Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

کھال کا خیرات کردینا استحبابی حکم ہے،اگر چاہے تو قربانی والا اپنے کام میں لائے،جوتا یا ڈول،مصلے وغیرہ بنالے لیکن اگر کھال فروخت کر دی تو قیمت خیرات ہی کرنی پڑے گی۔

۳؎  قال کا فاعل نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم ہیں یعنی ہم قصائی کی مزدوری اپنی گرہ سے ادا کریں گے۔اس سے معلوم ہوا کہ قصائی کو اجرت میں قربانی کا گوشت،جھول،کھال وغیرہ دینا ہرگز جائزنہیں،اسے اجرت علیحدہ  دو،ہاں اجرت کے علاوہ اسلامی رشتہ سے اسے کچھ گوشت دے دو تو حرج نہیں۔ہمارے پنجاب میں قصائی قربانی کی مزدوری بھی لیتے ہیں اور خود ہی گوشت بھی رکھ لیتے ہیں بعض دفعہ وہ گوشت فروخت کرتے بھی دیکھے گئے یہ سخت ناجائز ہے۔

2639 -[13] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَعَن جابرٍ قَالَ: كُنَّا لَا نَأْكُلُ مِنْ لُحُومِ بُدْنِنَا فَوْقَ ثَلَاثٍ فَرَخَّصَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «كُلُوا وَتَزَوَّدُوا» . فَأَكَلْنَا وتزودنا

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں ہم اپنی قربانیوں کے گوشت تین دن سے زیادہ نہ کھاتے تھے ۱؎ پھر ہمیں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے اجازت دے دی فرمایا کھاؤ اور توشہ بچاؤ پھر ہم نے کھایا بھی بچایا بھی۲؎ (مسلم،بخاری)

۱؎  یہ حکم شروع اسلام میں تھا جب مسلمانوں میں غریبی زیادہ تھی،قربانی کرنے والے امیروں کو حکم تھا کہ تین دن کی بقدر گوشت رکھ لو باقی خیرات کردو تاکہ زیادہ فقراء گوشت کھاسکیں۔

۲؎  اب منیٰ شریف میں عرب لوگ قربانی کے گوشت سکھا کر سال بھر تک کھاتے ہیں بالکل درست ہے کہ وہ ممانعت منسوخ ہوچکی،اﷲ تعالٰی نے مسلمانوں کو غنی کردیا،علت گئی حکم بھی گیا ۔خیال رہے کہ اگر ہدی حرم میں پہنچنے سے پہلے یا قربانی کے وقت سے پہلے مجبورًا ذبح کرنی پڑ جائے تو اس کا حکم یہ نہیں،پھر وہاں صدقہ کرنا عبادت ہے ذبح کرنا عبادت نہیں اور جو اپنے وقت اپنی جگہ میں قربانی ہو اس کا ذبح کرنا عبادت ہے،کھائے جس کا جی چاہے کہ عبادت ادا ہوچکی۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

2640 -[14]

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْدَى عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي هَدَايَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَلًا كَانَ لِأَبِي جَهْلٍ فِي رَأْسِهِ بُرَةٌ مِنْ فِضَّةٍ وَفِي رِوَايَةٍ مِنْ ذَهَبٍ يَغِيظُ بِذَلِكَ الْمُشْركين. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے حدیبیہ کے سال ہدی بھیجی ۱؎ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی ہدیوں میں ابوجہل کا اونٹ بھی تھا جس کے سر میں چاندی کی بالی تھی اور ایک روایت میں ہے سونے کی بالی تھی جس سے مشرکین کو جلائیں ۲؎(ابوداؤد)

۱؎ یعنی جس سال حضور انور عمرہ کرنے مکہ معظمہ تشریف لے گئے اور مشرکین مکہ نے مقام حدیبیہ میں آپ کو روک لیا یعنی     ۶ھ؁  میں، اسی سال آپ اپنے ہمراہ ہدی لے گئے تھے،بھیجنے سے مراد خود لے جانا ہے کیونکہ حضور انور نے ہدی کے جانور حدیبیہ میں ہی ذبح کر دیئے تھے کہ وہ جگہ حدود حرم میں ہے،مکہ معظمہ نہیں بھیجے تھے،بلکہ بہتر یہ ہے کہ اھدی کے معنے کیے جائیں حضور ہدی لے گئے تاکہ یہ دھوکہ نہ پڑے کہ حضور خود تو حدیبیہ میں رہ گئے اور ہدی مکہ معظمہ میں بھیج دی۔

 



Total Pages: 445

Go To