Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

۲؎ رمی سے پہلے ذ بح کرلینے میں مفرد یعنی صرف حج کرنے والے پر نہ گنا ہ ہے نہ فدیہ،نہ کفارہ یا نہ قربانی،ہاں بہتر تھا کہ رمی کے بعد کرتا مگر قران و تمتع والے پر عمدا ً ایسا کرنے میں گناہ بھی ہے کفارہ بھی اور خطاءً ایسا ہوجانے پر گناہ تو نہیں مگر کفارہ واجب ہے۔ اس کی تفصیل کتب فقہ میں اور مرقات میں ملاحظہ کیجئے۔یہ شخص اگر مفرد تھا تب تو  گناہ و کفارہ دونوں کی نفی ہے اور اگر قارن یا متمتع تھا اور خطاءً ایسا کر بیٹھا تو گناہ کی نفی ہے۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

2658 -[4]

عَن أُسامةَ بنِ شرِيكٍ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجًّا فَكَانَ النَّاسُ يَأْتُونَهُ فَمِنْ قَائِلٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ سَعَيْتُ قَبْلَ أَنْ أَطُوفَ أَوْ أَخَّرْتُ شَيْئًا أَوْ قَدَّمْتُ شَيْئًا فَكَانَ يَقُولُ: «لَا حَرَجَ إِلَّا عَلَى رَجُلٍ اقْتَرَضَ عِرْضَ مُسْلِمٍ وَهُوَ ظَالِمٌ فَذَلِكَ الَّذِي حَرِجَ وهَلِك» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت اسامہ ابن شریک سے ۱؎ فرماتے ہیں میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ حج میں نکلا لوگ آپ کے پاس آتے تھے تو کوئی ملنے والا کہتا یا رسول اﷲ میں نے طواف سے پہلے سعی کرلی ۱؎  یا کوئی رکن پیچھے کر دیا ۲؎ یا آگے کر لیاتو  آپ فرماتے تھے کوئی حرج نہیں ۳؎  ہاں حرج اس شخص پر ہے جو ظلم کر تے ہوئے کسی مسلمان کی آبرو ریزی کرے یہ وہ شخص ہے جو نقصان میں گیا اور ہلاک ہوگیا۴ ؎(ابوداؤد)

۱؎ آپ اسامہ ابن شریک ذیبانی ثعلبی ہیں،کوفہ کے ہیں،صحابی ہیں،ان سے زیادہ ابن علاقہ وغیرہ نے روایات لیں۔

۲؎  یعنی احرام باندھ کر جب مکہ معظمہ حاضر ہوا  تو طواف قدوم سے پہلے سعی کرلی،پھر طواف قدوم کیا،حالانکہ چاہیے یہ تھا کہ پہلے طواف قدوم کرتا پھر سعی۔

۳؎ حرج  کے معنے پہلے عرض کردیئے گئے کہ ان تبدیلیوں سے حج باطل نہ ہوگا یا گناہ نہیں جب کہ سہوًا کیا ہو کہ حج میں زیادہ مشغولیت کی وجہ سے غلطیاں ہوجاتی ہیں اگرچہ بعض صورتوں میں دم یا کفارہ ہوجائے گا۔

۴؎  اس جملہ سے معلوم ہوا کہ گزشتہ تمام جگہ حرج سے مراد گناہ تھا  نہ کہ کفارہ وغیرہ۔ظلم کی قید اس لیے لگائی کہ ضرورۃً یا سزاءً تو مسلمان کی جان بھی لے سکتے ہیں،آخر قصاص،رجم میں جان لی جاتی ہے۔خلاصہ جواب یہ ہے کہ عبادات کی غلطی کا بدل ہوسکتا ہے۔معاملات درست کرو کہ معاملات میں زیادتی حقوق العباد سے ہے جو توبہ سے بھی معاف نہیں ہوتے،حاجی کو چاہیے کہ حج کے بعد اپنے معاملات بہت صاف رکھے اور کوئی حرکت ایسی نہ کرے جس سے حج برباد ہوجائے،حج کو سنبھالے رکھنا آسان ہے مگر بچانا مشکل۔


 



Total Pages: 445

Go To