Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

2644 -[18] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «مَنْ ضَحَّى مِنْكُمْ فَلَا يُصْبِحَنَّ بَعْدَ ثَالِثَةٍ وَفِي بَيْتِهِ مِنْهُ شَيْءٌ» . فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ نَفْعَلُ كَمَا فَعَلْنَا الْعَامَ الْمَاضِي؟ قَالَ: «كُلُوا وَأَطْعِمُوا وَادَّخِرُوا فَإِنَّ ذَلِكَ الْعَامَ كَانَ بِالنَّاسِ جَهْدٌ فَأَرَدْتُ أَنْ تُعِينُوا فِيهِمْ»

روایت ہے سلمہ ابن اکوع سے فرماتے ہیں فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ تم میں سے جو قربانی کرے تو تیسرے کے بعد سویرا اس حال میں نہ ہو کہ اس کے گھر میں قربانی سے کچھ ہو ۱؎  پھر جب اگلا سال ہوا تو لوگوں نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کیا ہم پچھلے سال کی طرح اس سال بھی کریں فرمایا خوب کھاؤ کھلاؤ اور بچاؤ(ذخیرہ کرو)کیونکہ پارسال تو لوگوں کو بھوک تھی اس لیے ہم نے چاہا کہ تم ان کی مدد کرو ۲؎(مسلم،بخاری)

۱؎ یعنی اپنی قربانی کرنے سے تین دن اس کا گوشت کھا سکتے ہو،چوتھے دن سے پہلے ہدیہ و خیرات کرکے ختم کردو لہذا جس نے بارھویں تاریخ کو قربانی کی ہے وہ چودھویں بلکہ پندرھویں تک اس کا گوشت کھاسکتا ہے۔شئی سے مراد گوشت ہے،کھال و بال اس میں داخل نہیں۔

۲؎ جہد جیم کے فتح سے بمعنی مشقت اور جیم کے پیش سے بمعنی کوشش کرنا،یہاں دونوں بن سکتے ہیں یعنی وہ حکم منسوخ ہے اور ایک ضرورت کی بنا پر عارضی طور پر دیا گیا تھا کہ اس وقت مسلمانوں پر غربت زیادہ تھی بہت کم مسلمانوں نے قربانیاں کی تھیں اگر قربانی والے ہی گوشت کا ذخیرہ کرلیتے تو فقراءکو کیا ملتا،اس سال رب کا فضل ہے قربانیاں عام ہوئی ہیں،لہذا خوب کھاؤ خوب بچاؤ۔فَاَرَدْتُّ سے معلوم ہوا کہ حضور احکام شرعیہ کے مالک ہیں،آپ کو حرام و حلال فرمادینے کا رب نے اختیار دیا ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے: "وَ لِاُحِلَّ لَکُمۡ بَعْضَ الَّذِیۡ حُرِّمَ عَلَیۡکُمْ"اور فرماتا ہے:"وَ لَایُحَرِّمُوۡنَ مَا حَرَّمَ اللہُ وَرَسُوۡلُہٗ وَلَایَدِیۡنُوۡنَ دِیۡنَ الْحَقِّ"یعنی اے اہل کتاب یہ نبی اس لیے تشریف لائے ہیں تاکہ تم پر بعض حرام کردہ چیزوں کو حلال فرمائیں اور وہ کفار اﷲ رسول کی حرام کردہ چیزوں کو حرام نہیں سمجھتے۔اس کی تحقیق ہماری کتاب"سلطنت مصطفی"میں دیکھئے۔

2645 -[19]

وَعَنْ نُبَيْشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم:«إِن كُنَّا نهينَا عَنْ لُحُومِهَا أَنْ تَأْكُلُوهَا فَوْقَ ثَلَاثٍ لِكَيْ تسَعْكم. جاءَ اللَّهُ بالسَّعَةِ فكُلوا وادَّخِرُوا وأْتَجِروا. أَلَا وَإِنَّ هَذِهِ الْأَيَّامَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ وذِكْرِ اللَّهِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت نبیشہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے ہم نے تم لوگوں کو قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ کھانے سے منع کیا تھا تاکہ تم سب کو فراخی ہو ۱؎ اب اﷲ تعالٰی نے گنجائش و غنا بخش دی لہذا اب کھاؤ اور ذخیرہ کرو اور ثواب کماؤ ۲؎ یہ کھانے پینے اور ذکر الٰہی کرنے کے دن ہیں ۳؎(ابوداؤد)

۱؎  اس طرح کہ تھوڑے گوشت کو امیر فقیر سب مل بانٹ کر کھائیں،یعنی وہ گوشت تم سب میں کچھ نہ کچھ پہنچ جائے۔

۲؎ یعنی خیرات کرکے ثواب کماؤ یعنی کچھ کھاؤ،کچھ بچاؤ،کچھ خیرا ت کرو،کھانے میں اپنا کھانا بھی داخل ہے اور دوست و احباب کا بھی۔ قربانی کے گوشت کے تین حصے کر نا بہتر ہیں:ایک اپنے لیے،دوسرا حباب کے لیے تیسرا فقراء کے لیے،یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اس گوشت کے کھانے،بچانے،لٹانے سب میں ثواب ہے۔

۳؎  اسی لیے ان دونوں یعنی ایام تشریق میں روزہ رکھنا حرام ہے کیونکہ سب مسلمان اﷲ کے مہمان ہیں۔


 



Total Pages: 445

Go To