Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

باب قصۃ حجۃ الوداع

باب وداعی حج کا قصہ ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  وداع واؤ کے فتح یا کسرہ سے بمعنی رخصت ہے،حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے حج اسلام صرف ایک یہ ہی کیا ہے جو    ۱۰ھ؁ میں ہوا، چونکہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے اس حج میں لوگوں کو وداعیہ کلمات فرمائے اور اپنی وفات شریف کی خبر دی اس لیے اسے حجۃ الوداع کہتے ہیں۔حجۃ الوداع کا تفصیلی واقعہ حضرت جابر ہی سے مروی ہے۔امام محمد باقر نے بھی حضرت جابر سے احادیث اور حجۃ الوداع کا واقعہ روایت کیا،حضور انور نے فرمایا تھا کہ اے جابر میرے اہل بیت میں سے ایک شخص تم سے علم لے گا۔(اشعہ)

2555 -[1]

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَثَ بِالْمَدِينَةِ تِسْعَ سِنِينَ لَمْ يَحُجَّ ثُمَّ أَذَّنَ فِي النَّاسِ بالحجِّ فِي الْعَاشِرَةِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجٌّ فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ بَشَرٌ كَثِيرٌ فَخَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّى إِذَا أَتَيْنَا ذَا الْحُلَيْفَةِ فَوَلَدَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ أصنعُ؟ قَالَ: «اغتسِلي واستثقري بِثَوْبٍ وَأَحْرِمِي» فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ ثُمَّ رَكِبَ الْقَصْوَاءَ حَتَّى إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ نَاقَتُهُ عَلَى الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ بِالتَّوْحِيدِ «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ» . قَالَ جَابِرٌ: لَسْنَا نَنْوِي إِلَّا الْحَجَّ لَسْنَا نَعْرِفُ الْعُمْرَةَ حَتَّى إِذَا أَتَيْنَا الْبَيْتَ مَعَهُ اسْتَلَمَ الرُّكْنَ فَطَافَ سَبْعًا فَرَمَلَ ثَلَاثًا وَمَشَى أَرْبَعًا ثُمَّ تَقَدَّمَ إِلَى مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ فَقَرَأَ: (وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبراهيمَ مُصَلَّى)فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَجَعَلَ الْمَقَامَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ وَفِي رِوَايَةٍ: أَنَّهُ قَرَأَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ: (قُلْ هوَ اللَّهُ أَحَدٌ و (قُلْ يَا أيُّها الكافِرونَ)ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الرُّكْنِ فَاسْتَلَمَهُ ثُمَّ خَرَجَ مِنَ الْبَابِ إِلَى الصَّفَا فَلَمَّا دَنَا مِنَ الصَّفَا قَرَأَ: (إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شعائِرِ اللَّهِ)أَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ فَبَدَأَ بِالصَّفَا فَرَقِيَ عَلَيْهِ حَتَّى رَأَى الْبَيْتَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَوَحَّدَ اللَّهَ وَكَبَّرَهُ وَقَالَ: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ أَنْجَزَ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ» . ثُمَّ دَعَا بَيْنَ ذَلِكَ قَالَ مِثْلَ هَذَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ نَزَلَ وَمَشَى إِلَى الْمَرْوَةِ حَتَّى انْصَبَّتْ قَدَمَاهُ فِي بَطْنِ الْوَادِي ثُمَّ سَعَى حَتَّى إِذَا صَعِدْنَا مَشَى حَتَّى أَتَى الْمَرْوَةَ فَفَعَلَ عَلَى الْمَرْوَةِ كَمَا فَعَلَ عَلَى الصَّفَا حَتَّى إِذَا كَانَ آخِرُ طَوَافٍ عَلَى الْمَرْوَةِ نَادَى وَهُوَ عَلَى الْمَرْوَةِ وَالنَّاسُ تَحْتَهُ فَقَالَ: «لَوْ أَنِّي اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَمْ أسق الهَدْيَ وجعلتُها عُمْرةً فمنْ كانَ مِنْكُم لَيْسَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحِلَّ وَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً» . فَقَامَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِأَبَدٍ؟ فَشَبَّكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَابِعَهُ وَاحِدَةً فِي الْأُخْرَى وَقَالَ: «دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ مَرَّتَيْنِ لَا بَلْ لِأَبَدِ أَبَدٍ» . وَقَدِمَ عَلِيٌّ مِنَ الْيَمَنِ بِبُدْنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ: «مَاذَا قُلْتَ حِينَ فَرَضْتَ الْحَجَّ؟» قَالَ: قُلْتُ: اللهُمَّ إِنِّي أُهِلُّ بِمَا أهلَّ بهِ رسولُكَ قَالَ: «فَإِنَّ مَعِي الْهَدْيَ فَلَا تَحِلَّ» . قَالَ: فَكَانَ جَمَاعَةُ الْهَدْيِ الَّذِي قَدِمَ بِهِ عَلِيٌّ مِنَ الْيَمَنِ وَالَّذِي أَتَى بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِائَةً قَالَ: فَحَلَّ النَّاسُ كُلُّهُمْ وَقَصَّرُوا إِلَّا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم وَمن كَانَ مَعَه من هدي فَمَا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ تَوَجَّهُوا إِلَى مِنًى فَأَهَلُّوا بِالْحَجِّ وَرَكِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِهَا الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ وَالْفَجْرَ ثُمَّ مَكَثَ قَلِيلًا حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ وَأَمَرَ بِقُبَّةٍ مِنْ شَعَرٍ تُضْرَبُ لَهُ بِنَمِرَةَ فَسَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تَشُكُّ قُرَيْشٌ إِلَّا أَنَّهُ وَاقِفٌ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ كَمَا كَانَتْ قُرَيْشٌ تَصْنَعُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَأجَاز رَسُول الله صلى حَتَّى أَتَى عَرَفَةَ فَوَجَدَ الْقُبَّةَ قَدْ ضُرِبَتْ لَهُ بِنَمِرَةَ فَنَزَلَ بِهَا حَتَّى إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ أَمَرَ بِالْقَصْوَاءِ فَرُحِلَتْ لَهُ فَأَتَى بَطْنَ الْوَادِي فَخَطَبَ النَّاسَ وَقَالَ: «إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ حَرَامٌ عَلَيْكُمْ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ تَحْتَ قَدَمَيَّ مَوْضُوعٌ وَدِمَاءُ الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعَةٌ وَإِنَّ أَوَّلَ دَمٍ أَضَعُ مِنْ دِمَائِنَا دَمُ ابْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ وَكَانَ مُسْتَرْضَعًا فِي بَنِي سَعْدٍ فَقَتَلَهُ هُذَيْلٌ وَرِبَا الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ وَأَوَّلُ رِبًا أَضَعُ مِنْ رِبَانَا رِبَا عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَإِنَّهُ مَوْضُوعٌ كُلُّهُ فَاتَّقُوا اللَّهَ فِي النِّسَاءِ فَإِنَّكُمْ أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانِ اللَّهِ وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِكَلِمَةِ اللَّهِ وَلَكُمْ عَلَيْهِنَّ أَنْ لَا يُوطِئْنَ فُرُشَكُمْ أَحَدًا تَكْرَهُونَهُ فَإِنْ فَعَلْنَ ذَلِكَ فَاضْرِبُوهُنَّ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ وَلَهُنَّ عَلَيْكُمْ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَقَدْ تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ إِنِ اعْتَصَمْتُمْ بِهِ كِتَابَ اللَّهِ وَأَنْتُمْ تُسْأَلُونَ عَنِّي فَمَا أَنْتُمْ قَائِلُونَ؟» قَالُوا: نَشْهَدُ أَنَّكَ قَدْ بَلَّغْتَ وَأَدَّيْتَ وَنَصَحْتَ. فَقَالَ بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ يَرْفَعُهَا إِلَى السَّمَاءِ وَيَنْكُتُهَا إِلَى النَّاسِ: «اللَّهُمَّ اشْهَدْ اللَّهُمَّ اشْهَدْ» ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَذَّنَ بِلَالٌ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا ثُمَّ رَكِبَ حَتَّى أَتَى الْمَوْقِفَ فَجَعَلَ بَطْنَ نَاقَتِهِ الْقَصْوَاءِ إِلَى الصَّخَرَاتِ وَجَعَلَ حَبْلَ الْمُشَاةِ بَيْنَ يَدَيْهِ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَلَمْ يَزَلْ وَاقِفًا حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَذَهَبَتِ الصُّفْرَةُ قَلِيلًا حَتَّى غَابَ الْقُرْصُ وَأَرْدَفَ أُسَامَةَ وَدَفَعَ حَتَّى أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ فَصَلَّى بِهَا الْمَغْرِبَ وَالْعَشَاءَ بِأَذَانٍ وَاحِدٍ وَإِقَامَتَيْنِ وَلَمْ يُسَبِّحْ بَيْنَهُمَا شَيْئًا ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى طَلَعَ الْفَجْرُ فَصَلَّى الْفَجْرَ حِينَ تَبَيَّنَ لَهُ الصُّبْحُ بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ ثُمَّ رَكِبَ الْقَصْوَاءَ حَتَّى أَتَى الْمَشْعَرَ الْحَرَامَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَدَعَاهُ وَكَبَّرَهُ وَهَلَّلَهُ وَوَحَّدَهُ فَلَمْ يَزَلْ وَاقِفًا حَتَّى أَسْفَرَ جِدًّا فَدَفَعَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَأَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ حَتَّى أَتَى بَطْنَ مُحَسِّرٍ فَحَرَّكَ قَلِيلًا ثُمَّ سَلَكَ الطَّرِيقَ الْوُسْطَى الَّتِي

تَخْرُجُ عَلَى الْجَمْرَةِ الْكُبْرَى حَتَّى أَتَى الْجَمْرَةَ الَّتِي عِنْدَ الشَّجَرَةِ فَرَمَاهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ مِنْهَا مِثْلَ حَصَى الْخَذْفِ رَمَى مِنْ بَطْنِ الْوَادِي ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمَنْحَرِ فَنَحَرَ ثَلَاثًا وَسِتِّينَ بَدَنَةً بِيَدِهِ ثُمَّ أَعْطَى عَلِيًّا فَنَحَرَ مَا غَبَرَ وَأَشْرَكَهُ فِي هَدْيِهِ ثُمَّ أَمَرَ مِنْ كُلِّ بَدَنَةٍ بِبَضْعَةٍ فَجُعِلَتْ فِي قِدْرٍ فَطُبِخَتْ فَأَكَلَا مِنْ لَحْمِهَا وَشَرِبَا مِنْ مَرَقِهَا ثُمَّ رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَفَاضَ إِلَى الْبَيْتِ فَصَلَّى بِمَكَّةَ الظُّهْرَ فَأَتَى عَلَى بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَسْقُونَ عَلَى زَمْزَمَ فَقَالَ: «انْزِعُوا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَلَوْلَا أَنْ يَغْلِبَكُمُ النَّاسُ عَلَى سِقَايَتِكُمْ لَنَزَعْتُ مَعَكُمْ» . فَنَاوَلُوهُ دَلْوًا فَشَرِبَ مِنْهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

روایت ہے حضرت جابر ابن عبداﷲ سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نو برس مدینہ پاک میں مقیم رہے کہ حج نہ کیا ۱؎ پھر دسویں سال لوگوں میں حج کا اعلان کیا گیا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم حج کو تشریف لے جانے والے ہیں چنانچہ بہت ہی لوگ مدینہ پاک میں آگئے ۲؎ ہم آپ کے ہمراہ نکلے ۳؎ حتی کہ جب ذوالحلیفہ میں پہنچے تو حضرت اسماء بنت عمیس کے ہاں محمد ابن ابوبکر صدیق پیدا ہوئے۴؎ ان بی بی نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں کہلا بھیجا کہ اب میں کیا کروں ۵؎ فرمایا نہالو اور کوئی کپڑا باندھ لو اور احرام باندھ لو ۶؎ پھر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے مسجد میں نماز ادا کی پھر قصواء اونٹنی پر سوار ہوئے ۷؎ حتی کہ جب اونٹنی آپ کو لے کر میدان میں سیدھی کھڑی ہوئی تو حضور نے کلمہ توحید بلند آواز سے پکارا ۸؎ حاضر ہوں الٰہی میں حاضر ہوں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں میں حاضر ہوں ۹؎ بے شک تعریف نعمت ملک تیر ے ہیں تیرا کوئی شریک نہیں حضرت جابر کہتے ہیں کہ ہم صرف حج ہی کی نیت سے تھے عمرہ کوجانتے بھی نہ تھے۱۰؎ حتی کہ ہم جب کعبہ شریف میں حضور انور کے ساتھ پہنچے ۱۱؎ تو حضور نے رکن کو بوسہ دیا پھر سات پھیرے طواف کیا جس میں تین چکروں میں رمل فرمایا اور چار میں معمولی چال چلے۱۲؎ پھر مقام ابراہیم پرتشریف لائے تو یہ آیت تلاوت کی کہ مقام ابراہیم کو جائے نماز بناؤ پھر دو رکعتیں اس طرح پڑھیں کہ مقام کو اپنے اور بیت اﷲ کے درمیان کرلیا ۱۳؎ ایک اور روایت میں ہے کہ آپ نے ان دونوں ر کعتوں میں قل ھو اﷲ احد اور قل یا ایہا الکافرون پڑھیں۱۴؎ پھر رکن اسود کی طرف لوٹے اسے چوما پھر دروازے سے صفا پہاڑ کی طرف تشریف لے گئے جب صفا سے قریب ہوئے تو یہ آیت تلاوت کی کہ صفا و مروہ اﷲ کی دینی نشانیوں میں سے ہیں ہم اس سے ابتداء کریں گے جس سے رب نے ابتداء کی چنانچہ آپ نے صفا سے سعی شروع کی ۱۵؎ اس پر چڑھے حتی کہ کعبہ معظمہ کو دیکھ لیا تو کعبہ کو منہ کیا اﷲ کی توحید و تکبیر بیان کی ۱۶؎ اور فرمایا اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اس کا کوئی شریک نہیں اسی کا ملک ہے اسی کی تعریف ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے ۱۷؎ اﷲ اکیلے کے سوا کوئی معبود نہیں جس نے اپنا وعدہ پورا کردیا اپنے بندے کی مدد کی اس اکیلے نے احزاب کو بھگایا۱۸؎ پھر ان ذکروں کے درمیان دعا مانگی ۱۹؎ تین بار یہ فرمایا ۲۰؎ پھر اترے پھر مروہ کی طرف چلے حتی کہ بطن