Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

باب

باب  ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  یہاں مصنف نے باب کا ترجمہ و عنوان مقرر نہ فرمایا کیونکہ اس میں ارکان حج میں تقدیم و تاخیر و دیگر چیزیں مذکور ہیں لہذا یہ باب المتفرقات ہے ترجمہ مقرر نہ فرمانا اس طرف اشارہ ہے۔

2655 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِمِنًى لِلنَّاسِ يَسْأَلُونَهُ فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: لَمْ أَشْعُرْ فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ. فَقَالَ: «اذْبَحْ وَلَا حَرَجَ» فَجَاءَ آخَرُ فَقَالَ: لَمْ أَشْعُرْ فَنَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ. فَقَالَ: «ارْمِ وَلَا حَرَجَ» . فَمَا سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ قُدِّمَ وَلَا أُخِّرَ إِلَّا قَالَ: «افْعَلْ وَلَا حرج» وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ. قَالَ: «ارْمِ وَلَا حَرَجَ» وأتاهُ آخرُ فَقَالَ: أفَضتُ إِلى البيتِ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ. قَالَ: «ارْمِ وَلَا حَرَجَ»

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمرو ابن عاص سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے حجۃ الوداع کے موقعہ پر منٰی میں لوگوں کے سامنے قیام فرمایا  ۱؎  لوگ آپ سے مسائل پوچھتے تھے کہ ایک آدمی حاضر ہوا عرض کیا مجھے خبر نہ تھی ذبح سے پہلے سر منڈالیا ۲؎  فرمایا اب ذبح کرلو کوئی حرج نہیں پھر دوسرا  آیا عرض کیا مجھے مسئلہ معلوم نہ تھا میں نے رمی سے پہلے قربانی کرلی فرمایا اب رمی کر لو کوئی حرج نہیں ۳؎ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے کسی چیز کے متعلق جو آگے پیچھے کردی گئی ہو سوال نہ ہوا مگر حضور نے یہ ہی فرمایا اب کرلو کوئی حرج نہیں ۴؎(مسلم بخاری)مسلم کی روایت میں ہے کہ حضور کی خدمت میں ایک شخص آیا عرض کیا میں نے رمی سے پہلے سر منڈالیا فرمایا اب رمی کرلوکوئی حرج نہیں دوسرا آیا عرض کیا میں نے بیت اﷲ کا طواف رمی سے پہلے کرلیا فرمایا اب رمی کرلو کوئی حرج نہیں ۵؎

۱؎ صحیح  تر یہ ہے کہ حجۃ کی ح اور الوداع  کا  واؤ  دونوں مفتوح ہیں، حضور انور کسی عام جگہ اپنی ناقہ پر منٰے میں اس لیے کھڑے رہے کہ لوگ حضور سے حج کے مسائل دریافت کرلیں۔معلوم ہوا کہ علماء کو ایسا وقت نکالنا چاہیے کہ لوگ ان سے مل کر مسائل پوچھ سکیں،یہ بھی سنت ہے۔

۲؎ یعنی چاہیے تو یہ تھا کہ جمرہ عقبہ کی رمی کے بعد پہلے قربانی کرتا پھر سر منڈاتا مگر میں نے غلطی سے اس کے  برعکس کرلیا کہ سرتو پہلے منڈالیا  اور قربانی بعد میں کی یا تو مشغولیت ارکان کی وجہ سے خیال نہ رہا یا مسئلہ معلوم نہ تھا۔خیال رہے کہ اس وقت مسئلہ معلوم نہ ہونا عذر تھا کہ حج نیا نیا فرض ہوا تھا،اس کے مسائل پورے طور پر شائع نہ ہوئے تھے،اب مسائل سے بے خبر ی عذر نہیں کہ مسائل شائع ہوچکے،لوگوں پر بقدر ضرورت مسائل سیکھنا فرض ہے۔غرضکہ اب خطا تو عذر ہے جہالت عذر نہیں جیسا کہ تمام کتب میں مذکور ہے۔

۳؎  یعنی چونکہ تم نے یہ کام خطا یا بے علمی میں کیا لہذا تم پر کوئی گناہ نہیں،حرج بمعنی گناہ ہے۔

۴؎ دسویں ذی الحجہ کو حج کے افعال چار ادا ہوتے ہیں اولًا جمرہ عقبہ کی رمی،پھر قربانی،پھر سر منڈانا،پھر طواف زیارت ان چاروں ارکان میں ترتیب امام شافعی،احمد،اسحاق کے ہاں سنت ہے کہ اس کے بدل جانے سے دم واجب نہیں صرف ثواب میں کمی ہوگی مگر ابن جبیر،امام مالک و امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہم کے ہاں ان بعض میں ترتیب واجب ہے کہ بدل جانے سے دام واجب ہے۔ان بزرگوں کے ہاں لاحرج کے معنے ہیں تم پر گناہ نہیں مگر ان حضرات کے ہاں اس کے معنے ہیں تم پر فدیہ یا قربانی واجب نہیں مگر قول امام ابو حنیفہ قوی ہے کہ سیدنا عبداللہ  ابن عباس  نے بھی اسی کی مثل



Total Pages: 445

Go To