Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

آپ نے تلاش پانی میں کی جس کے بعد حضرت اسمعیل علیہ السلام کی ایڑی سے پانی کا چشمہ پیدا ہوا،آپ خوشی خوشی آئیں اور اس چشمہ کے آس پاس ریت کی دیوار بنادی اور فرماتی تھیں یَا مَاء زَمْ زَمْ اے پانی تھم تھم،تو ہر حاجی کو یہ افعال انہی بزرگوں کی نقل میں کر نے چاہئیں کہ اچھوں کی نقل بھی اچھی ہوتی ہے۔(مرقات وا شعہ)ورنہ ان فعلوں کا عبادت ہونا عقل سے وراء ہے۔

2625 -[8]

وَعَنْهَا قَالَتْ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ ألَا نَبْنِي لَكَ بِنَاءً يُظِلُّكَ بِمِنًى؟ قَالَ:«لَامِنًى مُنَاخُ مَنْ سَبَقَ».رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه والدارمي

روایت ہے ان ہی سے فرماتی ہیں ہم نے عرض کیا یا رسول اﷲ کیا ہم منٰی میں آپ کے لیے کوئی گھر نہ بنادیں جو آپ پر سایہ کرے ۱؎ فرمایا نہیں،منٰی اس کی جگہ ہے جو پہلے پہنچ جائے ۲؎ (ترمذی،ابن ماجہ،دارمی)

۱؎ یعنی آپ کے لیے یہاں پختہ عمارت بنادیں جو ہمیشہ آپ کے اور آپ کی اولاد کے لیے خاص رہے،کسی کو وہاں ٹھہرنے کا حق نہ ہو لہذا اس سے عارضی خیمے ڈال لینا منع نہیں۔سایہ سے مراد قوی سایہ ہے جس میں دھوپ کا اثر نہ ہو وہ چھت ہی کا ہوتا ہے خیمہ کا سایہ ضعیف ہے۔

۲؎  مُنَاخٌ اِنَاخَۃٌ کا اسم مفعول ہے بمعنی طرف اِنَاخَۃَ کے معنی ہیں اونٹ بٹھانا،یعنی سارا منٰی زمین موقوفہ ہے جس میں سارے مسلمان شریک ہیں اور برابر کے حقدار،اگر یہاں عمارتیں بننا شروع ہوگئیں،تو حجاج پرسخت تنگی ہوگی، سڑکوں  راستوں اور بازار کے عمومی مقامات کا یہی حکم ہے،امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ کے نزدیک زمین حرم ساری موقوف ہے،اس کے کسی حصہ کا کوئی مالک نہیں۔ (مرقات)امام صاحب کی دلیل یہ آیت ہے" سَوَآءَۨ الْعٰکِفُ فِیۡہِ وَالْبَادِ

الفصل الثالث 

تیسری فصل

2626 -[9]

عَنْ نَافِعٍ قَالَ: إِنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَقِفُ عِنْدَ الْجَمْرَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ وُقُوفًا طَوِيلًا يُكَبِّرُ اللَّهَ وَيُسَبِّحُهُ وَيَحْمَدُهُ وَيَدْعُو اللَّهَ وَلَا يَقِفُ عنْدَ جمرَةِ العقبةِ. رَوَاهُ مَالك

روایت ہے حضرت نافع سے فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر پہلے دو جمروں کے پاس بہت دراز ٹھہرتے تھے ۱؎  اﷲ کی تکبیر،تسبیح اور حمدکرتے رہتے تھے،اﷲ سے دعا مانگتے رہتے اور جمرہ عقبہ کے پاس نہ ٹھہرتے ۲؎ (مالک)

۱؎ یعنی جمرہ اولٰی اور جمرہ وسطی کی رمی کے بعد بقدر سورۂ بقرٹھہرکر دعائیں کرتے تھے،اسی طرح کہ دونوں جگہ کے قیام سورۂ بقر کی تلاوت کے بقدر ہوتے،ان دونوں جگہ میں تمام اماموں کے نزدیک ہاتھ اٹھا کر دعائیں مانگنا سنت ہے،امام مالک کے ہاں ہاتھ اٹھانا منع،شاید انہیں ہاتھ اٹھانے کی حدیث نہ پہنچی،یہ حدیث بخاری میں ہے۔

۲؎ یعنی جمرہ عقبہ کی رمی کے بعدٹھہرکر دعا نہ مانگتے تھے ٹھہرنے کی نفی ہے نہ کہ دعا مانگنے کی،جمرہ عقبہ کی رمی کے بعد نہ دسویں ذی الحجہ کو ٹھہرتے تھے نہ اس کے بعد۔


 



Total Pages: 445

Go To