Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

باب الحلق

سر منڈانے کا باب  ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصلی

۱؎  تمام علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ حج و عمرہ سے فارغ ہونے پر مردوں کو سر منڈانا بھی جائز ہے اور کتروانا بھی مگر منڈانا افضل،لیکن عورتوں کو منڈانا حرام لہذا وہ اپنے بال کی نوکیں کٹوائیں گی چہارم سر کے بال کٹوانا یا منڈوانا ضروری ہے،پورا سر سنت جیسے کہ مسح سر میں ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے سواء حج و عمرہ کے کبھی سر نہ منڈایا،داڑھی منڈانا حرام ہے،جسم کے باقی بالوں میں بہت تفصیل ہے۔گنجا شخص بھی احرام کھولتے وقت سر پر اُسترہ پھروائے اور جو روزانہ عمرہ کرے وہ بھی ہر دفعہ سر پر اُسترہ پھرالیا کرے۔(از اشعہ)

2646 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَقَ رَأْسَهُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَأُنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ وَقَصَّرَ بَعْضُهُمْ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے اور کچھ صحابہ نے حجۃ الوداع میں سر منڈائے اور بعض نے بال کٹوائے ۱؎(مسلم،بخاری)

۱؎  یعنی حجۃ الوداع کے موقع پرحضور انورصلی اللہ علیہ و سلم اور بعض صحابہ کرام نے سر مبارک منڈائے اور بعض صحابہ نے بال کٹوائے عمرہ میں حضور نے بال کٹوائے جیساکہ اگلی حدیث میں آرہا ہے لہذا سر منڈوانا اور کتروانا دونوں جائز ہیں، رب تعالٰی فرماتاہے:"مُحَلِّقِیۡنَ رُءُوۡسَکُمْ وَ مُقَصِّرِیۡنَ"مگر منڈانا افضل ہے سارا سر منڈانا یا کتروانا چاہیےکہ بعض سرمنڈانا کتروانا قزع کہلاتا ہے جو شرعًا مکروہ ہے،امام مالک کے ہاں پورا سر منڈانا یا کتروانا فرض ہے۔

2647 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ لِي مُعَاوِيَةُ: إِنِّي قَصَّرْتُ مِنْ رَأْسِ النَّبِيِّ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم عِنْد الْمَرْوَة بمشقص

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضرت معاویہ نے فرمایا کہ میں نے مروہ کے پاس تیر سے ۱؎ نبی کر یم صلی اللہ علیہ و سلم کے بال مبارک کاٹے تھے ۲؎(مسلم،بخاری)

۱؎ مشقص کے حقیقی معنے ہیں لمبا دھار،وار تیز۔مجازًا قینچی کو بھی کہہ دیتے ہیں یہاں یا  حقیقی معنے میں ہے کیونکہ بڑھے ہوئے بال کسی چیز پر رکھ کر تیر کی نوک سے کاٹ دیتے ہیں یا مجازی معنے میں ہے یعنی قینچی۔(مرقات)

۲؎ محدثین نے اس حدیث کو بہت مشکل فرمایا ہے کیونکہ حجۃ الوداع میں حضور انور نے قران کیا تھا اور قارن منٰی میں بال اترواتا ہے نہ کہ مروہ پہاڑ پر اور جب حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے عمرہ قضا کیا تھا تو امیر معاویہ اسلام نہ لائے تھے،آپ تو فتح مکہ کے دن ایمان لائے اس لیے بعض شارحین نے کہا کہ شاید یہ عمرہ جعرانہ میں ہوگا،جب غزوہ حنین سے فارغ ہو کر حضور نے راتوں رات عمرہ کیا تھا،ہم نے اپنی کتاب "امیر معاویہ"پر ایک نظرمیں ثابت کیا ہے کہ یہ واقعہ عمرہ قضاء میں ہوا اور امیر معاویہ صلح حدیبیہ کے دن ایمان لاچکے تھے مگر ایمان کا اظہارفتح مکہ کے دن کیاجیسے حضرت عباس ابن عبدالمطلب قدیم الاسلام تھے مگر اظہار فتح مکہ میں کیا۔

2648 -[3] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: «اللَّهُمَّ ارْحَمِ الْمُحَلِّقِينَ» . قَالُوا: وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «اللَّهُمَّ ارْحَمِ الْمُحَلِّقِينَ» . قَالُوا: وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «وَالْمُقَصِّرِينَ»

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے حجۃ الوداع میں فرمایا ۱؎ اے اﷲ سر منڈانے والوں پر رحم کر صحابہ نے عرض کیا یارسول اﷲ کترانے والوں پر بھی حضور نے فرمایا الٰہی سر منڈانے والوں پر رحم کر لوگوں نے عرض کیا یارسول اﷲ کترانے والوں پر بھی تو فرمایا کترانے والوں پر۲؎(مسلم،بخاری)

 



Total Pages: 445

Go To