$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

2603 -[12]

وَعَن عبَّاسِ بنِ مِرْداسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا لِأُمَّتِهِ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ بِالْمَغْفِرَةِ فَأُجِيبَ: «إِنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ مَا خَلَا الْمَظَالِمَ فَإِنِّي آخُذُ لِلْمَظْلُومِ مِنْهُ» . قَالَ: «أَيْ رَبِّ إِنْ شِئْتَ أَعْطَيْتَ الْمَظْلُومَ مِنَ الْجَنَّةِ وَغَفَرْتَ لِلظَّالِمِ» فَلَمْ يُجَبْ عَشِيَّتَهُ فَلَمَّا أَصْبَحَ بِالْمُزْدَلِفَةِ أَعَادَ الدُّعَاءَ فَأُجِيبَ إِلَى مَا سَأَلَ. قَالَ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوِ قَالَ تبسَّمَ فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي إِنَّ هَذِهِ لَسَاعَةٌ مَا كُنْتَ تَضْحَكُ فِيهَا فَمَا الَّذِي أَضْحَكَكَ أَضْحَكَ اللَّهُ سِنَّكَ؟ قَالَ: «إِنَّ عَدُوَّ اللَّهِ إِبْلِيسَ لَمَّا عَلِمَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدِ اسْتَجَابَ دُعَائِي وَغَفَرَ لأمَّتي أخذَ الترابَ فَجعل يحشوه عَلَى رَأْسِهِ وَيَدْعُو بِالْوَيْلِ وَالثُّبُورِ فَأَضْحَكَنِي مَا رَأَيْتُ مِنْ جَزَعِهِ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَ رَوَى البيهقيُّ فِي كتاب الْبَعْث والنشور نحوَه

روایت ہے حضرت عباس ابن مرداس سے ۱؎ کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے عرفہ کی شام اپنی امت کے لیے دعائے مغفرت کی ۲؎ تو جواب ملا کہ حقوق العباد کے سوا باقی گناہ بخش دیئے مظلوم کا حق تو لوں گا ۳؎ عرض کیا یارب اگر تو چاہے تو مظلوم کو جنت دے دے اور ظالم کو بخش دے ۴؎  اس شام کو تو جواب نہ ملا مگر جب مزدلفہ میں حضور نے صبح کی تو وہ ہی دعا دوبارہ کی تب آپ کا سوال پورا کیا گیا ۵؎ راوی فرماتے ہیں تب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم ہنسے یا مسکرائے ۶؎ خدمت عالی میں حضرت ابوبکر و عمر نے عرض کیا ہمارے ماں باپ فدا اس گھڑی حضور ہنسا نہ کرتے تھے اﷲ حضور کو خوش و خرم رکھے کیا چیز آپ کو ہنسارہی ہے ۷؎ فرمایا کہ جب اﷲ کے دشمن ابلیس نے دیکھا کہ اﷲ تعالٰی نے میری دعا قبول کرلی اور میری امت کو بخش دیا ۸؎ تو مٹی اٹھا کر اپنے سر پر ڈالنے لگا اور ہائے وائے پکارنے لگا ۹؎ ہم نے جو اس کی گھبراہٹ دیکھی جس سے ہمیں ہنسی آگئی۱۰؎(ابن ماجہ)اور بیہقی نے کتاب البعث و النشور میں اس کی مثل روایت کی ۱۱؎

۱؎ آپ کی کنیت ابوالہیثم ہے،قبیلہ بنی سلیم سے ہیں،بڑے پایہ کے شاعر تھے،فتح مکہ سے کچھ پہلے اسلام لائے،مؤلفۃ القلوب سے تھے،فتح مکہ میں آپ پانچ سو ساتھیوں کے ساتھ شریک تھے،زمانہ جاہلیت میں آپ نے اور آپ کے ساتھیوں نے اپنے پر شراب حرام کرلی تھی اور آپ اپنی قوم کے سردار تھے۔(اشعہ،مرقات)

۲؎  ظاہر یہ ہے کہ امت سے مراد تاقیامت حجاج ہیں کہ جو حج کو آئے بالکل بخشا جائے،بعض شارحین نے ساری امت مراد لی ہے اور بعض نے صرف حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ حج کرنے والے فرمایا مگر پہلی بات قوی تر ہے۔(لمعات،مرقات)

۳؎ مظالم سے مراد حقوق العباد ہیں خواہ مالی حق ہوں یا جانی ۔حق العبد وہ ہے جو بندے کے معاف کردینے سے معاف ہوجائے اور حق اﷲ وہ ہے جسے بندہ معاف نہ کرسکے لہذا قتل کی سزا حق العبد ہے اور زنا کی سزا حق اﷲ اور چوری کی سزا مقدمہ پہنچنے سے پہلے تو حق العبد ہے،پھر حق اللہ  بن جاتی ہے یعنی حق اللہ  حج سے معاف نہ ہوگا وہ تو ادا ہی کرنا ہوگا۔خیال رہے کہ یہ حج مقبول کی جزا ہے،حج مقبول ہوتا ہی وہ ہے جو نمازیں وغیرہ ادا کرکے کیا جائے لہذا اس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عمربھر تارک نماز اور شرابی،زانی رہو،حج کر آؤ،سب معاف ہوگیا بلکہ پہلے ان جرموں سے صحیح توبہ کرو پھر آئندہ ان کے قریب نہ جاؤ،تو ان شاءاﷲ گزشتہ کوتاہیوں کی معافی ہوجائے گی۔

۴؎ یعنی مظلوم کو جنت دے کر ظالم سے راضی کرادے کہ مظلوم ظالم کو معافی دے دے۔اپنا حق مظلوم معاف کردے اور اے مولٰی تو اپنا حق معاف فرما دے۔خیال رہے کہ ہر حق العبد میں حق اللہ بھی داخل ہوتا ہے ہاں غالب حق العبد ہوتا ہے قاتل جیسے مقتول کا مجرم ہے ایسے ہی رب کا بھی مجرم کہ اس نے رب کا قانون توڑا لہذا حدیث بالکل ظاہر ہے۔قیامت میں مظلوم کے گناہ ظالم پرڈال دینا یا ظالم کی نیکیاں مظلوم کو دلوا دینا عدل ہے مگر مظلوم کو جنت دے کر راضی کردینا اور ظالم کی معافی کرادینا یہ رب تعالٰی کا فضل ہے،یہاں یہ تیسری صورت مراد ہے۔

 



Total Pages: 445

Go To
$footer_html