Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

باب الوقوف العرفۃ

باب عرفہ میں ٹھہرنا  ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  عرفہ عرفٌ سے بنا بمعنی پہچاننا،نویں تاریخ کو بھی عرفہ کہتے ہیں اور عرفات میدان کو بھی مگر لفظ عرفات صرف میدان کو کہا جاتا ہے نہ کہ اس دن کو،رب فرماتاہے:"فَاِذَاۤ اَفَضْتُمۡ مِّنْ عَرَفٰتٍ"۔چونکہ اس جگہ کا ہر حصہ عرفہ ہے اس لیے اسے جمع عرفات کہا جاتا ہے۔اس جگہ کو چند وجہ سے عرفہ کہتے ہیں:(۱)اسی جگہ حضرت آدم و حوا کی ملاقات تین سو برس کے فراق کے بعد ہوئی اور ایک دوسرے کو پہچاننا(۲)اسی جگہ جبرئیل امین نے جناب خلیل کو ارکان حج سکھائے اور آپ نے فرمایا عَرَفْتُ میں نے پہچان لیا(۳)یہ جگہ تمام دنیا میں جانی پہچانی ہے کہ یہاں حج ہوتا ہے یعنی مشہور ہے(۴)رب تعالٰی اس دن حاجیوں کو مغفرت کا تحفہ دیتا ہے۔عرف بمعنی عطیہ،رب فرماتاہے:" عَرَّفَھَالَھُمْ(۵)تمام حجاج وہاں پہنچ کر اپنے گناہوں کا اقرار وا عتراف کرتے ہیں۔خیال رہے کہ قیام عرفہ حج کا رکن اعلٰی ہے جسے یہ مل گیا اسے حج مل گیا۔

2592 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَن محمدِ بن أبي بكرٍ الثَقَفيُّ أَنَّهُ سَأَلَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَهُمَا غَادِيَانِ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ: كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ فِي هَذَا الْيَوْمِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: كَانَ يُهِلُّ مِنَّا الْمُهِلُّ فَلَا يُنْكَرُ عَلَيْهِ وَيُكَبِّرُ الْمُكَبِّرُ مِنَّا فَلَا يُنكَرُ عَلَيْهِ

روایت ہے حضرت محمد ابن ابی بکر ثقفی سے کہ انہوں نے منٰی سے عرفہ جاتے ہوئے حضرت انس ابن مالک سے پوچھا کہ آپ حضرات اس دن میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے ہمراہ کیا کہا کرتے تھے ۱؎ تو وہ بولے کہ ہم میں تلبیہ کہنے والا لبیك کہتا تھا اور اس پر اعتراض نہ ہوتا تھا اور ہم میں سے تکبیر والا اﷲ اکبر کہتا تھا اس پر اعتراض نہ ہوتا تھا ۲؎(مسلم،بخاری)

۱؎ شاید سائل کا خیال تھا کہ حجاج کو عرفات پہنچ کر کوئی خاص عبادت کرنا ہوتی ہوگی اس لیے یہ سوال کیا حالانکہ کچھ پڑھنے کا نام حج نہیں ہے بلکہ حاجی کا اس دن میں اس جگہ پہنچ جانے کا نام حج ہے۔

۲؎ عرفہ میں حاجیوں کا تلبیہ کہنا سنت ہے اور تکبیر کہنا جائز،تلبیہ دسویں بقرعید جمرہ عقبی کی رمی پر خاتم ہوتا ہے۔ خیال رہے کہ نماز پنج گانہ کے بعدتکبیرتشریق کہنا اور جگہ واجب ہے عرفات میں نہیں۔(مرقات)لہذا صحابہ کرام کا یہ تکبیرکہنا ذکر اﷲ کی بناء پرتھا،یہ تکبیر تشریق نہ تھی۔

2593 -[2]

وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «نحرتُ هَهُنَا وَمِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ فَانْحَرُوا فِي رِحَالِكُمْ. وَوَقَفْتُ هَهُنَا وعرفةُ كلُّها موقفٌ. ووقفتُ هَهُنَا وجَمْعٌ كلُّها موقفٌ» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت جابر سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ ہم نے یہاں قربانی کرلی ہے مگر سارا منٰی ہی قربانی گاہ ہے لہذا اپنی منزلوں میں قربانی کرسکتے ہو ۱؎  اور ہم نے یہاں قیام فرمایا ہے مگر سارا عرفہ ہی قیام گاہ ہے ۲؎ اور ہم نے یہاں وقوف مزدلفہ کیا ہے مگر سارا مزدلفہ ٹھہرنے کی جگہ ہے ۳؎(مسلم)

 



Total Pages: 445

Go To