Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

۳؎ یعنی عمرہ حج کے مہینوں میں داخل ہوگیا،کفار عرب کا عقیدہ تھا کہ شوال سے محرم تک عمرہ کرنا حرام ہے ماہ صفر سے جائز ہوتا ہے یہ عقیدہ ختم فرمادیا گیا،بعض علماء جو فرماتے ہیں کہ مکہ والے حج کے زمانہ میں عمرہ نہ کریں اس کی وجہ صر ف یہ ہے کہ ان کے عمرہ کرنے سے ہجوم زیادہ ہوجائے گا اور باہر والوں پر طواف و سعی میں دشواری ہوگی،یہ لوگ تو ہمیشہ عمرہ کرسکتے ہیں،باہر کے حجاج کو اس زمانہ میں عمرہ آسانی سے کرنے دیں۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

2559 -[5]

عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فِي نَاسٍ مَعِي قَالَ: أَهْلَلْنَا أَصْحَابَ مُحَمَّد بِالْحَجِّ خَالِصًا وَحْدَهُ قَالَ عَطَاءٌ: قَالَ جَابِرٌ: فَقَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صُبْحَ رَابِعَةٍ مَضَتْ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ فَأَمَرَنَا أَنْ نَحِلَّ قَالَ عَطَاءٌ: قَالَ: «حِلُّوا وَأَصِيبُوا النِّسَاءَ» . قَالَ عَطَاءٌ: وَلَمْ يَعْزِمْ عَلَيْهِمْ وَلَكِنْ أَحَلَّهُنَّ لَهُمْ فَقُلْنَا لَمَّا لَمْ يَكُنْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلَّا خَمْسٌ أَمَرَنَا أَنْ نُفْضِيَ إِلَى نِسَائِنَا فَنَأْتِيَ عرَفَةَ تَقْطُرُ مَذَاكِيرُنَا الْمَنِيَّ. قَالَ: «قَدْ عَلِمْتُمْ أَنِّي أَتْقَاكُمْ لِلَّهِ وَأَصْدَقُكُمْ وَأَبَرُّكُمْ وَلَوْلَا هَدْيِي لَحَلَلْتُ كَمَا تَحِلُّونَ وَلَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَمْ أَسُقِ الْهَدْيَ فَحِلُّوا» فَحَلَلْنَا وَسَمِعْنَا وَأَطَعْنَا قَالَ عَطَاءٌ: قَالَ جَابِرٌ: فَقَدِمَ عَلِيٌّ مِنْ سِعَايَتِهِ فَقَالَ: بِمَ أَهْلَلْتَ؟ قَالَ بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَأَهْدِ وَامْكُثْ حَرَامًا» قَالَ: وَأَهْدَى لَهُ عَلِيٌّ هَدْيًا فَقَالَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ألعامنا هَذَا أم لأبد؟ قَالَ: «لأبد» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت عطاء سے فرماتے ہیں میں نے اپنے ساتھی لوگوں کی جماعت میں حضرت جابر بن عبداﷲ کو سنا فرماتے تھے ۱؎ کہ ہم محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ نے خالص حج کے لیے احرام باندھا ۲؎ عطاء کہتے ہیں کہ حضرت جابر نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم چاربقرعید کی تاریخ کی صبح مکہ معظمہ پہنچے تو ہم کو کھل جانے کا حکم دیا عطا کہتے ہیں کہ فرمایا حلال ہوجاؤ،عورتوں سے صحبت کرو ۳؎عطا کہتے ہیں صحبت ان پر واجب نہ کی لیکن ان کے لیے عورتیں حلال فرمادیں ۴؎ ہم نے سوچا کہ جب ہمارے اور عرفہ کے درمیان صرف پانچ دن باقی رہ گئے تو ہم کو بیویوں کے پاس جانے کی اجازت دے دی تو کیا ہم عرفہ کو اس حال میں جائیں کہ ہمارے ذکر منی ٹپکاتے ہوں ۵؎ راوی کہتے ہیں حضرت جابر اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے تھے گویا میں ان کا ہاتھ ہلتا دیکھ رہا ہوں ۶؎ فرماتے ہیں تو ہم میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے فرمایا تم جانتے ہو کہ میں تم میں سب سے زیادہ اﷲ سے ڈرنے والا سب سے زیادہ سچا اور نیک اعمال ہوں ۷؎  اگر میری ہدی نہ ہوتی تو جیسے تم حلال ہورہے ہو میں بھی حلال ہوجاتا اور جو بات بعد میں کھلی اگر پہلے سے ہم جانتے تو ہدی لاتے ہی نہیں ۸؎ لہذا حلال ہوجاؤ چنانچہ ہم حلال ہوگئے ہم نے آپ کا حکم سنا اور بجا لائے ۹؎ عطاء فرماتے ہیں کہ حضرت جابر نے کہا پھر حضرت علی اپنے دارالعمالہ سے آئے ۱۰؎ حضور انور نے پوچھا کون سا احرام باندھا عرض کیا وہ جو اﷲ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے باندھا حضور نے فر مایا ہدی ذبح کرو اور احرام میں ٹھہرو حضرت علی ہدی لائے تھے ۱۱؎ حضرت سراقہ ابن مالک ابن جعشم نے عرض کیا یارسول اﷲ کیا یہ ہمارے اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے فرمایا ہمیشہ کے لیے ۱۲؎(مسلم)

۱؎  آپ کا نام عطاء ابن ابی رباح ہے،جلیل القدر تابعی ہیں،مکہ معظمہ کے رہنے والے ساتھیوں کی جماعت کا ذکر قوت استدلال کے لیے کیا یعنی میں نے اکیلے یہ حدیث نہ سنی اس کے سننے والے دوسرے لوگ بھی ہیں۔

 



Total Pages: 445

Go To