$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

۵؎ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ عملی جواب دیا کہ اس کا کھانا حلال ہے کیونکہ اس شکار میں کسی محرم کی مدد اور تعاون شامل نہیں۔جواب قولی بھی ہوتا ہے عملی بھی مگر عملی جواب قوی تر ہے۔(مرقات)

۶؎ اس سے معلوم ہوا کہ اگر غیرمحرم شکارکرے اورمحرم کسی قسم کی اس میں مدد نہ دے تو محرم اس کا گوشت کھاسکتا ہے خواہ اس نے صرف اپنے لیے شکار کیا ہو یا محرم کے لیے بھی کیونکہ حضرت ابوقتادہ نے اتنا بڑا گورخر صرف اپنے لیے تو مارا نہ تھا سب کو کھلانے کی نیت تھی لہذا یہ حدیث امام اعظم کی دلیل قوی ہے۔دلالۃ و اشارۃ میں فرق یہ ہے کہ دلالت یعنی رہبری تو زبان سے بتانا ہے اور اشارہ ہاتھ سے،بعض نے فرمایا کہ غائب چیزکا بتانا دلالت ہے اور حاضر چیزکو دکھانا اشارہ۔(مرقات)

2698 -[3] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " خَمْسٌ لَا جُنَاحَ عَلَى من قتلَهُنّ فِي الْحل وَالْإِحْرَامِ: الْفَأْرَةُ وَالْغُرَابُ وَالْحِدَأَةُ وَالْعَقْرَبُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ "

روایت ہے حضرت ابن عمر سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا پانچ جانور وہ ہیں ۱؎ جنہیں احرام میں قتل کرنے والے پر گناہ نہیں:چوہا،کوّا،چیل،بچھو اور دیوانہ کتا ۲؎(مسلم،بخاری)

۱؎ یہ پانچ جانورموذی ہیں یعنی اپنے نفع کے بغیر دوسرے کا نقصان کردینے والے،ان کا قتل ہر جگہ اور ہر حال میں درست ہے،موذی کی یہ تعریف خیال میں رہے۔

۲؎ یعنی یہ پانچ جانور چونکہ موذی ہیں کہ ابتداءً لوگوں کو ستاتے ہیں اور بغیر اپنے نفعے کے لوگوں کا نقصان کردیتے ہیں لہذا انہیں ہر جگہ حل و حرم اور ہر حالت حلال و حرام میں قتل کرسکتے ہو۔حداءۃٌ بروزن عِنَبَۃٌ اس کے معنے ہیں چیل،اسی سے حُدَیَّۃٌ تصغیر بن جاتی ہے۔دیوانہ کتا فرمانے سے معلوم ہوا کہ شکاری یا آوارہ یا پالتو کتا مارنا درست نہیں کہ یہ موذی نہیں۔(مرقات)خیال رہے کہ ان پانچ کا ذکر حصر کے لیے نہیں لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں زیادہ جانور کا ذکر ہے۔چنانچہ سانپ،درندہ شکاری موذی جانور جیسے شیر،بھیڑیا وغیرہ بھی حل و حرم میں،احرام و احلال میں قتل کیا جائے۔بعض علماء نے شیر وغیرہ میں حملہ کی قید لگائی کہ اگر یہ حملہ کریں تو دفاعی طور پر انہیں مارا جاسکتا ہے۔

2699 -[4]

وَعَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " خَمْسٌ فَوَاسِقُ يُقْتَلْنَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ: الْحَيَّةُ وَالْغُرَابُ الْأَبْقَعُ وَالْفَأْرَةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ وَالْحُدَيَّا "

روایت ہے حضرت عائشہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ فرمایا پانچ جانورموذی ہیں حل و حرم میں قتل کیے جائیں ۱؎  سانپ چتکبرا،کوا،چوہا،دیوانہ کتا اور چیل۲؎(مسلم،بخاری)

۱؎ موذی کے معنے ابھی عرض کیے جاچکے ہیں کہ اپنے فائدہ کے بغیر انسان کا نقصان کردینے والا جانور لہذا جوں کھٹمل وغیرہ اگرچہ تکلیف دہ ہیں مگر شرعی موذی نہیں کہ وہ اپنا پیٹ بھرنے کو ہمیں کاٹتے ہیں۔

۲؎ چتکبرا کوا جنگلی کوّے کو کہتے ہیں جس کی پیٹھ و پیٹ سفید باقی جسم سیاہ ہوتا ہے،چتکبرا کتا بھی ہوتا ہے آدمی بھی۔ چنانچہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا تھا کہ میں ایک چتکبرے کتے کو دیکھتا ہوں کہ میرے اہل بیت کا خون کررہا ہے۔چنانچہ شمر مردود حضرت حسین علیہ السلام کا قاتل کوڑھی تھا،جسم پر سفید داغ والا۔(اشعہ)حق یہ ہے کہ پانچ میں حصر نہیں اور جانوربھی موذی ہیں جن کا قتل حرم و احرام میں درست ہے۔(لمعات)

 



Total Pages: 445

Go To
$footer_html