Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

روانہ ہوجائیں کیونکہ پو پھٹنے پر دن نکل آتا ہے،رات و دن کا اجتماع عرفہ میں بھی کریں گے اور مزدلفہ میں بھی۔مرقات میں ہے کہ اکثر علماء کے ہاں دن چھپے تک عرفہ میں رہنا واجب ہے اور دن نکلتے وقت تک مزدلفہ میں ٹھہرنا سب کے ہاں سخت مکروہ ہے۔

۴؎ یہاں مشکوۃ شریف میں سفیدی چھوڑی ہوئی ہے یعنی مؤلف کو یہ حدیث کہیں نہیں ملی،مگر شیخ ابن حجر اور جزری نے فرمایا کہ یہ حدیث بیہقی شعب الایمان میں ہے۔

2613 -[10]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَدَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً الْمُزْدَلِفَةِ أُغَيْلِمَةَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَلَى حُمُرَاتٍ فَجَعَلَ يَلْطَحُ أَفْخَاذَنَا وَيَقُولُ: «أُبَيْنِيَّ لَا تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے ہم بنی عبدالمطلب کے بچوں کو خچروں پر سوار کرکے آگے روانہ کردیا حضور انور ہماری رانوں کو ہاتھ لگاتے ۱؎ اور فرماتے تھے بچو سورج نکلنے سے پہلے جمرہ کو کنکر نہ ماریو ۲؎(ابوداؤد، نسائی ابن ماجہ)

۱؎  یلطح  لطحٌ سے بنا،اس کے معنی ہتھیلی سے تھپکورنا۔اس سے معلوم ہوا کہ خچر پر حج کرنا بلاکراہت جائز ہے۔

۲؎  یعنی تم اگرچہ رات ہی میں منٰی پہنچ جاؤ گے مگر جمرہ کی رمی آفتاب نکلنے کے بعد کرنا۔امام شافعی کے ہاں آدھی رات کے بعد رمی جائز ہے اور امام ابوحنیفہ و احمد کے ہاں پو پھٹنے کے بعد رمی جائز ہے مگر امام صاحب کے ہاں مستحب یہی ہے کہ آفتاب نکلنے کے بعد رمی کی جائے،یہ حدیث امام صاحب کی دلیل ہے اور امام شافعی صاحب کے خلاف۔

2614 -[11]

وَعَن عَائِشَة قَالَتْ: أَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بأُمِّ سَلَمَةَ ليلةَ النَّحْر فرمت الجمرةَ قبلَ الْفَجْرِ ثُمَّ مَضَتْ فَأَفَاضَتْ وَكَانَ ذَلِكَ الْيَوْمُ الْيَوْمَ الَّذِي يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدهَا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت ام سلمہ کو بقر عید کی رات بھیج دیا ۱؎ انہوں نے فجر سے پہلے جمرہ کے کنکر مارلیے ۲؎ پھر وہ چلی گئیں تو طواف زیارت کرلیا ۳؎ یہ دن وہ تھا جس دن میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم ان کے پاس قیام فرما ہوتے تھے ۴؎(ابوداؤد)

۱؎  یعنی دسویں بقرعید کی شب مزدلفہ سے منٰی روانہ فرمادیا مع بچوں اور دوسری ازواج کے جیسا کہ پہلے گزر چکا۔

۲؎  ظاہر یہ ہے کہ فجر سے مراد نماز فجر ہے نہ کہ وقت فجر یعنی حضرت ام سلمہ نے پو پھٹنے کے بعد پہلے جمرہ عقبہ کی رمی کی پھر نماز فجر پڑھی لہذا یہ حدیث گزشتہ حدیث کے خلاف نہیں جس میں فرمایا گیا تھا کہ آفتاب نکلنے سے پہلے رمی نہ کرنا کہ وہاں بیان استحباب تھا اور یہاں جواز پر عمل ہے۔ جن بزرگوں نے فرمایا ہے کہ رات میں بھی رمی جائز ہے نصف شب کے بعد یہ حدیث ان کی دلیل نہیں اور نہ حنفیوں کے خلاف،وقت رمی صبح صادق سے شروع ہوتا ہے۔خیال رہے کہ حج کے احکام میں آئندہ راتیں دن میں شمار ہوتی ہیں نہ کہ گزشتہ راتیں،دیکھو نویں تاریخ کے بعد والی شب میں عرفات میں ٹھہر جانے سے حج مل جاتاہے لیکن اس سے پہلی رات میں حج نہیں ملتا،ایسے ہی گیارھویں بقرعید کی شب دسویں میں شمار ہوگی کہ اگر اس میں جمرہ عقبہ کی رمی کی گئی تو ہوجائے گی اگرچہ مکروہ ہوگی مگر دسویں کی شب میں رمی درست ہی نہ ہوگی۔

۳؎ طواف زیارت کا وقت دسویں بقر عید کی صبح سے بارھویں کی مغرب تک ہے مگر دسویں کو کرلینا بہت بہتر ہے۔

 



Total Pages: 445

Go To