Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

وقت میں ہے اندیشہ ہے کہ لوگ سلام پھیرتے ہی چل دیں گے اس لیے تکبیر فورًا ہی کہہ دی جائے کہ عصر بھی ابھی ہورہی ہے جاؤ مت،بہرحال مذہب آئمہ قوی ہے،امام طحطاوی نے امام زفر کا مذہب اختیار کیا ان دونوں نمازوں کے درمیان یا بعد میں نوافل و سنن وغیرہ ہرگز نہ پڑھے کہ یہ ہی سنت ہے۔

2608 -[5] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلَاةً إِلَّا لِمِيقَاتِهَا إِلَّا صَلَاتَيْنِ: صَلَاةَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ وَصَلَّى الْفَجْرَ يومئِذٍ قبلَ ميقاتها

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن مسعود سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو کبھی نہ دیکھا کہ آپ نے کوئی نماز غیر وقت میں پڑھی ہو ۱؎ سواء دو نمازوں کے مزدلفہ میں تو مغرب و عشاء ۲؎ اور اس دن نماز فجر اپنے وقت معہود سے پہلے پڑھ لی ۳؎(مسلم،بخاری)

۱؎ یہ حدیث امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کی دلیل ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے کبھی سفر میں جمع بین الصلوتین نہ کیا یعنی چند نمازیں بیک وقت نہ پڑھیں،وہاں جمع صوری تھا کہ ظہر آخر وقت میں پڑھی اور عصر اول وقت میں،رہا غزوۂ خندق میں چند نمازیں یکدم پڑھنا وہ جمع نہ تھا بلکہ قضاء پڑھی گئی تھیں،جمع اور ہے قضاء کچھ اور۔

۲؎ یعنی مزدلفہ میں مغرب و عشاء کو حقیقتًا جمع فرمایا کہ مغرب عشاء کے وقت میں پڑھی اور دوسری عرفات میں کہ وہاں عصر ظہر کے وقت میں پڑھی،چونکہ وہ جمع صلوتین دن میں اور سب کے سامنے ہواتھا اسی لیے اس کا علیحدہ نام نہ لیا اور مزدلفہ میں نمازوں کا اجتماع رات میں تھا جس میں سارے حجاج جمع نہ تھے اس لیے صرف اس کا ذکر صراحۃً علیحدہ بھی کردیا لہذا حدیث واضح ہے دو نمازوں سے مراد عرفہ و مزدلفہ کی نمازیں ہیں۔

۳؎ یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم ہمیشہ فجر خوب اجیالا میں پڑھتے تھے مگر آج مزدلفہ میں پو پھٹنے کے بعد اندھیرے میں پڑھی،یہ حدیث امام اعظم قدس سرہ کی قوی دلیل ہے کہ ہمیشہ فجر اجیالہ میں پڑھی جائے،صرف مزدلفہ میں اندھیرے منہ پڑھے کیونکہ اگر حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم ہمیشہ ہی نماز فجر پو پھوٹتے ہی پڑھتے ہوتے تو آج وقت معتاد سے پڑھنے کے کیا معنی،کیا وقت سے پہلے پڑھ لی ہرگز نہیں لہذا قول احناف قوی ہے،یہاں تمام آئمہ کے ہاں وقت سے مراد وقت معتاد ہے۔

2609 -[6] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَنَا مِمَّنْ قَدَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَة الْمزْدَلِفَة فِي ضعفة أَهله

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں تھا جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے مزدلفہ کی رات ضعیف بال بچوں کے ساتھ آگے بھیج دیا ۱؎(مسلم،بخاری)

۱؎ ضعفہ جمع ضعیف کی ہے بمعنی کمزور،اس سے مراد چھوٹے بچے اور عورتیں ہیں یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے دسویں بقر عید کی رات میں اپنے گھر والی بیبیاں اور چھوٹے بچے رات ہی میں مزدلفہ سے منٰی روانہ کردیئے تاکہ صبح کو بھیڑ بھاڑ میں تکلیف نہ ہو اور یہ حضرات منٰی میں پہلے پہنچ کرآرام سے خیمہ میں پہنچ جائیں،اب بھی یہ جائز ہے مگر طاقتور لوگوں کو یہ ساری رات مزدلفہ میں گزارنی ہوگی،بعد نماز فجر سورج نکلنے سے کچھ پہلے یہاں سے روانہ ہوں گے۔مسلم،بخاری میں ہے کہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا بھاری جسم تھیں وہ بھی نصف رات کے بعد مزدلفہ سے روانہ ہوگئیں حضور سے پوچھ کر،یہ عذر کی بنا پر اجازت ہے۔

2610 -[7]

وَعَن الفضلِ بن عبَّاسٍ وَكَانَ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي عَشِيَّةِ عَرَفَةَ وَغَدَاةِ جَمْعٍ لِلنَّاسِ حِينَ دَفَعُوا: «عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ» وَهُوَ كَافٌّ نَاقَتَهُ حَتَّى دَخَلَ مُحَسِّرًا وَهُوَ مِنْ مِنًى قَالَ: «عَلَيْكُمْ بِحَصَى الْخَذْفِ الَّذِي يُرْمَى بِهِ الْجَمْرَةَ» . وَقَالَ: لَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے انہی سے وہ حضرت فضل ابن عباس سے راوی وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے ردیف تھے کہ حضور انور نے عرفہ کی شام اور مزدلفہ کے سویرے جب لوگ روانہ ہوئے تو ان سے فرمایا سکون اختیار کرو حضور خود بھی اپنی اونٹنی کی لگام کھینچے ہوئے تھے ۱؎ حتی کہ وادی محسر میں داخل ہوگئے جو منٰی کا ہی حصہ ہے ۲؎  فرمایا کنکریاں چن لو ٹھیکریوں کی طرح جن سے جمرہ کو مارا جائے ۳؎ اور فرمایا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم جمرہ کی رمی تک تلبیہ کہتے رہے۔(مسلم)

 



Total Pages: 445

Go To