وادی میں آپ کے قدم شریف برابر سیدھے ہوگئے ۲۱؎ پھر دوڑے حتی کہ جب آپ کے قدم چڑھنے لگے تو معمولی چال چلے ۲۲؎ حتی کہ مروہ پہنچے پھر مروہ پر وہ ہی کیا جیسا صفا پر کیا تھا ۲۳؎ حتی کہ جب مروہ پر آخری چکر ہوا تو آپ نے آواز دی حالانکہ آپ مروہ پر تھے اور لوگ آپ سے نیچے تو فرمایا اگر ہم اس کام کا پہلے سے خیال کرتے جس کا بعد میں خیال آیا تو ہم ہدی نہ لاتے اور اسے عمرہ قرار دیتے ۲۴؎ لہذا تم میں سے جس کے ساتھ ہدی نہ ہو وہ احرام کھول دے اور اسے عمرہ بنالے ۲۵؎ تب حضرت سراقہ ابن مالک بن جعشم کھڑے ہو کر بولے یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کیا یہ حکم ہمارے اس ہی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے ۲۶؎ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل فرمائیں اور دوبارہ فرمایا کہ عمرہ حج میں داخل ہوگیا یہ حکم ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہے ۲۷؎ جناب علی یمن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے ہدی کے اونٹ لے کر آئے ۲۸؎ تو ان سے حضور نے پوچھا کہ جب تم نے حج کی نیت کی تو کیا کہا تھا عرض کیا میں نے کہا تھا الٰہی میں اس کا احرام باندھتا ہوں جس کا احرام تیرے رسول نے باندھا ۲۹؎ فرمایا میرے ساتھ تو ہدی ہے لہذا تم حلال نہ ہونا۳۰؎ راوی فرماتے ہیں کہ مجموعہ ان ہدیوں کا جو جناب علی یمن سے لائے اور جو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم لائے کل سو تھا ۳۱؎ فرماتے ہیں پھر تمام لوگ حلال ہوگئے اور بال کٹوالیے ۳۲؎ سوائے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے اور ان حضرات کے جن کے ساتھ ہدی جانور تھا ۳۳؎ پھر جب آٹھویں بقرعید ہوئی تو لوگوں نے منی کا رخ کیا تب حج کا احرام باندھا۳۴؎نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سوار ہوئے تو منی میں ظہر،عصر، مغرب،عشاء اور فجر پڑھی ۳۵؎پھر تھوڑا ٹھہرے حتی کہ سورج نکل آئے اور حضور نے حکم دیا تھا تو نمرہ میں حضور کے لیے اونی خیمہ لگادیا گیا تھا۳۶؎ چنانچہ رسول اﷲ چلتے رہے قریش کو اس میں شک و تردد ہی نہ تھا کہ آپ مشعر حرام کے پاس قیام کریں گے ٹھہر جائیں گے ۳۷؎ جیسے اسلام سے پہلے قریش کر تے تھے ۳۸؎ مگر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم وہاں سے آگے بڑھ گئے حتی کہ عرفہ پہنچ گئے تو آپ نے مقام نمرہ میں خیمہ لگا ہوا پایا وہاں ہی اتر پڑے ۳۹؎ حتی کہ سورج ڈھل گیا تو اونٹنی قصواء کا حکم دیا اسے کجاوا کس دیا گیا آپ بطن وادی میں تشریف لائے ۴۰ ؎ لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا کہ تمہارے خون تمہارے آپس کے مال تم پر یوں ہی حرام ہیں جیسے تمہارے اس دن کی اس مہینہ اور اس شہر میں حرمت ۴۱ ؎ خبردار رہو زمانہ جاہلیت کی تمام رسمیں میرے قدم کے نیچے روند دی گئیں ۴۲؎ اور جاہلیت کے زمانہ کے خون ختم کردیئے گئے ۴۳؎ میں اپنے خونوں میں سے پہلا خون ختم کرتا ہوں وہ ابن ربیعہ ابن حارثہ کا خون ہے۴۴؎ یہ بنی سعد میں شیر خوار تھے تو انہیں قوم ہذیل نے قتل کردیا تھا۴۵؎ اور جاہلیت کے زمانہ کے سود ختم ہیں میں اپنے سودوں میں سے پہلا سود ختم کرتاہوں وہ عباس ابن عبدالمطلب کا سود ہے وہ سارا ہی ختم ۴۶؎ عورتوں کے معاملہ میں اﷲ سے ڈرو کہ تم نے انہیں اﷲ تعالٰی کی امان میں لے لیا ہے اور کلمہ الہیہ سے ان کی شرمگاہوں کو حلال کیا ہے۴۷؎ تمہارے ان پر یہ حقوق ہیں کہ وہ تمہارے بستروں کو ان سے پامال نہ کرائیں جنہیں تم ناپسند کرتے ہو ۴۸؎ پھر اگر وہ عورتیں ایسا کریں تو تم انہیں غیر مہلک مار مارو ۴۹؎ اور عورتوں کی تم پر بھلائی سے ان کی روزی اور بھلائی سے ان کا کپڑا ہے ۵۰؎ میں تم میں وہ چیز چھوڑتا ہوں کہ اس کے ہوتے تم کبھی گمراہ نہ ہو گے جب تک تم اسے تھامے رہے یعنی قرآن کریم ۵۱؎ اور تم سے میرے متعلق پوچھا جائے گا تو تم کیا کہو گے،سب بولے ہم گواہی دیں گے کہ آپ نے تبلیغ فرمادی اور امانت ادا کردی اور خیر خواہی فرمائی۵۲؎ تو آپ نے اپنے کلمہ کی انگلی آسمان کی طرف اٹھائی اور لوگوں کی طرف جھکائی فرمایا خدایا گواہ ہوجاؤ خدایا گواہ ہوجاؤ (تین بار)۵۳؎ پھر حضرت بلال نے اذان دی پھر تکبیر کہی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے نماز ظہر پڑھی پھر تکبیر کہی تو عصر پڑھ لی ان دو نمازوں کے درمیان کچھ نہ پڑھا ۵۴؎ پھر سوار ہوئے حتی کہ عرفات کے جائے قیام پرتشریف لائے تو اپنی قصواء کا پیٹ بڑے پتھروں کی طرف کردیا اور حبل مشاۃ کو اپنے سامنے لیا اور قبلہ کو منہ کیا ۵۵؎ پھر وہاں اتنا ٹھہرے رہے کہ سورج ڈوب گیا اور کچھ زردی غائب ہوگئی تا آنکہ سورج کی ٹکیہ پوری چھپ گئی۵۶؎ اور حضرت اسامہ کو ردیف بنایا اور روانہ ہوگئے حتی کہ مزدلفہ پہنچ گئے ۵۷؎ پھر وہاں ایک اذان اور دو تکبیروں سے نماز مغرب و عشاء پڑھی درمیان میں نوافل کچھ نہ پڑھے ۵۸؎ پھر کچھ لیٹ گئے ۵۹؎ حتی کہ فجر طلوع ہوگئی تو سویرا چمکتے ہی اذان و تکبیر کے ساتھ فجر پڑھی ۶۰؎ پھر قصواء پر سوار ہولیے حتی کہ مشعر پہاڑ کے پاس تشریف لائے پھر قبلہ کو منہ کیا اور رب سے دعا مانگی تکبیر وتہلیل و توحید کہتے رہے وہاں ٹھہرے رہے حتی کہ خوب اجیالا ہوگیا ۶۱؎ تو سورج نکلنے سے پہلے روانہ ہوگئے اور حضرت فضل ابن عباس کو اپنے پیچھے سوار کرلیا ۶۲؎ حتی کہ بطن وادی میں آئے تو اپنی اونٹنی کو کچھ حرکت دی۶۳ ؎ پھر درمیانی راستے پر پڑ گئے جو بڑے جمرے پر نکلتا ہے ۶۴؎ حتی کہ اس جمرہ پر پہنچے جو درخت کے پاس ہے ۶۵؎ تو اسے سات کنکر مارے جن میں سے ہر کنکر کے ساتھ تکبیر کہتے تھے جو کنکرٹھیکری جیسے تھے ۶۶؎ بطن وادی سے رمی کی ۶۷؎ پھر قربانی گاہ کی طرف لوٹے تو تریسٹھ اونٹ اپنے ہاتھ سے قربانی کئے پھر حضرت علی کو مرحمت فرمائے تو بقیہ انہوں نے قربانی کئے ۶۸؎ اور حضور نے انہیں اپنی ہدی میں شریک کر لیا ۶۹؎ پھر حکم دیا تو ہر اونٹ کی ایک بوٹی لے کر ہانڈی میں ڈالی اور پکائی گئی تو ان دونوں صاحبوں نے وہ گوشت کھایا اس کا شوربا پیا ۷۰؎ پھر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سوار ہوئے اور بیت اﷲ شریف چلے تو نماز ظہر مکہ میں پڑھی ۷۱؎ پھر بنی عبدالمطلب کے پاس تشریف لائے جو زمزم پر پانی کھینچ رہے تھے فرمایا اے نبی عبدالمطلب کھینچے جاؤ ۷۲؎ اگر یہ خطرہ نہ ہوتا کہ سب لوگ تمہارے پاس کھینچنے میں تم پر غلبہ کرلیں گے تو میں تمہارے ساتھ پانی کھینچتا۷۳؎ لوگوں نے حضور کو ڈول پیش کیا آپ نے اس سے پیا ۷۴؎(مسلم)۷۵؎

 



Total Pages: 445

Go To