Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

۱؎ یہ حکم استحبابی ہے یعنی پاخانہ کے استنجاء میں تین ڈھیلے مستحب ہیں یا میت کے کفن کو دھونی تین بار دینا مستحب ہے،استجمار کے دونوں معنی ہیں۔(اشعہ)

۲؎  جمرہ کی رمی اور صفا مروہ کی دوڑ سات بار واجب ہے لیکن طواف کے چار چکر فرض ہیں باقی تین واجب یہ مذہب احناف ہے،دیگر آئمہ کے ہاں ساتوں فرض۔

۳؎  یہ کلام مکرر نہیں کیونکہ پہلے استجمار سے دھونی مراد ہے یہاں ڈھیلے یا اس کے برعکس۔

الفصل الثانی 

دوسری فصل

2623 -[6]

عَنْ قُدَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي الْجَمْرَةَ يَوْمَ النَّحْرِ عَلَى نَاقَةٍ صَهْبَاءَ لَيْسَ ضَرْبٌ وَلَا طَرْدٌ وَلَيْسَ قِيلُ: إِلَيْكَ إِليك. رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ

روایت ہے حضرت قدامہ ابن عبداﷲ ابن عمار سے ۱؎ فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو بقرعید کے دن سرخ اونٹنی پر رمی کرتے دیکھا۲؎ نہ اونٹنی کو مار تھی نہ ہانک اور نہ ہٹو بچو فرمانا۳؎ (شافعی،ترمذی،ابن ماجہ،نسائی،دارمی)

۱؎ آپ مکہ معظمہ کے باشندے قدیم الاسلام صحابی ہیں،ہجرت نہ کرسکے،حجۃ الوداع میں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ تھے،قبیلہ بنی کلاب یا بنی عامر سے ہیں۔

۲؎  صہباء اصہب کا مؤنث ہے۔اصہب وہ اونٹ ہے جس کے بالوں کی نوکیں سرخ ہوں،جڑیں وغیرہ سفید،یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم ایسی اونٹنی پر سوار تھے جس کے بال ایسے تھے،غالبًا یہ اونٹنی قصوا تھی۔(لمعات)

۳؎ یعنی جیسے امراء و سلاطین عمومًا لوگوں کو ہٹاتے بچاتے ہوئے اپنی سواری بڑھاتے ہیں،یہ عمل حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا نہ تھا،یہ سب ہم کو مساوات سکھانے کے لیے ہے،حج نماز وہ عبادات ہیں جو شاہ و گدا کو ایک کردیتی ہیں۔

2624 -[7]

وَعَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّمَا جُعِلَ رَمْيُ الْجِمَارِ وَالسَّعْيُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ لِإِقَامَةِ ذِكْرِ اللَّهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

روایت ہے حضرت عائشہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ حضور نے فرمایا جمروں کی رمی اور صفا مروہ کے درمیان دوڑ،ذکر اﷲ قائم کرنے کے لیے مقرر کی گئی ہے ۱؎ (ترمذی،دارمی) ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن ہے صحیح ہے۔

۱؎ یعنی رمی اور سعی کے درمیان جو تکبیریں اور دعائیں ہوتی ہیں وہی ان عبادتوں کا مغز ہیں،تو جو شخص یہ کام تو کرے اور ان میں اﷲ کا ذکر نہ کرے تو اس نے عبادت کا قالب تیار کیا مگر اس میں روح نہ پھینکی یا یہ مطلب ہے کہ یہ کام گزشتہ بزرگوں کی یادگاریں ہیں کہ ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے ان مقامات پر شیطان کے کنکر مارے جب اس نے آپ کو قربانی سے روکنے کی کوشش کی اور آدم علیہ السلام نے بھی جمرہ عقبہ کی جگہ شیطان کو کنکر مارے اسی لیے دسویں بقر عید کو صرف جمرہ عقبہ کی رمی کرتے ہیں اور باقی دو یا تین دن میں تینوں جمروں کی تاکہ دونوں بزرگوں کی یادگاریں قائم رہیں،ایسے ہی صفا مروہ کے درمیان دوڑ حضرت ہاجرہ کی اس دوڑ کی یادگار ہے جو



Total Pages: 445

Go To