ أَوْ يَصُومَ إِنْ لَمْ يَجِدْ هَديا. رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے آپ نے فرمایا کیا تمہیں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت کافی نہیں اگر تم میں سے کوئی حج سے روک دیا جائے ۱؎ تو بیت اﷲ اور صفا مروہ کا طواف کرے پھر ہر چیز سے حلال ہوجائے حتی کہ سال آئندہ حج کرے ۲؎ تو ہدی لائے یا اگر ہدی میسر نہ ہو تو روزے رکھ لے ۳؎(بخاری)

۱؎ یہاں سنت سے مراد قولی سنت ہے یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان عالی نہ کہ عملی سنت کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم احرام عمرہ میں روکے گئے تھے نہ کہ احرام حج میں۔حج روک دیئے جانے کے معنے یہاں یہ ہیں کہ محرم مکہ معظمہ حج ہوچکنے کے بعد پہنچے یا کوئی دشمن یا بیماری اسے مکہ معظمہ سے عرفات نہ جانے دے تو وہ محرم حج اب عمرہ کرکے احرام کھول دے اور اگر محرم مکہ معظمہ پہنچ ہی نہ سکا اس کے احکام دوسرے ہیں۔

 



Total Pages: 445

Go To
$footer_html