Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

باب الاحصار و فوت الحج

روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب  ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  احصار حصر سے بنا بمعنی روکنا و باز رکھنا،رب تعالٰی فرماتاہے:"اُحۡصِرُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِشریعت میں احصاریہ ہے کہ انسان بعد احرام حج کرنے پر قادر نہ ہو۔مسئلہ احصار میں تین قسم کا اختلاف ہے:ایک یہ ہے کہ ہمارے امام اعظم کے ہاں دشمن،مرض،خرچہ، ہلاک ہوجانے،راستہ میں عورت محرمہ کے محرم مرجانے سے احصار ہوجاتا ہے،دیگر اماموں کے ہاں احصار صرف دشمن کافر سے ہوگا اور کسی وجہ سے نہیں۔دوسرے یہ کہ ہمارے مذہب میں احصار کی قربانی حرم شریف میں ہی بھیجی جائے گی کہ وہاں ذبح ہو،دیگر آئمہ کے ہاں جہاں احصار ہو وہاں ہی ذبح کردی جائے،وہ فرماتے ہیں کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی قربانی حدیبیہ میں ہی کردی تھی،ہم کہتے ہیں کہ وہ مجبورًا ہوا کہ وہاں سے حرم تک قربانی لے جانے والا کوئی نہ تھا،سب ہی روک دیئے گئے تھے ایسی مجبوری میں ہم بھی کہتے ہیں حل میں قربانی کردے۔(اشعہ)یا حدیبیہ کا بعض حصہ حرم میں داخل ہے،یہ قربانیاں داخل حرم والے حصہ میں ہوئیں۔تیسرے یہ کہ ہمارے ہاں محصر پر قضا واجب ہے،امام شافعی کے ہاں نہیں مگر حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا عمرہ قضا ہماری تائیدکرتا ہے۔حج کا فوت قیام عرفات رہ جانے سے ہوتا ہے،قیام عرفات کا وقت نویں بقر عید کے زوال سے دسویں کی پو پھٹنے تک ہے اگرچہ ایک ساعت ہی وہاں ٹھہر جائے حتی کہ تنگی کے وقت اس وقوف کے لیے نماز عشاء قضا کردے۔(اشعہ و مرقات)

2707 -[1]

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَدْ أُحْصِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَلَقَ رَأَسَهُ وَجَامَعَ نِسَاءَهُ وَنَحَرَ هَدْيَهُ حَتَّى اعْتَمَرَ عَامًا قَابلا. رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم روک دیئے گئے تھے تو آپ نے سر شریف منڈادیا تھا اور اپنی بیویوں سے صحبت فرمائی اپنی ہدی قربان کر دی حتی کہ اگلے سال عمرہ کیا ۱؎(بخاری)

۱؎ یعنی       ۶ھ؁  میں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے عمرہ کا احرام باندھا،حدیبیہ کے میدان میں کفار مکہ نے آپ کو عمرہ سے روک دیا تب آپ اس میدان میں حلال ہو گئے اور وہاں ہی قربانی احصار دے دی،سال آئندہ      ۷ھ؁ میں آپ نے اس فوت شدہ عمرہ کی قضا کی۔اس قضا سے معلوم ہوا کہ نفلی عبادت شروع کردینے سے واجب ہوجاتی ہےکہ اس کی قضا ہوتی ہے،شوافع کہتے ہیں کہ یہ دوسرا عمرہ نفلی تھا اس لیے سب نے ادا نہ کیا،سال حدیبیہ میں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ چودہ۱۴ سو صحابہ تھے قضا میں سات سو بھی نہ تھے،اگر قضا واجب ہوتی تو سب کرتے،ہم کہتے ہیں کہ سب نے قضا کی بعض نے حضو ر انور صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ بعض نے بعد میں۔ (مرقات)اگر یہ دوسرا عمرہ نفلی ہوتا تو اسے عمرہ قضا نہ کہا جاتا۔

2708 -[2]

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَالَ كَفَّارُ قُرَيْشٍ دُونَ الْبَيْتِ فَنَحَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدَايَاهُ وَحَلَقَ وَقَصَّرَ أَصْحَابه. رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمر سے فرماتے ہیں ہم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ روانہ ہوئے ۱؎ تو کفار قریش بیت اﷲ شریف سے آڑے آگئے ۲؎ تب نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی ہدیاں قربانی کردیں اور آپ نے سر منڈادیا اور صحابہ نے بال کٹوادیئے ۳؎(بخاری)

 



Total Pages: 445

Go To