$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

2702 -[7]

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ السَّبُعَ الْعَادِيَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ

روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ حضور نے فرمایا محرم حملہ کرنے والے درندہ کو قتل کرسکتا ہے ۱؎ (ترمذی،ابوداؤد، ابن ماجہ)

۱؎  اس کے دو معنے ہوسکتے ہیں:ایک یہ کہ جب درندہ محرم پر حملہ کرے تو محرم اسے قتل کرسکتا ہے ورنہ نہیں۔دوسرے یہ کہ حملہ کرنے والے درندوں کا قتل محرم کو جائز ہے یعنی درندے چونکہ حملہ کرنے کے عادی ہوتے ہیں لہذا ان کا قتل محرم کوبھی درست ہے۔

2703 -[8]

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِيِ عَمَّارٍ قَالَ: سَأَلت جابرَ بنَ عبدِ اللَّهِ عَنِ الضَّبُعِ أَصَيْدٌ هِيَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ فَقُلْتُ: أَيُؤْكَلُ؟ فَقَالَ: نَعَمْ فَقُلْتُ: سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَالشَّافِعِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حديثٌ حسنٌ صَحِيح

روایت ہے حضرت عبدالرحمان ابن ابی عمار سے فرماتے ہیں میں نے حضرت جابر بن عبداﷲ سے بِجّو  کے متعلق پوچھا کہ کیا وہ شکار ہے فرمایا ہاں ۱؎ میں نے کہا کیا اسے کھایا جاسکتا ہے فرمایا ہاں میں نے کہا کہ یہ آپ نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا ہے فرمایا ہاں ۲؎ (ترمذی،نسائی،شافعی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث صحیح ہے۔

۱؎  یعنی کیا بِجّو  خشکی کاشکار ہے جو محرم کو کرنا حرام ہے آ پ نے جواب دیا ہاں خشکی کا شکارہے  لہذا  اگر محرم اس کا شکار کرے گا تو قیمت واجب ہوگی۔

۲؎ یہ حدیث امام شافعی و امام احمد کی دلیل ہے،امام اعظم و مالک کے ہاں حرام،ان کی دلیل آگے آرہی ہے،نیز صحیح حدیث میں ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے ہر کیل والے جانور سے منع فرمایا اور بِجّو کیل دار جانور ہے لہذا حرام ہے اور یہ حدیث منسوخ ہے۔

2704 -[9]

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الضَّبُعِ؟ قَالَ: «هُوَ صَيْدٌ وَيُجْعَلُ فِيهِ كَبْشًا إِذَا أَصَابَهُ الْمُحْرِمُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه والدارمي

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے بِجّو کے متعلق پوچھا فرمایا وہ شکار ہے ۱؎ اور جب محرم اسے شکار کرے تو اس کے عوض بھیڑ دے دے ۲؎(ابوداؤد، ابن ماجہ،دارمی)

۱؎  خیال رہے کہ لفظ ضبع مؤنث ہے لہذا ھوضمیر کا مذکر لانا یا تو اس لیے ہے کہ اس کی خبر یہاں صید مذکر ہے یا ضبع سے مراد بِجّو کی جنس ہے۔حضرت جابر کے سوال کا منشاء یہ ہے کہ بِجّو کے قتل میں محرم پر جزیہ یا کفارہ ہے یا نہیں،اگر یہ موذی جانوروں سے ہے تب تو اس کا قتل محرم کو جائز ہے اور کفارہ وغیرہ بھی اس میں کچھ نہیں،اگر شکاری جانوروں سے ہے تو محرم کو اس کا قتل کرنا بھی حرام ہوگا اور اس کی قیمت بھی دینا ہوگی،فرمایا یہ موذی نہیں بلکہ شکار ہے۔

۲؎ یعنی محرم کے اس شکارکرلینے پر اس کے عوض ایک بھیڑ خیرات کرنی ہوگی،امام شافعی کے ہاں حلال شکار پر جزا واجب ہوتی ہے حرام شکار پر نہیں،ہمارے امام اعظم کے ہاں مطلقًا شکار پر جزا واجب ہے جانور حرام ہو یا حلال لہذا ہمارے اصول پر اس حدیث سے بِجّو کی حلت ثابت نہ ہوگی۔

2705 -[10]

وَعَن خُزَيمةَ بنَ جَزَيّ قَالَ: سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ الضَّبُعِ. قَالَ: " أَوَ يَأْكُلُ الضَّبُعَ أَحَدٌ؟ . وَسَأَلْتُهُ عَنْ أَكْلِ الذِّئْبِ. قَالَ: «أوَ يَأَكلُ الذِّئْبَ أَحَدٌ فِيهِ خَيْرٌ؟» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: لَيْسَ إِسْنَاده بِالْقَوِيّ

روایت ہے حضرت خزیمہ ابن جزی سے ۱؎ فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے بِجّو کھانے کے متعلق پوچھا تو فرمایا کوئی بِجّو بھی کھاتا ہے ۲؎  اور آپ سے بھیڑیا کھانے کے متعلق پوچھا تو فرمایا کہ جس میں بھلائی ہو وہ بھیڑیا کھاسکتا ہے۳؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا کہ اس کی اسناد قوی نہیں۴؎

 



Total Pages: 445

Go To
$footer_html