Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

۱؎ عمارہ تابعی ہیں ان کے والد خزیمہ ابن ثابت مشہور صحابی ہیں،انہی کی گواہی حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے دو گواہیوں کے برابر قرار دی تھی،آپ جنگ صفین میں حضر ت علی کے ساتھ تھے،اسی جنگ میں شہید ہوئے۔(مرقات)

۲؎ یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم تلبیہ کے الفاظ ادا فرما کر پھر یہ دعائیں آہستہ مانگتے تھے اسی لیے علماء فرماتےہیں کہ حاجی تلبیہ کہہ کر آہستہ آواز سے درود شریف پڑھے،پھر یہ دعائیں مانگے اور ہر بار تین دفعہ تلبیہ کہے مسلسل کہے جن میں دنیاوی بات کا فاصلہ نہ ہو۔ تلبیہ کہنے والے کو کوئی سلام بھی نہ کرے۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

2553 -[14]

عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَرَادَ الْحَجَّ أَذَّنَ فِي النَّاسِ فَاجْتَمَعُوا فَلَمَّا أَتَى الْبَيْدَاءَ أَحْرَمَ. رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت جابر سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے جب حج کا ارادہ فرمایا تو لوگوں میں اعلان فرمایا ۱؎ پھر لوگ جمع ہوگئے پھر جب میدان میں پہنچے تو احرام باندھا ۲؎(بخاری)

۱؎ سارے عرب میں اپنے حج کا اعلان فرمایا کہ ہم فلاں تاریخ کو مدینہ منورہ سے روانہ ہورہے ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ حج وہ عبادت ہے جس کا اعلان کرنا افضل ہے تاکہ دوسروں کو بھی شوق ہو اور لوگ آکر اس سے دعا وغیرہ کرالیں،حرمین شریفین کو تحفے صدقے،دانہ اس کی معرفت بھیج دیں آج کل جو رواج ہے کہ حاجی کو جلوس کی شکل میں اسٹیشن پہنچانے جاتے ہیں،گلے میں ہار پھول ڈالتے ہیں ان تمام کاموں کا ماخذ یہ حدیث ہے کہ یہ سب اعلان کی صورتیں ہیں۔

۲؎  یوں تو بیداء ہر میدان کو کہتے ہیں مگر یہاں ذوالحلیفہ کا خاص میدان ہے۔احرام کے معنی ہیں حضور علیہ السلام نے یہاں اپنے احرام کا اظہار فر مایا ورنہ اصل احرام تو مسجد ذوالحلیفہ میں بندھ چکا تھا جیسا کہ پچھلی روایتوں میں گزر چکا۔

2554 -[15]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ الْمُشْرِكُونَ يَقُولُونَ: لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ فَيَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَيْلَكُمْ قَدْ قَدْ» إِلَّا شَرِيكًا هُوَ لَكَ تَمْلِكُهُ وَمَا مَلَكَ. يَقُولُونَ هَذَا وَهُمْ يَطُوفُونَ بِالْبَيْتِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ مشرکین کہتے تھے حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے تھے تمہیں خرابی ہو بس کرو بس کرو ۱؎ وہ کہتے مگر تیرا ایک شریک ہے کہ تو اس کا اور اس کی ملک کا مالک ہے ۲؎ یہ کہتے جاتے تھے اور بیت اﷲ کا طواف کرتے تھے۔(مسلم)

۱؎ یعنی جب مشرکین لا شریك لك پر پہنچتے تو سرکار فرماتے بس اسی پر رہو آگے شرکیہ لفظ نہ بولو یعنی الا شریکا الخ نہ کہو،مگر وہ کب باز آتے تھے۔

۲؎ ایک شریک سے مراد ایک قسم کا شریک ہے اس سے وہ اپنے سارے بت مراد لیتے تھے،ان بتوں کو وہ خدا کا بندہ بھی مانتے تھے اور اس کا مملوک بھی،پھر خدا کی برابر و مثل بھی،رب تعالٰی فرماتا ہے:" اِذْ نُسَوِّیۡکُمۡ بِرَبِّ الْعٰلَمِیۡنَ"گویا یہ بت ان کے عقیدے میں پارلیمنٹ کے ممبر تھے کہ رب تعالٰی ان کی مدد کے بغیر اکیلا دنیا کا انتظام فرماسکتا ہی نہ تھا اور بعض مشرکین فرشتوں کو رب کی بیٹیاں مانتے تھے لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ جب وہ بتوں کو رب کا بندہ اور مملوک مانتے تھے تو مشرک کیوں تھے،کوئی مسلمان کسی نبی ولی کو الٰہی پارلیمنٹ کا نہ ممبر مانتا ہے نہ رب کی اولاد بلکہ کہتا ہے عبدہ ورسولہ اس کی تحقیق ہماری کتاب"علم القرآن"ملاحظہ فرمائیے۔


 



Total Pages: 445

Go To