Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

۱؎ ایک حاجی یا حاجیوں کی جماعت سے کہ حاج دونوں پر بولا جاتا ہے۔(اشعہ)مراد وہ ہے جو حج کرکے واپس وطن آیا،عمر ہ یا زیارت مدینہ منورہ کرنے والا،غازی طالب علم بھی اسی حکم میں ہیں۔(مرقات)ان سب سے دعا کرانا چاہیے۔

۲؎ یعنی کوشش کرو کہ تم ہی سلام و مصافحہ کی ابتداء کر و،اگر حاجی غریب ہے اور تم امیرتو  اسے سلام و مصافحہ کرنے میں اپنی توہین محسوس نہ کرو۔

۳؎  اور ابھی اس نے کوئی گناہ نہیں کیا ہے کہ گھر میں نہیں پہنچتا ہے،سفر ختم نہیں کیا ہے۔معلوم ہوا کہ حاجی کے آتے جاتے ہوئے راستہ کے گناہ بھی معاف ہیں،گھر میں آکر گناہ شروع ہوں گے،یہ بھی معلوم ہوا کہ مغفور لوگوں سے دعا کرانی چاہیے لہذا  اولیاء اﷲ اور چھوٹے بچوں سے دعا کر انی چاہیے۔

2539 -[35]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ خَرَجَ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا أَوْ غَازِيًا ثُمَّ مَاتَ فِي طَرِيقِهِ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ أَجْرَ الْغَازِي وَالْحَاجِّ والمعتمِرِ».رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو حاجی یا غازی یا عمرہ کرنے والا ہو کر نکلا پھر راستہ میں مر گیا ۱؎  تو  اس کے لیے غازی،حاجی اور عمرہ والے کا ثواب لکھ دیا گیا ۲؎ (بیہقی شعب الایمان)

۱؎ یعنی جاتے ہوئے مرگیا،حج یا عمرہ یا غزوہ نہ کرسکا جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔

۲؎ اس کی تائید اس آیت سے ہے "وَمَنۡ یَّخْرُجْ مِنۡۢ بَیۡتِہٖ مُہَاجِرًا اِلَی اللہِ وَرَسُوۡلِہٖ ثُمَّ یُدْرِکْہُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ اَجْرُہٗ عَلَی اللہِ"جو اپنے گھر سے مہاجر ہو کر نکلا پھر اسے موت آگئی تو اس کا ثواب اﷲ کے ذمہ کرم پر ثابت ہوگیا مگر جو حج فرض ہونے کے بعد برسوں حج کو نہ گیا،پھر بڑھاپے میں گیا اور راہ میں مرگیا تو وہ ضرور اس دیر لگانے کا گنہگار ہے۔یہ حدیث اس کے لیے ہے جو بلا عذر حج میں دیر نہ لگائے کیونکہ حج فورًا  ادا کرناچاہیئے اور ہوسکتا ہے کہ یہ شخص بھی دیر لگانے کا گنہگارہو ٍہٍٍٍٍٍٍ مگر اس کا یہ حج ہوجائے اﷲ تعالٰی کریم ہے۔(مرقات)


 



Total Pages: 445

Go To