Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

باب خطبۃ یوم النحر و رمی ایام التشریق و التودیع

باب بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور  رخصتی طواف   ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ اس باب میں تین چیزیں بیان ہوں گی:بقر عید کے دن کا خطبہ اور گیارھویں اور بارھویں کی رمی اور واپسی کے وقت کا طواف وداع۔ خطبہ خ کے کسرہ سے بمعنی عورت کو پیغام نکاح دینا،خ کے پیش سے عظیم الشان کام یا اعلٰی مسجع کلام بشرطیکہ نظم میں نہ ہو نثر میں ہو،بقرعید کے دن یعنی دسویں ذی الحجہ کے بعد والے تین دنوں کو ایام تشریق کہتے ہیں کہ ان دنوں میں اہل عرب قربانی کے گوشت سکھاتے انہیں دھوپ دیتے ہیں۔تشریق بمعنی سکھانا،دھوپ دینا۔بہتر یہ ہے کہ طواف وداع مکہ معظمہ سے واپس ہوتے وقت کرے پہلے نہ کرے،اہل مکہ پر نہ طواف قدوم ہے،نہ طواف وداع یہ دونوں طواف باہر والوں کے لیے ہیں۔

2659 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَطَبَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ قَالَ: «إِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ السَّنَةُ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ثَلَاثٌ مُتَوَالِيَاتٌ ذُو الْقَعْدَةِ وَذُو الْحِجَّةِ وَالْمُحَرَّمُ وَرَجَبُ مُضَرَ الَّذِي بَيْنَ جُمَادَى وَشَعْبَانَ» وَقَالَ: «أَيُّ شَهْرٍ هَذَا؟» قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ فَقَالَ: «أَلَيْسَ ذَا الْحِجَّةِ؟» قُلْنَا: بَلَى. قَالَ: «أَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟» قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ قَالَ: «أَلَيْسَ الْبَلْدَةَ؟» قُلْنَا: بَلَى قَالَ «فَأَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟» قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ. قَالَ: «أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ؟» قُلْنَا: بَلَى. قَالَ: «فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا وَسَتَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ فَيَسْأَلُكُمْ عَنْ أَعْمَالِكُمْ أَلَا فَلَا تَرْجِعُوا بِعْدِي ضُلَّالًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ؟» قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: «اللَّهُمَّ اشْهَدْ فَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ فَرُبَّ مُبَلَّغٍ أَوْعَى مِنْ سَامِعٍ»

روایت ہے حضرت ابوبکرہ سے فرماتے ہیں کہ بقر عید کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ہم کو خطبہ دیا ۱؎ فرمایا کہ زمانہ گھوم پھر کر اپنی اسی حالت پر آگیا ۲؎ جس پر اﷲ نے اسے آسمان و زمین بنانے کے دن کیا تھا۳؎ سال بارہ مہینے کا ہے جن میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں ۴؎ تین تو  مسلسل ہیں ذیقعدہ،ذی الحجہ،محرم چوتھا قبیلہ مضر کا ماہ رجب جو دو جمادوں اور شعبان کے درمیان ہے ۵؎ فرمایا یہ کون مہینہ ہے ہم نے عرض کیا اﷲ و رسول جانیں حضور انور خاموش رہے حتی کہ ہم نے گمان کیا کہ حضور اس کا اس کے نام کے سوا کوئی اور نام رکھیں گے ۶؎ تو فرمایا کیا یہ ذی الحجہ نہیں ہے ہم نے عرض کیا ہاں فرمایا یہ کون سا شہر ہے ہم نے عرض کیا اﷲ رسول جانیں حضور خاموش رہے حتی کہ ہم سمجھے آپ اس کے نام کے علاو ہ کوئی اور نام رکھیں گے ۷؎ فرمایا کیا یہ مکہ معظمہ شہر نہیں ہے ہم نے عرض کیا ہاں فرمایا اچھا یہ کون دن ہے ہم نے عرض کیا اﷲ رسول جانیں حضور خاموش رہے حتی کہ ہم سمجھے کہ آپ اس کا کوئی اور نام رکھیں گے(اصلی نام کے سوا)فرمایا کیا یہ قربانی کا دن نہیں ہم نے عرض کیا ہاں ۸؎ فرمایا تو تمہارے خون تمہارے مال تمہاری آبروئیں تم میں سے ایک دوسرے پر ایسی حرام ہیں جیسے ہمارے اس دن کی حرمت ہمارے اس شہر اور اس مہینہ میں ۹؎ تم عنقریب اپنے رب سے ملو گے وہ تم سے تمہارے اعمال کے متعلق پوچھے گا۱۰؎  تو خبردار میرے بعد گمراہ ہوکر نہ لوٹ جانا کہ تم میں سے بعض بعض کی گردنیں مارنے لگیں ۱۱؎ خبردار رہو کیا میں نے تبلیغ کر دی سب بولے ہاں فرمایا الٰہی گواہ ہوجا لازم ہے کہ حاضرین غائبوں کو پہنچا دیں بہت سے پہنچائے ہوئے سننے والوں سے زیادہ یاد رکھنے والے ہوں  گے۱۲؎ (مسلم، بخاری)

 



Total Pages: 445

Go To