Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

الفصل الثانی

دوسری فصل

2700 -[5]

عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَحْمُ الصَّيْدِ لَكُمْ فِي الْإِحْرَامِ حَلَالٌ مَا لَمْ تَصِيدُوهُ أَوْ يُصَادُ لَكُمْ».رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ

روایت ہے حضرت جابر سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا تمہارے لیے شکاری گوشت حلال ہے جب تک کہ تم نے اسے شکار نہ کیا ہو ۱؎ یا تمہارے لیے شکار نہ کیا گیا ہو ۲؎(ابوداؤد، ترمذی،نسائی)

۱؎ محرم کے شکار کی دو صورتیں ہیں:ایک یہ کہ محرم بذات خود شکار کو قتل کرے یہ جانور تو تمام مسلمانوں کے لیے حرام ہے کہ محرم کا شکار کسی کو حلال نہیں۔دوسرے یہ کہ محرم حلال کو شکار بتائے یا مدد کرے،یہ شکار حلال تو کھاسکتا ہے محرم نہیں کھاسکتا مگر ان دونوں صورتوں میں محرم پر شکار کی قیمت خیرات کرنی ہوگی،تصیدوہ  میں دونوں صورتیں داخل ہیں۔

۲؎ یہ مذہب شافعی ہے کہ اگر محرم کے لیے کوئی حلال شکار کرے تو محرم کو اس کا کھانا حرام ہے،ہمارے ہاں حلال ہے،ہماری دلیل حضرت ابوقتادہ کی گزشتہ حدیث ہے۔اس حدیث کی توجیہ ہمارے ہاں یہ ہے حلال زندہ شکار محرم کے لیے پکڑے اور پیش کرے یا اس میں کسی محرم کی مدد شامل ہو تاکہ یہ حدیث حضرت ابوقتادہ کی حدیث کے خلاف نہ ہو،ہاں اگر محرم کے حکم سے حلال نے شکار کیا تو بھی محرم کو حرام ہے یصادلکم کی یہ تین توجیہیں ہوئیں۔(لمعات)

2701 -[6]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْجَرَادُ مِنْ صَيْدِ الْبَحْرِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ فرمایا ٹڈی دریائی شکار سے ہے  ۱؎ (ابوداؤد،ترمذی)۲؎

۱؎ بعض علماء نے اس حدیث سے ثابت کیا،ٹڈی کا شکار محرم کرسکتا ہے کہ یہ دریائی شکار ہے،رب تعالٰی نے فرمایا:" اُحِلَّ لَکُمْ صَیۡدُ الْبَحْرِ"۔ہمارے امام اعظم کے ہاں ٹڈی خشکی کا شکار ہے کہ یہ خشکی میں ہی انڈے بچے دیتی ہے اور خشکی ہی میں جنتی پلتی ہے اور خشکی کے ہی پتے وغیرہ کھاتی ہے۔اس حدیث کے متعلق احناف کہتے ہیں کہ ٹڈی دو قسم کی ہے:بحری و بری۔بحری ٹڈی مچھلی کے ناک سے کیڑوں کی طرح نکلتی ہے،یہاں اسی کا ذکر ہے اور اگر یہ ٹڈی معروفہ ہی مراد ہو تو مطلب یہ ہے کہ یہ بھی دریائی شکار یعنی مچھلی کی طرح بغیر ذبح حلال ہے۔مؤطا امام مالک میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ"تمرۃ خیر من جرادۃ"یعنی اگر محرم ٹڈی کا شکار کرے تو ایک کھجور خیرات کرے،حضرت کعب نے فرمایا تھا کہ ٹڈی کے شکار پر محرم ایک درہم خیرات کرے،اس کے جواب میں حضرت عمر نے یہ فرمایا اگر اس کے شکار پر قیمت واجب نہ ہوتی تو یہ حضرات اس کی قیمت کے تخمینے کیوں لگاتے۔ (مرقات ولمعات)

۲؎ تمام محدثین اس پرمتفق ہیں کہ یہ حدیث اسنادًا ضعیف ہے۔(مرقات)

2702 -[7]

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ السَّبُعَ الْعَادِيَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ

روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ حضور نے فرمایا محرم حملہ کرنے والے درندہ کو قتل کرسکتا ہے ۱؎ (ترمذی،ابوداؤد، ابن ماجہ)

 



Total Pages: 445

Go To