$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

۵؎ یعنی حقوق العباد کا بھی وعدہ کرلیا گیا،اس کا مطلب وہ ہی ہے جو ابھی عرض کیا گیا لہذا اگر مقروض نے ادائے قرض میں ٹال مٹول کی تھی پھر ادا کر کے حج کو گیا تو حج کی برکت سے ٹال مٹول کا گناہ معاف ہوگیا اور اگر قرض خواہ لاپتہ ہوگیا تھا یا کسی وجہ سے ابھی قرض ادا نہ کیا تھا کہ حج کرلیا تو بھی اب تک تاخیر کا گناہ معاف ہے لیکن اگر حج کے بعد بھی قرض ادا نہ کیا تو اب ٹال مٹول کا گناہ اب از سر نو شروع ہوگا۔ہاں اگر حج میں مرگیا اور بعد میں ورثاء نے بھی ادا نہ کیا مگر اس حاجی کی نیت ادا کی تھی تو امید ہے کہ معافی ہوجائے۔ غرضکہ اس حدیث پر چکڑالویوں کا کوئی اعتراض نہیں،اس قسم کی امید افزاء آیات قرآن کریم میں بھی بہت ہیں،نیز حجاج کو اس حدیث کی بناء پر دلیر ہونا جائز نہیں کیا خبرکس کا حج قبول ہوا اور اس بشارت کا اہل ہو۔

۶؎  یہ شک کسی نیچے کے راوی کو ہے نہ کہ حضرت عباس کو،حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے تمام زندگی شریف میں کبھی ٹھٹھا نہ لگایا تبسم فرماتے تھے۔

۷؎ یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم ادائے عبادت کے موقعہ پر تبسم نہ فرماتے تھے بلکہ اکثر گریہ و زاری فرماتے تھے،اﷲ تعالٰی حضور کے دندان عالی کو ہمیشہ ہی خوش رکھے،آج مزدلفہ میں سجدہ فرماکر یہ تبسم کیا۔معلوم ہوتا ہے کہ کسی کی بگڑی بنوادی،اس پر خوشی ہے۔ سبحان اﷲ! کیا نیارا سوال ہے اور کس خوش اسلوبی سے ہے،دعا دے کر کلام کرنا غلاموں کا طریقہ چاہیے۔

۸؎  معلوم ہوا کہ شیطان جہاں بھی ہو عالم کے ہر حال کی خبر رکھتا ہے اور ہر ظاہر و چھپی باتوں کو سنتا جانتا ہے۔ظاہر ہے کہ ابلیس اس وقت حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ تو تھا نہیں نہ آپ کے سجدہ کے وقت وہاں کان لگائے ہوئے تھا،وہ مردود اپنی جگہ تھا مگر یہاں سے خبردار تھا،جب ناری کی یہ کیفیت ہے تو نوری جماعتوں کے علم و فضل اور باخبری کا کیا پوچھنا،رب تعالٰی ابلیس کے متعلق فرماتا ہے: "اِنَّہٗ یَرٰىکُمْ ہُوَ وَقَبِیۡلُہٗ مِنْ حَیۡثُ لَا تَرَوْنَہُمْ

۹؎ ابلیس کی یہ گریہ زاری اپنی نامرادی اور ناکامی پرتھی کہ میں عمر بھر کوشش کر کے بندوں سے گناہ کراؤں گا مگر ایک حج کر کے وہ گناہوں سے پاک و صاف ہوجائیں گے۔

۱۰؎ معلوم ہوا کہ بے دینوں کے ایسے غم پر مؤمنوں کو خوش ہونا چاہیے کہ یہ خوشی بھی عبادت ہے اور سنت بھی ہے۔

۱۱؎  یہ حدیث طبرانی ابو یعلی خطیب وغیرہ محدثین نے مختلف اسنادوں،مختلف عبارتوں سے نقل فرمائیں جن کی تمام اسنادیں ضعیف ہیں، ابن جوزی نے اسے موضوع بتایا،بیہقی نے اس حدیث کے ماتحت فرمایا کہ کوئی حاجی اس حدیث سے دھوکا نہ کھائے اور اپنے کو بالکل مغفور نہ جانے خدا سے خوف رکھے،بعض علماء نے فرمایا کہ یہ وعدہ مشیت الٰہی پر موقوف ہے،رب تعالٰی نے اعلان فرمادیا کہ:"وَیَغْفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِکَ لِمَنۡ یَّشَآءُ"۔(مرقات)امام عسقلانی نے ایک کتاب لکھی ہے قوت الحجاج فی عموم المغفرۃ للحاج جس میں ابن جوزی کی موضوع کہنے کی تردید کی ہے اور فرمایا کہ اگرچہ اس حدیث کی اسنادیں ضعیف ہیں مگر چند ضعیف اسنادیں مل کرحدیث قوی کردیتی ہیں۔بہرحال حاجی رب تعالٰی کے کرم کی امید تو رکھے مگر مغرور نہ ہوجائے۔ذنوب کی معافی کی امید رکھے اور حقوق فورًا ادا کر دے خواہ حقوق شرعیہ ہو جیسے قضاء نمازیں یا حقوق عباد جیسے قرض وغیرہ۔(لمعات،اشعہ،مرقات)


 



Total Pages: 445

Go To
$footer_html