Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

۱؎ ھھنا سے منٰی کی اس جگہ کی طرف اشارہ ہے جہاں حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے قربانی کی یعنی صرف یہاں ہی قربانی کرنا واجب نہیں بلکہ سارا ہی منٰے قربانی گاہ ہے جہاں بھی کرلو گے ہوجائے گی حتی کہ اپنے خیموں میں بھی قربانی کرسکتے ہو،اب حکومت نے منی میں قربانی کے لیے الگ جگہ خاص کردی تاکہ خیموں اور راستوں میں خون نہ بہے اور بیماری نہ پھیلے،یہ حکم انتظامی ہے نہ کہ شرعی اور سرکار کا یہ فرمان اباحت کے لیے ہے نہ کہ وجوب کے لیے،حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے مسجد حنیف کے پاس قربانی کی تھی وہاں اب مسجد بنی ہوئی ہے جسے مسجد نحر کہتے ہیں۔

۲؎ یعنی ہم نے جبل رحمت کے پاس وہاں کی چٹانوں سے متصل اپنا خیمہ ڈالا اور قیام فرمایا،عرفات میں قیام کی جگہ صرف یہی نہیں بلکہ بطن عرفہ کے سواء سارا میدان قیام گاہ ہے۔

۳؎ یعنی ہم نے مزدلفہ میں مشعر الحرام کے پاس قیام کیا مگر وادی محسّر کے سواء سارا مزدلفہ قیام گاہ ہے۔مزدلفہ زَلْفٌ سے بنا باب افتعال کی ت دال بن گئی اس کے معنی ہیں قرب کی جگہ،چونکہ حاجی یہاں پہنچ کر اﷲ سے قریب ہوتا ہے،نیز یہ جگہ منٰی سے قریب ہے اس لیے مزدلفہ کہا جاتا ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ اِذَا الْجَنَّۃُ اُزْلِفَتْ"۔علماء فرماتے ہیں کہ ان تینوں مقامات میں جس قدر حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی قیام گاہ سے قرب ہو اتنا ہی اچھا۔

2594 -[3]

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرَ مِنْ أَنْ يُعْتِقَ اللَّهُ فِيهِ عَبْدًا مِنَ النَّارِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ وَإِنَّهُ لَيَدْنُو ثُمَّ يُبَاهِي بِهِمُ الْمَلَائِكَةَ فَيَقُولُ: مَا أَرَادَ هَؤُلَاءِ ". رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا عرفہ سے بڑھ کر ایسا کوئی دن نہیں جس میں اﷲ اپنے بہت سے بندوں کو آگ سے آزاد کردے ۱؎ رب تعالٰی اس دن بہت ہی قریب ہوتا ہے پھر ان فرشتوں پر فخر فرماتا ہے کہتا ہے کہ یہ لوگ کیا چاہتے ہیں ۲؎(مسلم)

۱؎ یعنی سال بھر کے تمام دنوں سے زیادہ نویں ذی الحجہ کو گنہگار بخشے جاتے ہیں۔عبد کے عموم سے معلوم ہوتا ہے کہ اﷲ تعالٰی اس دن حاجیوں کے علاوہ اور بندوں کو بھی بخشتا ہے اسی لیے غیر حجاج کے لیے اس دن روزہ سنت ہے۔

۲؎ یعنی اس دن اﷲ کی رحمت بندوں سے قریب تر ہوتی ہے اور رب تعالٰی فرشتوں پر حاجیوں کی افضلیت،ان کی شرافت و کرامت ظاہر فرماتا ہے کہ اے فرشتوں تم نے کہا تھا کہ انسان خونریزی و فساد کرے گا تم نے اس پر غور نہ کیا کہ انسان اپنا گھر بار وطن چھوڑ کر پردیسی بن کر،پریشان بال،کفن پہنے  لبیك لبیك کی صدائیں لگاتا عرفات کے میدان میں بھی آئے گا،بتاؤ ان حاجیوں نے سواء میری رضاء کے اور کیا چاہا ہے،صرف مجھے ر اضی کرنے کے لیے یہ لوگ ان میدانوں میں مارے مارے پھررہے ہیں یہ شرف نہ ملائکہ کو حاصل ہے نہ جنات کو صرف ان ہی کا حصہ ہے۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

2595 -[4]

عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ عَنْ خَالٍ لَهُ يُقَالُ لَهُ يَزِيدُ بْنُ شَيْبَانَ قَالَ: كُنَّا فِي مَوْقِفٍ لَنَا بِعَرَفَةَ يُبَاعِدُهُ عَمْرٌو مِنْ مَوْقِفِ الْإِمَامِ جِدًّا فَأَتَانَا ابْنُ مِرْبَعٍ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ: إِنِّي رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكُمْ يَقُولُ لَكُمْ: «قِفُوا عَلَى مَشَاعِرِكُمْ فَإِنَّكُمْ عَلَى إِرْثِ من إِرْثِ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ

روایت ہے حضرت عمرو بن عبداﷲ ابن صفوان سے وہ اپنے ماموں سے راوی جنہیں یزید ابن شیبان کہا جاتا تھا ۱؎ فرماتے ہیں ہم عرفات میں اپنی منزل میں تھے عمرو نے فرمایا کہ وہ جگہ امام کی جگہ سے بہت دور تھی ۲؎ تو ہمارے پاس ابن مربع انصاری آئے بولے کہ میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کا تمہاری طرف پیغامبر ہوں۳؎حضور تم سے فرماتے ہیں کہ تم لوگ اپنی اپنی جگہ ٹھہرے رہو ۴؎ تم لوگ اپنے والد ابراہیم علیہ السلام کی وراثت پر ہو ۵؎ (ترمذی،ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ)

 



Total Pages: 445

Go To