Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

صاحب کے ہاں قربانی اور صاحبین کے ہاں صدقہ واجب ہے مگر جب کہ خوشبو کے لیے ملا جائے،اگر دواءً استعمال یا اس کی مالش کی جائے تو ہمارے یہاں بھی کچھ واجب نہیں،دیگر آئمہ کے ہاں ان تیلوں سے کچھ واجب نہیں،امام اعظم رضی اللہ عنہ کے یہاں اس حدیث میں دواءً تیل لگانا مراد ہے،دوسرے اماموں کے ہاں خوشبوکے لیے لگانا مرادلہذا یہ حدیث امام اعظم رضی اللہ عنہ کے خلاف نہیں۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

2692 -[15]

عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ وَجَدَ الْقُرَّ فَقَالَ: ألق عَليّ ثوبا نَافِعُ فَأَلْقَيْتُ عَلَيْهِ بُرْنُسًا فَقَالَ: تُلْقِي عَلَيَّ هَذَا وَقَدْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَلْبَسَهُ الْمُحْرِمُ؟ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد؟

روایت ہے حضرت نافع سے کہ حضرت ابن عمر نے سردی محسوس کی تو فرمایا اے نافع مجھ پر کپڑ اڈال دو ۱؎  تو میں نے آپ پر ایک برنس ڈال دی ۲؎ تو آپ نے فرمایا کہ کیا تم مجھ پہ ڈالتے ہو حالانکہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے محرم کو اس کے پہننے سے منع فرمایا۳؎(ابوداؤد)

۱؎ حضرت ابن عمر محرم تھے،موسم سرد تھا یا اتفاقًا سردی ہوگئی جیسے کبھی جون جولائی میں بھی بارش یا اولے پڑ جانے سے عارضی سردی ہوجاتی ہے۔

۲؎ برنس لمبی ٹوپی کو بھی کہتے ہیں اور لمبی چادر کو بھی جو سربھی ڈھانپ لے،یہاں دوسرے معنے مراد ہیں یعنی میں نے ان پر وہ لمبی چادر ڈال دی جس سے ان کا سر بھی ڈھک گیا،برنس میں ایسی سلائی ہوتی ہے جس میں سر ڈھکنے کا حصہ بن جاتا ہے۔

۳؎ خیال رہے کہ محرم کو سلا کپڑا پہننا منع ہے حتی کہ اس کا اپنے پر ڈالنا۔پہننایہ ہے کہ سلائی کے ذریعہ کپڑا جسم پر رُکے،ڈالنا یہ ہے کہ کسی اور ذریعہ سے اسے روکا جائے۔حضرت ابن عمر نے یا تو اس لیے منع فرمایا کہ آپ کا سر ڈھک گیا تھا اور محرم کو سر ڈھانپنا منع ہے یا آپ نے سلا کپڑا ڈالنا بھی مکروہ سمجھا۔فتح القدیر میں فرمایا کہ سلا کپڑا اس طرح اپنے پر ڈالنا کہ پہننے کے مشابہ ہوجائے مکروہ ہے۔ (مرقات)

2693 -[16] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ بن بُحَيْنَةَ قَالَ: احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ بِلَحْيِ جَمَلٍ مِنْ طريقِ مكةَ فِي وسط رَأسه

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن مالک ابن بحینہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے بحالت احرام اپنے سر کے وسط میں مکہ معظمہ کے راستہ میں لُحی جمل میں پچھنے لگوائے ۱؎ (مسلم، بخاری)

۱؎ ظاہر ہے کہ وسط پر بال ہوتے ہیں وہ دور کئے  بغیر وہاں فصد نہیں ہوسکتی اور بال اکھیڑنا،مونڈنا بحالت احرام جرم ہے اس لیے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے ضرورۃً یہاں کے بال علیحدہ کر کے فصد کھلوائی ہوگی اور بعد میں فدیہ بھی ادا کردیا ہوگا،یہاں فدیہ کا ذکر نہیں ہے، سرمنڈانے پر فدیہ واجب ہوناآیت قرآنی سے ثابت ہے۔ہماری اس توجیہ کی بنا پر نہ تو حدیث قرآنی آیت کے خلاف ہے اور نہ ان احادیث کے جن میں حاجی کو فصد لینے یا بال منڈانے سے منع فرمایا گیا ہے کہ یہ عمل ضرورۃً تھا اور وہ فرمان بلاضرورت کی صورت میں ہے۔

2694 -[17]

وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: احْتَجَمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ عَلَى ظَهْرِ الْقَدَمِ مِنْ وَجَعٍ كَانَ بِهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں ۱؎ کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے بحالت احرام ایک درد کی وجہ سے جو آپ کو تھا قدم کی پشت پرپچھنے لگوائے ۱؎(ابوداؤد،نسائی)

 



Total Pages: 445

Go To