Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

باب ما یجتنبہ المحرم

باب جن چیزوں سے محرم بچے  ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  یعنی بحالت احرام محرم کون کام کرسکتاہے اور کون کام نہیں کرسکتا،نہ کرسکنے میں تمام ممنوعات داخل ہیں خواہ ان سے قر بانی واجب یا صدقہ یعنی آدھا صاع(سوا دوسیر)گندم یا ایک صاع(ساڑھے چار سیرجَو)یا کچھ و اجب نہ ہو مگر اس کا کرنا اچھا۔اس باب میں یہ تمام چیزیں مذکور ہیں اور ان کی تفصیل کتب فقہ سے معلوم ہوسکتی ہیں،حج میں ترک واجب سے قربانی واجب ہوجاتی ہے۔

2678 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا يلبس مِنَ الثِّيَابِ؟ فَقَالَ: «لَا تَلْبَسُوا الْقُمُصَ وَلَا الْعَمَائِمَ وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ وَلَا الْبَرَانِسَ وَلَا الْخِفَافَ إِلَّا أَحَدٌ لَا يَجِدُ نَعْلَيْنِ فَيَلْبَسُ خُفَّيْنِ وليقطعهما أَسْفَل الْكَعْبَيْنِ وَلَا تَلْبَسُوا مِنَ الثِّيَابِ شَيْئًا مَسَّهُ زَعْفَرَانٌ وَلَا وَرْسٌ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَزَادَ الْبُخَارِيُّ فِي رِوَايَةٍ: «وَلَا تَنْتَقِبُ الْمَرْأَةُ الْمُحْرِمَةُ وَلَا تلبس القفازين»

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمر سے کہ ایک شخص نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا کہ محرم کون سے کپڑے پہنے ۱؎ تو فرمایا کہ نہ قمیص پہنو،نہ پگڑیاں،نہ پائجامے اور نہ ٹوپیاں ۲؎ نہ موزے بجز اس کے جو جوتے نہ پائے تو وہ موزے پہن لے اورا نہیں ٹخنوں کے نیچے کاٹ لے ۳؎  اور نہ وہ کپڑے پہنو جنہیں زعفران لگا ہو نہ وہ جنہیں ورس لگا ہو ۴؎(مسلم،بخاری)اور ایک روایت میں بخاری نے زیادہ کیا کہ محرمہ عورت منہ پر نقاب نہ ڈالے اور نہ دستانے پہنے ۵؎

۱؎ سائل کو سوال کرنا نہ آیا پوچھنے والی بات یہ تھی کہ کون سے کپڑے نہ پہنے،اس لیے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے نہ پہننے والے کپڑے بتائے جواب حکیمانہ دیا۔

۲؎ چونکہ روئے سخن مرد حجاج کی طرف ہے اس لیے پگڑی وہ ٹوپی کا بھی ذکر فرمایا،مطلب یہ ہے کہ مرد حاجی سلا کپڑا نہ پہنے اور نہ سر ڈھکے ان دونوں حکموں سے عورتیں علیحدہ ہیں۔ پہننے سے مراد عادت کے مطابق پہننا ہے پائجاموں میں پاؤں ڈال کر اور قمیص کی آستینوں میں ہاتھ ڈال کر،اگر کوئی محرم تہبند کی طرح پائجامہ لپیٹ لے اور چادر کی طرح قمیص اوڑھ لے تو جائزہے کہ یہ لبس یعنی پہننا نہیں۔ برنس ایک خاص قسم کی لمبی ٹوپی کو کہتے ہیں جو پہلے مروج تھی مگر یہاں مطلقًا سر ڈھکنے والی چیز مراد ہے لہذا محرم سر پر کپڑا،چادر، دوپٹہ بھی نہیں ڈال سکتا جب وہ سر سے متصل ہو،ہاں چھتری لگانا،خیمہ میں بیٹھنا درست ہے کہ چھتری اور خیمہ کی چھت سر سے علیحدہ رہتی ہے۔

۳؎ احناف کے ہاں یہاں کعبین سے مراد درمیان قدم پر ابھری ہوئی سخت ہڈی ہے اس کا کھلا رہنا ضروری ہے اور ڈھانپنا منع،شوافع کے ہاں وہ ہی عرفی ٹخنے یعنی قدم کے آس پاس کی دو ہڈیاں مراد ہیں۔خلاصہ یہ ہے کہ محرم کو بحالت احرام نہ موزہ پہننا درست ہے،نہ ایسا جوتا یا بوٹ جس سے وسط قدم کی ہڈی ڈھک جائے۔خفین چمڑہ کے موزے کو کہتے ہیں،سوتی یا اونی موزے کو جرابیں کہا جاتا ہے وہ ممنوع نہیں۔مطلب یہ ہے کہ اگر حاجی کے پاس جوتے نہ ہوں تو چمڑے کے موزے کو کاٹ کر جوتے کی طرح بنالے پھر پہن لے۔

 



Total Pages: 445

Go To