Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

2652 -[7]

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَاضَ يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ رجعَ فصلّى الظهْرَ بمنى. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے بقر عید کے دن طواف زیات کیا پھر لوٹ کر نماز ظہر منٰی میں پڑھی  ۱؎ (مسلم)

۱؎  یہاں ارشاد ہوا کہ حضور انور نے منٰے میں ظہر ادا کی اور حضرت عائشہ و جابر رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے کہ حضور انور نے مکہ معظمہ میں ہی ظہر ادا کی تھی،ہوسکتا ہے کہ  ظہر تو  مکہ معظمہ میں ہی پڑھی ہو،منٰی میں واپسی پرجماعت ظہر تیار ہو اور بہ نیت نفل یہاں بھی شرکت فرمالی ہو،لہذا دونوں روایتیں درست ہوگئیں یا فرائض ظہر تو مکہ میں پڑھے ہوں اور سنن و نوافل منی میں،بہرحال احادیث میں تعارض نہیں۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

2653 -[8]

عَنْ عَلِيٍّ وَعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَا: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَن تحلق الْمَرْأَة رَأسهَا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت علی و عائشہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس سے منع فرمایا کہ عورت سر منڈائے ۱؎ (ترمذی)

۱؎ عورت کو سر منڈانا حج و عمرہ میں بھی حرام ہے ان کے علاوہ بھی،یوں ہی فیشن کے لیے بال کٹوانا حرام ہے،حضور انور نے ان عورتوں پر لعنت فرمائی جو مردوں کی سی شکلیں بنائیں،عورت کو سر منڈانا ایسا حرام ہے جیسا مرد کو داڑھی منڈانا حرام کہ یہ مثلہ یعنی شکل بگاڑنا ہے،ہاں ضرورت و معذوری میں تو اعضاء کٹوانا بھی درست ہوجاتا ہے ضرورت مستثنٰی ہیں۔(مرقات)

2654 -[9]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ عَلَى النِّسَاءِ الْحَلْقُ إِنَّمَا عَلَى النِّسَاءِ التَّقْصِيرُ».رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ

وَهَذَا الْبَابُ خَالٍ مِنَ الْفَصْلِ الثَّالِثِ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ عورتوں پر سر منڈانا نہیں عورتوں پر کتروانا ہے  ۱؎ (ابوداؤد،دارمی)

(یہ باب تیسری فصل سے خالی ہے)

۱؎ یعنی حج و عمرہ سے فارغ ہوکر مرد تو سر منڈائے یا بال کٹوائے اسے اختیار ہے اور کٹوانے میں خواہ بالوں کی نوکیں ایک پورا بھر کٹوائے یا مشین چلا کر بالکل کٹوائے مگر عورت احرام سے فارغ ہونے پر بالوں کی نوکیں ایک پورے بھر کٹوادے چہارم سر کے کٹوانا واجب ہے پورے سر کے کٹوانا بہتر۔(لمعات،ومرقات)لہذا اس سے آج کل کی عورتوں کے فیشنی بال کٹوانا ثابت نہیں ہوتا۔


 



Total Pages: 445

Go To