Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

۶؎ اس کا نام تسبیح فاطمہ ہے جو تمام سلسلوں میں خصوصًا سلسلہ قادریہ میں بہت معمول ہے،اس تسبیح کے لیے عام تسبیحوں میں ہر ۳۳ دانہ پر چھوٹا  امام پڑا ہوتا ہے۔اس حدیث سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو حضرت ابوبکرپر اس لیے طعن کرتے ہیں کہ انہوں نے فاطمہ زہرا کا مطالبہ پور انہ کیا  انہیں میراث نہ دی جس سے ان کے دل کو تکلیف پہنچی،وہ آج حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کو کیا فتویٰ دیں گے۔

2388 -[8]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: جَاءَتْ فَاطِمَةُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ خَادِمًا فَقَالَ: «أَلَا أَدُلُّكِ عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْ خَادِمٍ؟ تُسَبِّحِينَ اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَتَحْمَدِينَ اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَتُكَبِّرِينَ اللَّهَ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَعِنْدَ مَنَامِكِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ حضرت فاطمہ زہراء نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں خادم مانگنے آئیں ۱؎ تو فرمایا کہ کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتا دو جو خادم سے بہتر ہے ۳۳ بار سبحان اﷲ پڑھا کرو اور ۳۳ بار الحمدﷲ اور ۳۴ بار اﷲ اکبر ہر نماز کے وقت اور سوتے وقت پڑھ لیا کرو۲؎ (مسلم)

۱؎ حضرت عائشہ صدیقہ کے گھر کیونکہ اس دن حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا قیام انہی کے دولت خانہ میں تھا کیونکہ حضرت خاتون جنت کو تو جناب علی نے خبر دی تھی کہ آج حضور کے ہاں بہت لونڈی غلام آئے ہیں اور حضور انہیں مسلمانوں میں تقسیم فرمارہے ہیں تم بھی جاؤ ایک لونڈی حاصل کر لو جیسا کہ پچھلی حدیث میں گزرا۔خیال رہے کہ خادم مذکر مؤنث دونوں کو کہا جاتا ہے،یہاں مؤنث مراد ہے کیونکہ حضرت خاتون جنت نے لونڈی مانگی تھی جو چکی چولہے کا کام کرسکے۔(ازمرقات)

۲؎ پچھلی حدیث میں صرف صبح شام کا ذکر تھا یہاں ہرنماز کا ذکر ہے۔ممکن ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے پہلے تو صرف صبح شام کا حکم دیا ہو بعد میں ہر نماز کے بعد یا اس کے برعکس بہرحال احادیث میں تعارض نہیں۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ فقر غنا سے افضل ہے اور صبر شکر سے بہتر،یہ بھی معلوم ہوا کہ ماں باپ کو چاہیے کہ اپنی اولاد کو محنتی،عابد،زاہد،متقی بنائیں۔انہیں صرف مالدار کرنے کی کوشش نہ کریں لڑکی کے لیے بہترین جہیز اعمال صالحہ ہیں نہ کہ صرف مال،یہ حدیث تربیت و تعلیم کا خزانہ ہے،یہ بھی معلوم ہوا کہ لڑکی سسرال کی تکالیف کی شکایت ماں باپ سے کرسکتی ہے ازالۂ تکلیف کے لیے،یہ بھی معلوم ہوا کہ سسرال کی تکلیف پر ماں باپ لڑکی کو گھر نہ بٹھالیں بلکہ وہاں ہی رکھیں اور صبر و شکر کی تلقین کریں،اس سے خانگی زندگی کے بہت سے مسائل حل ہوجاتے ہیں۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

2389 -[9]

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَصْبَحَ قَالَ: «اللَّهُمَّ بِكَ أَصْبَحْنَا وَبِكَ أَمْسَيْنَا وَبِكَ نَحْيَا وَبِكَ نَمُوتُ وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ» . وَإِذَا أَمْسَى قَالَ: «اللَّهُمَّ بِكَ أَمْسَيْنَا وَبِكَ أَصْبَحْنَا وَبِكَ نَحْيَا وَبِكَ نَمُوتُ وَإِلَيْكَ النُّشُورُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم جب سویرا پاتے تو کہتے الٰہی ہم نے تیری مہربانی سے صبح پائی اور تیری مہربانی سے ہی شام کریں گے اور تیری مہربانی سے جئیں گے اور تیرے فضل سے مریں گے ۱؎  اور تیری ہی طرف رجوع ہے اور جب شام پاتے تو کہتے الٰہی تیرے فضل سے ہم نے شام پالی اور تیرے فضل سے ہی صبح کریں گے اور تیری مہربانی سے جئیں مریں گے تیری ہی طرف اٹھنا ہے ۲؎ (ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ)

 



Total Pages: 445

Go To