Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

2643 -[17]

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرْطٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ أَعْظَمَ الْأَيَّامِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمُ النَّحْرِ ثُمَّ يَوْمُ الْقَرِّ» . قَالَ ثَوْرٌ: وَهُوَ الْيَوْمُ الثَّانِي. قَالَ: وَقُرِّبَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدَنَاتٌ خَمْسٌ أَوْ سِتٌّ فطفِقْن يَزْدَلفْنَ إِليهِ بأيتهِنَّ يبدأُ قَالَ: فَلَمَّا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا. قَالَ فَتَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ خَفِيَّةٍ لَمْ أَفْهَمْهَا فَقُلْتُ: مَا قَالَ؟ قَالَ: «مَنْ شَاءَ اقْتَطَعَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

وَذَكَرَ حَدِيثَا ابنِ عبَّاسٍ وجابرٍ فِي بَاب الْأُضْحِية

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن قرط سے ۱؎  وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا اﷲ کے نزدیک بہت عظمت والا دن بقرعید کا دن ہے ۲؎ پھر قرار کا دن،ثور فرماتے ہیں وہ دوسرا دن ہے۳؎ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں پانچ چھ اونٹ ذبح کے لیے پیش کیے گئے تو وہ اپنے کو حضور کے آگے کرنے لگے کہ کس سے حضور ذبح شروع کریں ۴؎ پھر جب وہ کروٹوں کے بل گر گئے تو حضور نے آہستہ سے کچھ فرمایا جسے میں سمجھ نہ سکا،میں نے پوچھا ۵؎ کہ حضور نے کیا فرمایا تو بتایا کہ یہ فرمایا جو چاہے اسے کاٹ لے ۶؎(ابوداؤد)

اور حضرت ابن عباس و جابر کی حدیث قربانی کے باب میں ذکر کی گئی۔

۱؎  ان کا نام زمانہ جاہلیت میں شیطان تھا،حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے عبداﷲ رکھا۔

۲؎ یعنی قربانی کے دنوں میں سب سے افضل دن دسویں بقرعید ہے یا عشرہ ذی الحجہ میں یہ دن افضل ہے لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ بعض روایات میں ہے کہ عرفہ کا دن افضل ہے بعض میں ہے کہ ماہ رمضان کا عشرہ افضل ہے،اور ہوسکتا ہے کہ ان میں سے سب ہی افضل ہوں مختلف جہات سے لہذا حدیث واضح ہے۔

۳؎ یعنی بقر عید کی گیارھویں،چونکہ دسویں بقرعید کو حجاج مزدلفہ سے منٰے پہنچتے ہیں اور بارھویں کو منٰے سے مکہ معظمہ روانہ ہوجاتے ہیں اس لیے انہیں یوم النفر کہا جاتا ہے اور گیارھویں کو حجاج منٰے میں ہی ٹھہرے رہتے ہیں اس لیے اسے یوم القرّ کہتے ہیں ۔خلاصہ یہ ہے کہ قربانی کے تین دنوں میں افضل دن دسواں،پھر گیارھواں،پھر بارھواں اور ہفتہ کے دنوں میں جمعہ سال کے ایام میں عرفہ ا فضل۔(اشعہ)

۴؎ یعنی ہر اونٹ چاہتا تھا کہ حضور میری قربانی پہلے کریں اور آپ کے ہاتھ سے ذبح ہونے کا شرف مجھے حاصل ہو،اس لیے ہر ایک اپنی گردن پیش کرتا تھا۔شعر

ہمہ آہوان صحرا سر خود نہا دہ برکف                       بامید زانکہ روزے بشکار خواہی آمد

 اور شکار شکاری سے بھاگتے ہیں مگر محبوب ایسے شکاری ہیں کہ شکار اپنی گردنیں آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں،عشاق تو اپنے دل قربانی کے لیے پیش کرتے ہیں۔مولانا جامی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں،شعر

ادیم   طائفی   در   زیر     پاکن                                           شراک از رشتہ جانہائے ماکن

حضور کی یہ محبوبیت آپ کا زندہ جاوید معجزہ ہے،جانور بھی حضور کے ہاتھ سے ذبح ہوجانے کو زندگی سے بہتر جانتے ہیں۔

۵؎ یعنی جو شخص حضور سے قریب تھا اس سے میں نے پوچھا کیونکہ میں کچھ دور ہونے کی وجہ سے سن نہ سکا تھا۔

۶؎ معلوم ہوا کہ قربانی کے گوشت کی تملیک بھی جائز ہے اور اباحت بھی،بعض علماء نے اس حدیث سے نچھاور بکھیراور چھوہارے و پیسے لٹانے پر دلیل پکڑی ہے کہ وہاں عملًا اباحت عامہ ہی ہوتی ہے۔(اشعہ)

الفصل الثالث

تیسری فصل

2644 -[18] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «مَنْ ضَحَّى مِنْكُمْ فَلَا يُصْبِحَنَّ بَعْدَ ثَالِثَةٍ وَفِي بَيْتِهِ مِنْهُ شَيْءٌ» . فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ نَفْعَلُ كَمَا فَعَلْنَا الْعَامَ الْمَاضِي؟ قَالَ: «كُلُوا وَأَطْعِمُوا وَادَّخِرُوا فَإِنَّ ذَلِكَ الْعَامَ كَانَ بِالنَّاسِ جَهْدٌ فَأَرَدْتُ أَنْ تُعِينُوا فِيهِمْ»

روایت ہے سلمہ ابن اکوع سے فرماتے ہیں فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ تم میں سے جو قربانی کرے تو تیسرے کے بعد سویرا اس حال میں نہ ہو کہ اس کے گھر میں قربانی سے کچھ ہو ۱؎  پھر جب اگلا سال ہوا تو لوگوں نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کیا ہم پچھلے سال کی طرح اس سال بھی کریں فرمایا خوب کھاؤ کھلاؤ اور بچاؤ(ذخیرہ کرو)کیونکہ پارسال تو لوگوں کو بھوک تھی اس لیے ہم نے چاہا کہ تم ان کی مدد کرو ۲؎(مسلم،بخاری)

 



Total Pages: 445

Go To