Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

2669 -[11] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَعَن عائشةَ قَالَتْ: حَاضَتْ صَفِيَّةُ لَيْلَةَ النَّفْرِ فَقَالَتْ: مَا أُرَانِي إِلَّا حَابِسَتَكُمْ. قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَقْرَى حَلْقَى أَطَافَتْ يَوْمَ النَّحْرِ؟» قيل: نعم. قَالَ: «فانفري»

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ حضرت صفیہ واپسی کے دن حائضہ ہوگئیں ۱؎ تو بولیں مجھے معلوم ہوتا ہے کہ میں تم کو روک ہی لوں گی ۲؎ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اری بانجھ منڈی کیا تم نے بقر عید کے دن طواف کرلیا تھا عرض کیا ہاں فرمایا تو چلو۳؎(مسلم،بخاری)

۱؎ حضرت صفیہ بنت حییّ ابن اخطب ان کے والد یہودی تھے،خیبر کے باشندے بنی اسرائیل تھے،حضرت ہارون کی اولاد سے،آپ جنگ خیبر میں گرفتار ہوکر آئیں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے آپ کو آزاد فرما کر ان سے نکاح فرمالیا،آپ ام المؤمنین ہیں۔

۲؎  اس طرح کہ میں عارضہ میں مبتلا ہوگئیں اور طواف وداع نہ کرسکوں گی،طواف کے لیے ایام گزرنے کا مجھے انتظار کرنا پڑے گا اور آپ حضرات میری وجہ سے ٹھہریں گے۔

۳؎ بانجھ منڈی فرمایا غضب کے لیے نہیں بلکہ محبت کے اظہار کے لیے ہے جیسے بچوں کو ارے پاگل،ارے بے وقوف یا پنجابی اڑ جانیئے وغیرہ کہہ دیتے ہیں ورنہ حضرت صفیہ کا اس میں قصور کیا تھا جو ان پر غصہ آتا۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حائضہ کو طواف زیارت معاف نہیں اس کے لیے اسے ٹھہرنا پڑے گا،طواف وداع معاف ہے۔

مسئلہ: مکہ والوں پر یا جس نے مکہ معظمہ میں مستقل رہائش کا ارادہ کرلیا تھا مگر اب روانہ ہورہا ہے اس پر جو حج کا احرام باندھ کر حج نہ کرسکا عمرہ کر کے کھل گیا اس پر طواف وداع واجب نہیں،یوں ہی صرف عمرہ کرنے والے پر واجب نہیں۔بہتر یہ ہے کہ طواف کے بعد پھر زیادہ  دیر  مکہ معظمہ میں نہ ٹھہرے اور اگر دن میں طواف وداع کیا تھا مگر رات تک وہاں ٹھہرنا پڑ گیا تو بہتر یہ ہے کہ دوبارہ طواف کرے،یہ ہی امام اعظم رحمۃ اﷲ علیہ کا فرمان ہے۔(مرقات وغیرہ)

الفصل الثانی

دوسری فصل

2670 -[12]

عَنْ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: «أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟» قَالُوا: يَوْمُ النَّحْر الْأَكْبَرِ. قَالَ: «فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ بَيْنَكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا أَلا لَا يجني جانٍ عَلَى نَفْسِهِ وَلَا يَجْنِي جَانٍ عَلَى وَلَدِهِ وَلَا مَوْلُودٌ عَلَى وَالِدِهِ أَلَا وَإِنَّ الشَّيْطَانَ قد أَيسَ أَنْ يُعْبَدَ فِي بَلَدِكُمْ هَذَا أَبَدًا وَلَكِنْ ستكونُ لهُ طاعةٌ فِيمَا تحتقرونَ مِنْ أَعْمَالِكُمْ فَسَيَرْضَى بِهِ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالتِّرْمِذِيّ وَصَححهُ

روایت ہے حضرت عمرو ابن احوص سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو حجۃ الوداع میں فرماتے سنا یہ کون دن ہے صحابہ نے عرض کیا حج اکبر کا دن ۱؎ فرمایا تمہارے خون تمہارے مال تمہاری آبروئیں آپس میں ایک دوسرے پر ایسے حرام ہیں جیسے اس شہر میں اس دن کی حرمت ۲؎ خبردار کوئی مجرم اپنی جان پر ظلم نہ کرے۳؎ خبردار کوئی مجرم اپنی اولاد پر ظلم نہ کرے اور نہ کوئی فرزند اپنے باپ پر ۴؎ خبردار شیطان اس سے تو مایوس ہوچکا کہ تمہارے اس شہر میں کوئی اسے پوجے ۵؎ مگر جن گناہوں کو تم معمولی سمجھتے ہو ان میں اس کی اطاعت ہوجایا کرے گی جس سے وہ راضی ہوتا رہے گا ۶؎(ابن ماجہ،ترمذی)اور ترمذی نے اسے صحیح کہا۔

 



Total Pages: 445

Go To