Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

روایت فرمائی مگروہ  ترتیب  بدلنے سے قربانی واجب فرماتے ہیں ،جب راوی کامذہب یہ ہے تو معلوم ہواکہ ان کے ہاں بھی اس حدیث کے یہ ہی معنی ہیں۔(مرقات ولمعات)

۵؎ خیال رہے کہ امام اعظم کے  ہاں رمی،ذبح،سر منڈانا ان میں ترتیب قارن اور متمتع پر واجب ہے،صاحبین کے ہاں سنت،یوں ہی قربانی حج کا صرف قربانی کے دنوں میں ہونا امام اعظم کے ہاں واجب ہے مگر حرم میں ذبح ہونا بالااتفاق واجب کہ حرم کے علاوہ اور جگہ حج کی قربانی ادا نہیں ہوسکتی مگر حلق و طواف یا رمی و طواف میں ترتیب واجب نہیں یہ فرق بہت خیال میں رہے لہذا  اگر کوئی طواف پہلے کرے پھر رمی تو  اس پر دم واجب نہ ہوگا،دیکھو اس کی تفصیل کتب فقہ و مرقات میں اسی جگہ۔یہ بھی خیال رہے کہ جیسے نماز کے واجب رہ جانے سے سجدۂ سہو واجب ہوتا ہے ایسے ہی حج کا واجب رہ جانے سے دم یعنی قربانی واجب ہوتی ہے۔

2656 -[2]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْأَلُ يَوْمَ النَّحْرِ بِمِنًى فَيَقُولُ: «لَا حرَجَ» فَسَأَلَهُ رجل فَقَالَ: رميت بعد مَا أمسَيتُ. فَقَالَ: «لَا حرَجَ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم منٰی میں بقرعید کے دن سوالات کیے جاتے تھے حضور یہ ہی فرماتے تھے  ۱؎  کوئی حرج نہیں ایک شخص نے آپ سے پوچھا کہ میں نے شام کے بعد  رمی کی فرمایا کوئی حرج نہیں۲؎(بخاری)

۱؎ یعنی دن بھر سوالات وجوابات کا سلسلہ قائم رہا کہ لوگ حضور سے پوچھتے تھے۔حضور خندہ پیشانی سے جواب دیتے تھے،یہ مطلب نہیں کہ حضور نے بہت حج کیے اور ہر حج میں یہ سوال وجواب کے واقعات پیش آئے۔

۲؎  ظاہر یہ ہے کہ شام سے مراد سورج ڈوبنے کے بعد کا وقت ہے صبح کا مقابل لہذا یہ حدیث احناف کے موافق ہے اور شوافع کے خلاف کہ ان کے ہاں بقر عید کے دن کی ر می اگر سورج ڈوبے کی جائے تو قربانی واجب ہے،ہمارے ہاں گنہگار ہوگا قربانی واجب نہ ہوگی،البتہ اگر گیارھویں تاریخ کویہ رمی کرے تو دم واجب ہے۔خیال رہے کہ بقر عید کے دن جمرہ عقبہ کی رمی صبح صادق کے بعد سورج نکلنے سے پہلے مکروہ ہے،سورج نکلنے سے زوال سے پہلے تک سنت،زوال سے سورج چھپنے تک جائز،رات میں جائز مگر مکروہ اور کل کوکرنا خلاف واجب ہے،جس میں قربانی لازم۔گیارھویں،بارھویں بقرعید کو جمروں کی رمی زوال کے بعد سے سورج ڈوبے تک سنت ہے اور رات میں مکروہ تیرہ ۱۳ذی الحجہ تک ان کی قضا کا وقت ہے،تیرھویں کے بعد نہ ادا کا وقت ہے نہ قضا کا،یہ تفصیل یاد رکھنی چاہیے،یہاں حرج نہیں کہ معنے ہیں قربانی واجب نہیں۔(مرقات)

الفصل الثانی

دوسری فصل

2657 -[3]

عَن عَليّ قَالَ: أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَفَضْتُ قَبْلَ أَنْ أَحْلِقَ فَقَالَ: «احْلِقْ أَوْ قَصِّرْ وَلَا حَرَجَ» . وَجَاءَ آخَرُ فَقَالَ: ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ. قَالَ:«ارْمِ وَلَا حرج».رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص آیا بولا یارسول اﷲ میں نے سر منڈانے سے پہلے طواف کر لیا فرمایا کوئی حرج نہیں اب منڈالو یا کتروالو ۱؎  دوسرا  آیا عرض کیا میں نے رمی سے پہلے ذبح کرلیا فرمایا کوئی حرج نہیں رمی کرلو ۲؎(ترمذی)

۱؎ یعنی طواف سرمنڈانے کے بعد سنت تھا لیکن اگر اس کے برعکس ہوگیا تو خیر،نہ اس میں گناہ ہے نہ قربانی،نہ کفارہ نہ کوئی فدیہ جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا۔

 



Total Pages: 445

Go To