Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

۳؎  بیماری سے وہ بیماری مراد ہے جو سفر سے مانع ہو۔تندرستی بعض کے نزدیک شرط وجوب ہے اور بعض کے ہاں شرط ادا،پہلی صورت میں بیمار کی طرف سے حج بدل کرانا لازم ہوگا دوسری صور ت میں نہیں ،ہمارے امام صاحب کاہاں شرط ادا ہے کہ اگر کسی کے پاس مال سخت بیماری یا معذوری کی حالت میں آیا اس پر حج فرض نہیں ۔(مرقات)

۴؎ یعنی اس کی موت یہود و نصاریٰ کی سی ہے کہ وہ لوگ کتاب اﷲ پڑھتے تھے مگر عمل نہ کرتے تھے ایسے ہی یہ قرآن شریف پڑھتا رہا اور حج کی آیت پر بلا عذر عمل نہ کیا لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ بدعملی فسق ہے کفر نہیں،پھر اس کی موت کو یہودیوں عیسائیوں کی موت کیوں فرمایا۔

2536 -[32]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «الْحَاجُّ وَالْعُمَّارُ وَفْدُ اللَّهِ إِنْ دَعَوْهُ أجابَهمْ وإِنِ استَغفروهُ غَفرَ لهمْ» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ آپ نے فرمایا حج و عمرہ کرنے والے اﷲ کی جماعت ہیں ۱؎ اگر یہ خدا سے دعا کریں تو رب ان کی قبول کرلے اور اگراس سے مغفرت مانگیں تو انہیں بخش دے ۲؎(ابن ماجہ)

۱؎ جو اﷲ تعالٰی کے گھر جارہے ہیں رب سے ملنے جارہے ہیں اور سلطان اپنے ملاقاتیوں کی بات مانتا ہے،ان کی سفارش قبول کر تا ہے اس لیے یہ لوگ بھی مقبول الدعا ہیں۔ان شاءاﷲ!

۲؎ مسلمانوں کا طر یقہ ہے کہ حجاج کو پہنچنانے،وداع کرنے اور واپسی پر ان کا استقبال کرنے کے لیے اسٹیشن تک جاتے ہیں ان سے دعا کراتے ہیں۔یہ اس حدیث پر ہی عمل ہے کہ حاجی گھر سے نکلتے ہی مقبول الدعا ہے اور واپس گھر میں داخل ہونے تک مستجاب الدعوات رہتا ہے۔خیال رہے کہ حاجی کو حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے واحد فرمایا اور عمرہ کرنے والوں کو جمع تاکہ  پتہ لگے کہ عمرہ والے سے حج والے کا درجہ زیادہ ہے کہ ایک حاجی عمرہ والوں کی جماعت کے برابر ہے کیوں نہ ہو کہ حج فرض ہے اور عمرہ سنت،یہ ہی مذہب احناف ہے۔

2537 -[33]

وَعَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «وَفْدُ اللَّهِ ثَلَاثَةٌ الْغَازِي وَالْحَاجُّ وَالْمُعْتَمِرُ» . رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَان

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ اﷲ کی جماعتیں تین ہیں  ۱؎ غازی حاجی اور عمرہ کرنے والا ۲؎(نسائی،بیہقی شعب الایمان)

۱؎ یعنی تین شخص یا تین قسم کے لوگ ہیں۔وفد وہ جماعت کہلاتی ہے جو اپنی قوم کی نمائندہ بن کر سلطان کی خدمت میں عرض معروض کرنے پر حاضر ہو۔

۲؎ چونکہ یہ حضرات راہِ الٰہی میں بہت محنت و مشقت اٹھاتے ہیں اور ان کی دعائیں تمام مسلمانوں کو کام آتی ہیں اسی لیے انہیں وفد اﷲ فرمایا گیا یعنی اﷲ تعالٰی کی بارگاہ میں مسلمانوں کی طرف سے نمائندہ بن کر آنے والے لوگ۔

2538 -[34]

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا لَقِيتَ الْحَاجَّ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ وَصَافِحْهُ وَمُرْهُ أَنْ يَسْتَغْفِرَ لَكَ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بَيْتَهُ فَإِنَّهُ مَغْفُورٌ لَهُ» . رَوَاهُ أَحْمد

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے جب تم حاجی سے ملو ۱؎ تو  اسے سلام کرو اور اس سے مصافحہ کرو۲؎ اور اس کے گھر میں داخل ہونے سے پہلے اپنی دعائے مغفرت کے لیے کہو کیونکہ وہ بخشا ہوا ہے ۳؎(احمد)

 



Total Pages: 445

Go To