Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

باب الدفع من عرفۃ و المزدلفۃ

باب عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  یا تو دفع سے مراد نکلنا ہے نہ کہ نکالنا یا اپنی سواری کو اژدہام سے نکالنا ہے کہ ان روانگیوں میں ہجوم بہت ہوتا ہے جہاں سے حاجی بڑی ہوشیاری سے اپنی سواری کو نکالتا ہے لہذا سے دفع کہتے ہیں۔

2604 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سُئِلَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ: كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ حِينَ دَفَعَ؟ قَالَ: كَانَ يَسِيرُ الْعُنُق فَإِذا وجد فجوة نَص

روایت ہے حضرت ہشام ابن عروہ سے ۱؎ وہ اپنے والد سے راوی فرماتے ہیں کہ اسامہ ابن زید سے پوچھا گیا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم حجۃ الوداع میں جب عرفہ سے روانہ ہوئے تو کس چال سے چلتے رہے فرمایا آپ قدرے تیز چلتے رہے(دلکی)پھر جب کھلا راہ پاتے تو زیادہ تیز چلتے(میدانی)۲؎(مسلم،بخاری)

۱؎  ہشام بھی تابعی ہیں اور ان کے والد عروہ ابن زبیر ابن اعوام بھی تابعی ہیں،عروہ ابن زبیر مدینہ منورہ کے سات مشہور فقہاء سے ہیں، آپ کا کنواں اور باغ بیرعروہ کی فقیر نے زیارت کی ہے،اس کا پانی بھی پیا ہے۔

۲؎  فجوہ کے معنی ہیں کشادگی اور کھلی جگہ،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ ہُمْ فِیۡ فَجْوَۃٍ مِّنْہُ"اصحاب کہف غار کی کھلی جگہ میں ہیں،نص اور عنق اونٹ کی رفتاروں کے نام ہیں۔نص عنق سے زیادہ تیز ہوتی ہے جیسے گھوڑے کی رفتاروں کے نام دلکی،میدان،سرپٹ وغیرہ ہیں۔خلاصہ یہ ہے کہ عام حالت میں معمولی رفتا رپر چلایا اور اگر کوئی جگہ خالی ملی تو تیز رفتار سے تاکہ حتی الامکان اگلے مقام پر جلد پہنچ کر عبادات کریں یہ بھی سبقت الی الخیرات کی قسم ہے۔

2605 -[2]

وَعَن ابنِ عبَّاسٍ أَنَّهُ دَفَعَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ فَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَاءَهُ زَجْرًا شَدِيدًا وَضَرْبًا لِلْإِبِلِ فَأَشَارَ بِسَوْطِهِ إِلَيْهِمْ وَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ فَإِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ بِالْإِيضَاعِ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ آپ عرفہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ واپس ہوئے ۱؎ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے پیچھے اونٹوں کو سخت ڈانٹ ڈپٹ اور مار سنی ۲؎ تو انہیں اپنے کوڑے سے اشارہ فرمایا اور حکم دیا کہ اے لوگو اطمینان اختیار کرو تیز دوڑنے میں خوبی نہیں۳؎(بخاری)

۱؎ عرفات سے مزدلفہ کی طرف چلے دسویں ذوالحجہ کی شب کو،چونکہ یہ شب بھی نویں تاریخ میں داخل ہے اس لیے اسے یوم عرفہ فرمایا گیا،بعض لوگوں نے یوم عرفہ سے دھوکا کھایا اور منٰی سے عرفات کی روانگی سمجھے یہ غلط ہے۔ (مرقات)دسویں ذی الحجہ کی شب میں جو عرفات پہنچ جائے اسے حج مل جاتا ہے۔

۲؎ کہ حجاج اونٹوں کو دوڑانے کے لیے انہیں ڈانٹ ڈپٹ و مار کررہے تھے۔

 



Total Pages: 445

Go To