Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

باب رمی الجمار

باب،رمی جمروں کی   ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  جمار جمرہ کی جمع ہے،عربی میں جمرہ چھوٹے کنکر یا سنگریزے کو کہتے ہیں مگر حج کے موقعہ پر ان سنگریزوں کو جمرہ کہا جاتا ہے جو دسویں،گیارھویں،بارہویں بلکہ تیرھویں ذی الحجہ کو تین ستونوں پر مارے جاتے ہیں،پھر خود ان ستونوں کو جمرہ کہا جانے لگاجنہیں یہ کنکر مارے جاتے ہیں کیونکہ وہاں ان کنکروں کا اجتماع ہوتا ہے۔بعض لغت والے کہتے ہیں کہ اجمار کے معنی ہیں جلدی کر نا،تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ جن حجاج کے کنکر قبول ہوجاتے ہیں وہ غائب کردیئے جاتے ہیں صرف غیر مقبول کنکر ہی وہاں رہتے ہیں ورنہ وہاں ہر سال کنکر یوں کے پہاڑ لگ جایا کرتے۔اشعۃ المعات میں لکھا ہے کہ ان مقامات میں آدم علیہ السلام نے ابلیس کو کنکر مارے تھے جس سے وہ تیزی سے دوڑ گیا تھا یہ انہی کی نقل ہے،بعض روایات میں ہے کہ یہاں اسمعیل علیہ السلام نے شیطان کو کنکر مارے تھے،بہرحال یہ فعل بھی بزرگوں کی نقل ہے۔

2618 -[1]

عَن جَابر قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي عَلَى رَاحِلَتِهِ يَوْمَ النَّحْرِ وَيَقُولُ: «لِتَأْخُذُوا مَنَاسِكَكُمْ فَإِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلِّي لَا أَحُجُّ بعد حجتي هَذِه» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو بقرعید کے دن اپنی سواری پر رمی کر تے دیکھا ۱؎ آپ فرماتے جاتے تھے اپنی ارکان حج سیکھ لو مجھے خبر نہیں شاید میں اس حج کے بعد حج نہ کروں ۲؎ (مسلم)

۱؎ تمام آئمہ کے ہاں سواری پر رمی کرنا جائز ہے البتہ افضلیت میں فرق ہے،امام ابو یوسف فرماتے ہیں کہ جس رمی کے بعد اوربھی رمی ہو وہ رمی پیادہ افضل کیونکہ اس وقت دعا مانگنا سنت ہے اور دعا میں خشوع خضوع پیادہ ہونے سے زیادہ ہوگا اور جس رمی کے بعد دوسری رمی نہیں وہ سواری پر افضل کیونکہ اس کے بعد کوئی دعا نہیں،یہ مسئلہ امام ابویوسف نے اپنے نزع کی حالت میں ابراہیم ابن جراح کے سوال پر بیان فرمایا اور اس پر اسی وقت آپ کا انتقال ہوگیا،طرفین کے ہاں تمام رمی اس حدیث کی وجہ سے سوار ہوکر افضل،امام ابو یوسف نے اس سواری کو تعلیم پر معمول فرمایا،امام شافعی کے ہاں دسویں ذی الحجہ کو اگر منٰی میں سوار ہوکر پہنچا تو سوار ہوکر رمی افضل اور اگر پیادہ پہنچا تو رمی پیادہ افضل۔گیارہویں،بارہویں کو پیادہ افضل اور تیرھویں کو سوار افضل۔واﷲ اعلم!(مرقات،اشعہ و لمعات) خلفاءراشدین کا عمل مختلف رہا ہے،بعض نے پیدل رمی کی بعض نے سواری پر۔

۲؎ یعنی مجھے خبر ہے کہ میری وفات قریب ہے اگلا حج میری زندگی میں نہ آئے گا مگر یہ خبر درایت یعنی اٹکل و قیاس سے نہیں بلکہ وحی الٰہی سے ہے اس لیے لَااَدْرِی بھی فرمایا اور لا احج بھی۔ دریات اٹکل و قیاس کے علم کو کہتے ہیں اسی لیے خدا کے علم کو درایت نہیں کہا جاتا،رب تعالٰی فرماتاہے:"مَا کُنۡتَ تَدْرِیۡ مَا الْکِتٰبُ وَ لَا الْاِیۡمٰنُ"۔تم اٹکل و قیاس سے کتاب و ایمان کو نہیں جاتے تھے ورنہ نبی کبھی ایمان سے بے خبر نہیں ہوتے،عیسٰی علیہ السلام نے پیدا ہوتے ہی فرمایا تھا انی عبداﷲ۔

2619 -[2]

وَعَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَى الْجَمْرَةَ بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھا کہ آپ نے جمرہ کو ٹھیکری کے برابر کنکروں سے رمی کیا ۱؎ (مسلم)

 



Total Pages: 445

Go To