$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

۱؎ یعنی عورت کو بحالت احرام تین چیزیں منع ہیں:دستانہ پہننا،چہرے پر نقاب اس طرح ڈالنا کہ کپڑا منہ کو لگے،بدن یا کپڑے پر خوشبو ملنا۔

۲؎  بعد ذلك کے معنے اشعۃ اللمعات میں تو یہ کئے کہ احرام کے بعد جو چاہے پہنے کہ مانع جاتا رہا  مگر مرقات میں بعد کے معنے کئے سواء ذالك سے اشارہ کیا گزشتہ تین چیزوں کے طرف اور معنے یہ کئے کہ ان تین لباسوں کے علاوہ محرمہ عورت بحالت احرام جو چاہے لباس پہنے۔مطلب یہ ہے کہ عورت پر مردوں کی سی پابندی نہیں سر نہ ڈھکے یا سلے کپڑے نہ پہنے وغیرہ بلکہ اسے سر ڈھکنا،سلے کپڑے پہننا سب جائز ہے بلکہ اگر نقاب چہرے سے الگ رہے تو وہ بھی جائز ہے،مرقات کے یہ دوسرے معنے زیادہ قوی معلو م ہوتے ہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم!

2690 -[13]

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ الرُّكْبَانُ يَمُرُّونَ بِنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمَاتٌ فَإِذَا جَاوَزُوا بِنَا سَدَلَتْ إِحْدَانَا جِلْبَابَهَا مِنْ رَأْسِهَا عَلَى وجهِها فإِذا جاوزونا كشفناهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَلابْن مَاجَه مَعْنَاهُ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ ہم پر قافلے گزرے تھے جب کہ ہم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ احرام باندھے ہوئے تھے جب قافلے ہم پر گزرتے ۱؎ تو ہم میں سے ہر ایک اپنے سر سے چہرے پر چادر ڈال لیتی ۲؎ پھر جب وہ آگے بڑھ جاتے تو ہم منہ کھول لیتے تھے ۳؎(ابوداؤد)ابن ماجہ کی روایت میں اس کے معنی ہیں۔

۱؎ یعنی ویسے تو ہم اپنی سہیلیوں کے ساتھ اپنے چہرے کھلے رکھتے تھے مگر جب قافلے ہم پر گزرتے تو ان میں مرد بھی ہوتے تھے ان سے ہم پردہ کرنے کی کوشش کرتے تھے لہذا اس حدیث سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ حضرات اپنے مدینہ والے مردوں سے پردہ نہ کرتی تھیں،جیسا کہ بعض لوگوں نے سمجھا،پردہ ہر اس مرد سے واجب ہے جس سے نکاح درست ہو،خواہ مدینہ کا ہو یا باہر کا۔

۲؎ مگر ا سطرح کہ چادر کا یہ حصہ چہرے سے مس نہ کرے اس سے علیحدہ رہے کہ اس میں پردہ بھی ہوگیا،نقاب چہرے سے مس بھی نہ ہو،لہذا یہ حدیث گزشتہ نقاب کی ممانعت کی حدیث کے خلاف کے نہیں۔

۳؎ کیونکہ اب کوئی نامحرم مرد نہ رہتا تھا جس سے پردہ ہو۔خیال رہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی بیویاں تمام مسلمانوں کی مائیں ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ اَزْوَاجُہٗۤ اُمَّہٰتُہُمْ"مگر پردہ حجاب ان پر بھی فرض ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَ اِذَا سَاَلْتُمُوۡہُنَّ مَتٰعًا فَسْـَٔلُوۡہُنَّ مِنۡ وَّرَآءِ حِجَابٍ"اب موجودہ زمانہ کی بے پردہ عورتوں کو اس حدیث سے عبرت لینا چاہیے۔

2691 -[14]

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدَّهِنُ بالزيت وَهُوَ محرمٌ غيرَ المقنّتِ يَعني غيرَ المطيَّبِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم بحالت احرام روغن زیتون لگالیتے تھے جو کسی خوشبو سے مہکایا نہ جاتا تھا ۱؎(ترمذی)

۱؎  مقتت تقتیت سے بنا بمعنی روغن کو خوشبو سے مہکانا یا تو خوشبو کے ساتھ پکا کر یا تلوں وغیرہ کو پھولوں میں بسا کر یا تیل میں پھول ڈال کر،یہ سب تقتیت کی صورتیں ہیں۔خیال رہے کہ خوشبودار تیل عضو کامل پر لگانے سے محرم پر بالاتفاق قربانی واجب ہے مگر خالص تل یا زیتون کے تیل لگانے میں اختلاف ہے،امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ اسے خوشبو مانتے ہیں کہ اس کے لگانے سے امام



Total Pages: 445

Go To
$footer_html