Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

باب المحرم یجتنب الصید

باب محرم شکار سے بچے  ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ اگر بابٌ کو تنوین پڑھی جائے تو یہ ھذا پوشیدہ کی خبرہے اور المحرم مبتدا یجتنب خبر اور اگر باب کو تنوین نہ پڑھی جائے تو المحرم بوجہ مضاف الیہ ہونے کے مجرور ہوگا اور یجتنب اس کا حال۔صید کے معنے ہیں شکارکرنا یا شکار کھانا یعنی محرم شکار کرنے سے بچے یا شکار کھانے سے بچے۔خیال رہے کہ محرم کو دریائی شکار مطلقًا حلال ہے جانور حلال ہو یا حرام دریا حرم کا ہو یا بیرون حرم کا، رہا خشکی کا شکار اس میں تفصیل ہے۔درندے و شکاری جانورکا شکار حلال ہے جیسے سانپ،شیر،بھیڑیا وغیرہ،دیگر حرام جانور جو بذات خود موذی تو نہیں مگر کبھی حملہ کردیتے ہیں تو حملہ کرنے کی صورت میں ان کا شکار حلال ہے ورنہ نہیں،حلال جانور کا نہ خود شکار کرے نہ شکاری کی امداد کرے،نہ اس کی طرف اشارہ کرے،اگر کرے گا تواس کی قیمت دینا ہوگی،رہا شکار کھانا اس میں بہت تفصیل اور آئمہ کا بہت اختلاف ہے۔ مذہب امام اعظم یہ ہے کہ محرم کا کیا ہوا شکار حرام خواہ خود ہی شکارکرے یا دوسرا محرم یا اس محرم کی امداد یا اشارہ سے حلال شکارکرے،رہا حلال کا شکار وہ محرم کھاسکتا ہے خواہ اس نے اپنے لیے کیا ہو یا محرم کے لیے جیساکہ حدیث ابو قتادہ میں آئے گا،رب تعالٰی فرماتاہے:"اُحِلَّ لَکُمْ صَیۡدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُہٗ مَتٰعًا لَّکُمْ وَلِلسَّیَّارَۃِ"اور فرماتاہے:"وَحُرِّمَ عَلَیۡکُمْ صَیۡدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا"۔خیال رہے کہ شکار وہ جانور ہے جو خلقت کے لحاظ سے وحشی ہو،اس کی پیدائش و پرورش جنگل میں ہو۔(از مرقات و اشعہ)

2696 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَن الصعب بن جثامة أَنه أهْدى رَسُول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارًا وَحْشِيًّا وَهُوَ بِالْأَبْوَاءِ أَوْ بِوَدَّانَ فَرَدَّ عَلَيْهِ فَلَمَّا رأى مَا فِي وَجْهَهُ قَالَ: «إِنَّا لَمْ نَرُدَّهُ عَلَيْكَ إِلَّا أنَّا حُرُمٌ»

روایت ہے حضرت صعب ابن جثامہ سے ۱؎  کہ انہوں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں گورخرپیش کیا ۲؎  جب کہ حضور انور مقام ابواء یا ودّان میں تھے ۳؎ تو آپ نے وہ واپس فرمادیا پھر جب حضور نے ان کے چہرے کی حالت دیکھی تو فرمایا کہ ہم نے صرف اس لیے واپس کیا کہ ہم محرم ہیں ۴؎(مسلم،بخاری)

۱؎ آپ صحابی ہیں،حضرت ابن عباس آپ سے احادیث لیتے ہیں،خلافت صدیقی میں وفات ہوئی۔(اشعہ،اکمال)

۲؎ بعض روایات میں ہے کہ زندہ جانور پیش کیا تھا اور بعض میں ہے کہ ذبح کرکے اس کا کوئی عضوپاؤں سرین وغیرہ، ہوسکتا ہے کہ پہلے زندہ گورخر پیش کیا ہو بعد میں ذبح کرکے اس کا کوئی عضو لہذا احادیث میں تعارض نہیں،حمار وحشی کا فارسی میں نام گورخر ہے اردو میں بھی یہی ہے۔

۳؎ ابواء مدینہ منورہ سے دس میل فاصلہ پر مکہ معظمہ کے شرقی قدیمی راستہ پر ہے اور ودّان آٹھ میل فاصلہ پر،ابواء کے مقام میں حضرت آمنہ خاتون رضی اللہ عنہا کا مزار مقدس ہے۔اﷲ تعالٰی کبھی مجھے وہاں کی حاضری نصیب کرے تو ان کی تربت اطہر کی مٹی کا سرمہ لگاؤں، حضرت صعب مقام ابواء کے رہنے والے تھے۔

۴؎ یعنی جب حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کا شکار واپس کیا تو انہیں رنج ہوا جس کا اثر ان کے چہرے پرمحسوس ہوا تب حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کی تسلی اس ارشاد عالی سے فرمادی،اگر زندہ شکار کو واپس فرمایا ہے تب تو حدیث بالکل ظاہر ہے کہ محرم کو زندہ



Total Pages: 445

Go To