$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

2595 -[4]

عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ عَنْ خَالٍ لَهُ يُقَالُ لَهُ يَزِيدُ بْنُ شَيْبَانَ قَالَ: كُنَّا فِي مَوْقِفٍ لَنَا بِعَرَفَةَ يُبَاعِدُهُ عَمْرٌو مِنْ مَوْقِفِ الْإِمَامِ جِدًّا فَأَتَانَا ابْنُ مِرْبَعٍ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ: إِنِّي رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكُمْ يَقُولُ لَكُمْ: «قِفُوا عَلَى مَشَاعِرِكُمْ فَإِنَّكُمْ عَلَى إِرْثِ من إِرْثِ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ

روایت ہے حضرت عمرو بن عبداﷲ ابن صفوان سے وہ اپنے ماموں سے راوی جنہیں یزید ابن شیبان کہا جاتا تھا ۱؎ فرماتے ہیں ہم عرفات میں اپنی منزل میں تھے عمرو نے فرمایا کہ وہ جگہ امام کی جگہ سے بہت دور تھی ۲؎ تو ہمارے پاس ابن مربع انصاری آئے بولے کہ میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کا تمہاری طرف پیغامبر ہوں۳؎حضور تم سے فرماتے ہیں کہ تم لوگ اپنی اپنی جگہ ٹھہرے رہو ۴؎ تم لوگ اپنے والد ابراہیم علیہ السلام کی وراثت پر ہو ۵؎ (ترمذی،ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ)

۱؎  حضرت عمرو ثقہ تابعین میں سے ہیں،جمحی ہیں،قرشی ہیں اور یزید ابن شیبان ازدی صحابی ہیں۔

۲؎  اسلام سے پہلے کفار مکہ نے عرفات کے حصے بخرے کرلیے تھے کہ ہر قبیلہ کے قیام کا الگ ٹھکانہ تھا۔چنانچہ یزید ابن شیبان کے قبیلہ کا بھی ایک مقام تھا،قدیم رسم کے مطابق یہ حضرت اپنی خاندانی قیام گاہ میں ٹھہرے مگر آج دل کی کیفیت کچھ اور تھی،اپنے کو حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی قیام گاہ سے بہت دور دیکھ کر پیشیمان ہوئے اس لیے اگلا واقعہ پیش آیا۔

۳؎ ان کا نام زید یا یزید ابن مربع ہے۔علماء فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے دور افتادگان حجاج کی دلی کیفیت خود معلوم فرمائی اس لیے یہ پیغام بھیجا ان حضرات نے چاہا تھا کہ اس جگہ سے منتقل ہوکر حضور کے قدموں میں جا پڑیں اس لیے یہ پیغام آیا سرکار ہم پر ہمارے ماں باپ سے زیادہ مہربان ہیں۔

۴؎ مشاعر مشعر کی جمع ہے بمعنی عبادت گاہ یعنی زمانہ جاہلیت سے جو تمہارے مقام مقرر ہوچکے ہیں اور اب تم آکر ٹھہر گئے ہو وہاں سے منتقل نہ ہو کہ اس میں سخت دشواری ہوگی سارا عرفات قیام گاہ ہے،مجھ سے دوری تمہارے لیے مضر نہیں۔(لمعات)

۵؎  سبحان اﷲ! کیسا پاکیزہ فرمان ہے یعنی تم اپنے جاہل باپ دادوں کی پیروی میں یہاں نہ ٹھہرو بلکہ سنت ابراہیمی سمجھ کر یہاں قیام کرو  اور میرے پاس آنے کی کوشش نہ کرو،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَمَا جَعَلَ عَلَیۡکُمْ فِی الدِّیۡنِ مِنْ حَرَجٍ  مِلَّۃَ اَبِیۡکُمْ اِبْرٰہِیۡمَ

2596 -[5]

وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كُلُّ عَرَفَةَ مَوْقِفٌ وَكُلُّ مِنًى مَنْحَرٌ وَكُلُّ الْمُزْدَلِفَةِ مَوْقِفٌ وَكُلُّ فِجَاجِ مَكَّةَ طَرِيقٌ وَمَنْحَرٌ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ

روایت ہے حضرت جابر سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا عرفات جائے وقوف ہے اور سارا منٰی قربانی گاہ ہے اور سارا مزدلفہ قیام گا ہے اور مکہ معظمہ کی ہر سڑک راستہ اور قربانی گاہ ہے ۱؎ (ابوداؤد،دارمی)

۱؎  فجاج فج کی جمع ہے بمعنی چوڑا راستہ یعنی اگرچہ ہم براستہ کداء مکہ معظمہ پہنچے لیکن مکہ معظمہ تک پہنچنے والے تمام راستے ٹھیک ہیں جس راستہ سے یہاں آؤ درست ہے اور سارا مکہ معظمہ قربانی گاہ ہے کہ حج کی قربانی حرم میں چاہیے جہاں بھی ہوجائے حجاج اپنی آسانی کے لیے  منیٰ میں قربانی کرلیتے ہیں۔علماء فرماتے ہیں کہ   اگرچہ حج و عمرہ کی قربانی سارے حرم میں ہوسکتی ہے لیکن  حج کی قربانی منٰی میں افضل ہے اور عمرہ کی قربانی مکہ معظمہ میں خصوصًا مروہ پہاڑ کے پاس بہتر۔(مرقات)

2597 -[6]

وَعَن خالدِ بنَ هَوْذَةَ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ يَوْمَ عَرَفَةَ عَلَى بَعِيرٍ قَائِمًا فِي الركابين. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت خالد ابن ہوذہ سے فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھا کہ آپ عرفات میں اونٹ پر دو رکابوں کے درمیان کھڑے ہوئے لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے ۱؎ (ابوداؤد)

 



Total Pages: 445

Go To
$footer_html