$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

2648 -[3] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: «اللَّهُمَّ ارْحَمِ الْمُحَلِّقِينَ» . قَالُوا: وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «اللَّهُمَّ ارْحَمِ الْمُحَلِّقِينَ» . قَالُوا: وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «وَالْمُقَصِّرِينَ»

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے حجۃ الوداع میں فرمایا ۱؎ اے اﷲ سر منڈانے والوں پر رحم کر صحابہ نے عرض کیا یارسول اﷲ کترانے والوں پر بھی حضور نے فرمایا الٰہی سر منڈانے والوں پر رحم کر لوگوں نے عرض کیا یارسول اﷲ کترانے والوں پر بھی تو فرمایا کترانے والوں پر۲؎(مسلم،بخاری)

۱؎ یہ دعا یا تو منٰے میں مانگی یا اس دن جس دن صحابہ نے عمرہ کر کے احرام کھولے۔خیال رہے کہ بعض روایات میں ہے کہ حضور نے حدیبیہ کے دن یہ دعا کی،ہوسکتا ہے کہ دونوں موقعہ پر کی ہو۔

۲؎ اس سے معلوم ہوا کہ احرام کھولتے وقت سرمنڈانا افضل ہے کہ حضور انور نے منڈانے والوں کے لیے تین بار دعا کی۔والمقصرین میں منڈانے والوں کا بھی ذکر ہے اور کترانے والوں کے لیے ایک بار،وہ بھی صحابہ کرام کی عرض پر،رب توفیق دے تووہاں منڈائے، رب تعالٰی نے بھی پہلے منڈانے والوں کا ذکر فرمایا پھر کترانے والوں کا۔

2649 -[4]

وَعَن يحيى بن الْحصين عَن جدته أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ دَعَا لِلْمُحَلِّقِينَ ثَلَاثًا وَلِلْمُقَصِّرِينَ مرّة وَاحِدَة. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت یحیی ابن حصین سے وہ اپنی دادی سے راوی ۱؎  انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے حجۃ الوداع میں سنا کہ آپ نے سر منڈانے والوں کے لیے تین بار دعا کی اور کترانے والوں کے لیے ایک بار ۲؎(مسلم)

۱؎ ان کی دادی صاحبہ کا نام حصین بنت اسحاق ہے،قبیلہ بنی اخمس سے ہیں،حجۃ الوداع میں حضور کے ہمراہ تھیں،صحابیہ ہیں،مگر یحیی ابن حصین تابعی ہیں۔

۲؎ یہ حدیث پچھلی حدیث کی شرح ہے کہ وہاں بھی منڈانے والوں کو تین بار دعا دی گئی ہے،دوبار صراحۃً اور ایک بار والمقصرین کے ساتھ کہ واؤ اشتراک کے لیے ہے،چونکہ منڈانے والا بالکل ہی ترک زینت کرتا ہے اور کترانے والا اپنی زینت باقی رکھتا ہے،لہذا پہلا شخص ہی زیادہ دعا کا مستحق ہے۔

2650 -[5] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى مِنًى فَأَتَى الْجَمْرَةَ فَرَمَاهَا ثُمَّ أَتَى مَنْزِلَهُ بِمِنًى وَنَحَرَ نُسُكَهُ ثُمَّ دَعَا بِالْحَلَّاقِ وَنَاوَلَ الْحَالِقَ شِقَّهُ الْأَيْمَنَ ثُمَّ دَعَا أَبَا طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيَّ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ ثُمَّ نَاوَلَ الشِّقَّ الْأَيْسَرَ فَقَالَ «احْلِقْ» فَحَلَقَهُ فَأعْطَاهُ طَلْحَةَ فَقَالَ: «اقْسِمْهُ بَيْنَ النَّاسِ»

روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم منٰی میں تشریف لائے تو جمرہ پر آئے اسے کنکر مارے پھر اپنے منٰی کے خیمہ میں تشریف لائے اور قربانی کا جانور ذبح کیا پھرمونڈنے والے کو بلایا ۱؎  اور اسے اپنی داہنی جانب پیش کی اس نے مونڈ دی ۲؎ پھر ابوطلحہ انصاری کو بلایا وہ بال انہیں عطا فرمادیئے پھر بائیں جانب حالق کے سامنے کی فرمایا مونڈدو اس نے مونڈ دی پھر وہ بال ابو طلحہ کو عطا فرماکر فرمایا انہیں لوگوں میں بانٹ دو۳؎ (مسلم،بخاری)

۱؎  ان مونڈنے والے کا نام معمر ابن عبداﷲ قرشی عدوی ہے جو قدیم الاسلام صحابی ہیں،مسند امام احمد میں ہے کہ جب معمر نے داہنے ہاتھ میں استرہ لیا اور مونڈنے لگے تو حضور نے فرمایا اے معمر اس نعمت کی قدر کرو،انہوں نے عرض کیا کہ مجھ پر اﷲ کی بڑی نعمت یہ ہے کہ آج میرا ہاتھ حضور کے سر مبارک پر ہے۔(اشعہ)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حاجی بقرعید کے دن پہلے رمی،پھر قربانی،پھر



Total Pages: 445

Go To
$footer_html